بائیں بازو کی فکری کنفیوژن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے ریت ڈالی تھی کہ سوال کے جواب میں کہا کرتے تھے، ”حامد، مجھے یہ بتاؤ۔ “ یعنی اگر حامد میر نے ہی بتانا ہے تو اسے ہی پارٹی کا سربراہ ہونا چاہیے تھا اور اسے ہی مستقبل میں جیسے آپ بنے ویسے وزیراعظم مقرر ہو جانا چاہیے تھا۔

تین ماہ سے زیادہ پاکستان میں قیام کرتے ہوئے مجھے یہی لگنے لگا ہے جیسے یہ فیشن ہو گیا ہو۔

کسی موجود یا سابق پارلیمنٹیرین سے حالیہ حکومت کا احوال پوچھو تو ان کی گفتگو کی شروع یا انجام سوال ہوتا ہے۔ کسی دانشور یا سیاسی پارٹی کے کسی زعیم سے پوچھو تو اس کی تان بھی سوال پر ٹوٹتی ہے۔ خاص طور پر بچا کھچا نام نہاد بایاں بازو جو ماضی میں نہ صرف سوال اٹھاتا تھا بلکہ ان سوالوں کے مناسب و موزوں جواب بھی دیا کرتا تھا، اب اس سوا سات انچ کی ”مین سٹریم“ والے بھی پہلے ایران توران کی ہانکتے ہیں۔ معیشت سے متعلق بات کرتے ہوئے فرانس اور اطالیہ میں اٹھنے والی خود رو تحاریک کی مثالیں دیتے ہیں جہاں کی سماجی بنت، بودوباش، طوراطوار، سیاست و معیشت ملک عزیز کے حالات و سانحات سے لگا ہی نہیں کھاتے اور بعد میں کہہ دیتے ہیں کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستابی معاشرے میں سرکشی ندارد کیوں ہے؟

ایک زمانے میں، مجھے تو یکسر معلوم یا یاد نہیں کہ وہ کون سا زمانہ تھا، سوشلزم کو ملک کے اندر مین سٹریم موضوع بتاتے ہیں۔ شاید 1970 کی دہائی کے اوائل کی بات کرتے ہوں جب حنیف رامے کی قرآن بینی اور رومان پسندی نے مل کر اسلامی سوشلزم کا شوشہ چھوڑا تھا جسے ذوالفقار علی بھٹو جیسے پاپولسٹ رہنما نے بطور نعرہ اپنا لیا تھا اور اس اصطلاح سے نہ سوشلسٹ متفق تھے نہ اسلامی سوچ والے۔ اس نوع کے خیالی سوشلزم پر اگر بات ہوتی بھی تھی تو تنقیدی یا تنقیصی ہوا کرتی تھی جبکہ مین سٹریم اس بارے میں خدشات کا ہی شکار رہی تھی۔

مجھے یاد ہے جب ذوالفقار علی بھٹو اپنے طوفانی دوروں کے ضمن میں میرے قصبے علی پور کے کمیٹی گراونڈ میں ایک بڑے جلسے سے اپنے کھلے گریبان کے ساتھ خطاب کر رہے تھے تو ان کی تقریر کے درمیان بوسیدہ لباس اور ”پٹکے“ والا معمر شخص کھڑا ہو گیا تھا جس نے خالص سرائیکی مزارع کی طرح ہاتھ باندھ کے نسبتاً بلند آواز میں کہا تھا، ”سئیں سنڑیے تساں ساریں کوں ہوٹلیں چ ٹکر کھویسو؟ “ جس پر بھٹو نے ادھر ادھر گردن گھما کر پوچھا تھا، ”کیا کہہ رہا ہے یہ؟

”اور جب میرے محترم جناب شبیر احمد بربرا ایڈوکیٹ نے بتایا تھا کہ سر یہ کہہ رہا ہے کہ آپ سب لوگوں کو ہوٹلوں یعنی میس میں کھانا کھلوائیں گے“ تو انہوں نے بوڑھے سے کہا تھا، ”خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا“ مطلب یہ کہ سوشلزم سے متعلق تاثر ہی یہی تھا کہ چین کی طرز پر سبھوں یعنی مردوں عورتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، گھروں میں کھانا نہیں بنے گا، مردوزن مخلوط طور پر میس میں کھانا کھایا کریں گے۔

