گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کے کارنامے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

11 مئی 2013 کو پاکستان میں جمہوری دور