اگر اسی طرح کے تاثر کو ”مین سٹریم“ میں سوشلزم سے متعلق بات کیے جانا کہتے ہیں تو پھر درست ہوگا بھئی۔ معاملہ سماج میں ہئیتی تبدیلی لائے جانے کا ہے لیکن اس ضمن میں سماج کے وہ حلقے جو بول سکتے ہیں بات کر سکتے ہیں یعنی بالائی اور وسطی طبقات کے لوگ وہ ماسوائے ”Cribbing sessions“ کے اور کچھ نہیں کر رہے۔ مذکور اصطلاح فوج کی اندرونی اصطلاح ہے جس کے تحت کمتر عہدوں کے فوجی افسر مل بیٹھ کے اعلی فوجی حکام کے خلاف شکایات وتحفظات کا دفتر کھول لیتے ہیں۔

گھنٹے دو گھنٹے پر محیط ایسی گفتگو کے بعد حکام کے خلاف ان کی طیش پر مبنی اینٹھن کچھ روز کے لیے فرو ہو جاتی ہے۔ پھر انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ خود کسی اعلی مقام پر فائز ہوں گے تو اس عہد کے جوان افسر ان کے خلاف اسی طرح کی گفتگو کر رہے ہوں گے۔ انہیں یہ بھی علم ہوتا ہے کہ بڑے اس بارے میں جانتے ہیں اور بڑے یہ جانتے ہوئے محظوظ ہوتے ہیں کہ اسی نظام میں شامل ان کے کمتر رفقائے کار ان کے خلاف غصہ نکال رہے ہیں۔

یہی عالم اب پاکستان میں ہے، سرکاری حکام ہوں یا این جی او سے استفادہ کنندگان، تاجر ہوں یا اساتذہ، مزدور رہنما ہوں یا دانشور یعنی وہ سب جو اسی نظام سے کسی نہ کسی طرح مستفید ہوتے ہیں اور اسی نظام کی کسی نہ کسی خامی یا کئی خامیوں سے براہ راست یا بالواسطہ منسلک، پھر بھی معاشرے میں پھیلی برائیوں کا رونا روتے ہیں۔ معاشرے کے نقائص اور سماجی معاملات پر شاید ہی کسی کی نگاہ جاتی ہو۔ گندی نالیوں سے ٹوٹی سڑکوں تک، مکھیوں مچھروں کی بہتات سے صحت کے انحطاط تک، چھوٹے بڑے جرائم میں اضافے سے لے کر تعلیم کے تعیش بن جانے تک کسی بھی معاملے سے ان کا اس لیے سروکار نہیں ہوتا کہ وہ اور ان کا کنبہ براہ راست ان سے متاثر نہیں ہوتا۔

اچھا گھر، اچھی کار، اچھے اداروں میں بچوں کی تعلیم، اچھے نجی ہسپتالوں سے صحت کی سہولت کی استطاعت، کمتر اور پسے ہوئے طبقات کے سامنے ان کے معاملات بارے انہیں بھڑکانے کے بعد شام کو کسی پوش ریستوران یا ایلیٹ کلب میں طعام سے پہلے ایرکنڈیشنڈ گھر میں ناونوش یہ سب ان لوگوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ان کے قول و عمل میں کتنا گہرا اور وسیع فرق ہے۔

اس وقت دنیا بھر کے ساتھ ہمارے ملک میں بھی نہ صرف پیراڈائمز یعنی مخصوص معروضی حالات میں بحث و عمل کے انداز بدل چکے ہیں بلکہ موضوعی رویے بھی ڈیجیٹل عہد کے مطابق ہو چکے ہیں جبکہ اسی فیصد آبادی کو نہ ان کی سمجھ آتی ہے اور نہ اس سے سروکار ہے۔ وہ یا راضی برضا ہو چکے ہیں یا صارفین کے سماج سے جھوجھنے کے جتن میں مصروف۔

بجائے ازکاررفتہ رومانویت پسند سابق ترقی پسند معمر افراد کی محفلیں سجا کے ان کے سامنے ”علم کے موتی“ بکھیرنے کے تنظیم کاری کرنے کے لائق ادھیڑ عمر افراد اور سوال اٹھا کے ان کے جواب ڈھونڈنے کی جستجو کرنے والے نوجوانوں سے بات کی جانی چاہیے۔ جب تک بالخصوص سماجی عوارض کو رفع کیے جانے کی خاطر چھوٹے چھوٹے حلقے مرتب نہیں ہوں گے تب تک ملک کے حالات بدلنے سے متعلق آگاہی عام نہیں ہوگی اور ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے جو جیسا ہے ویسا ہی رہے گا چاہے معاملہ ہو یا فرد۔ اب یہ تو ہونے سے رہا کہ شہر کو جدید کرنے کی خاطر منصوبہ بندی کیے بغیر اور متبادل دیے بن شہر کے اندر اور قرب و جوار میں موجود نامناسب آبادیاں منہدم کر دی جائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •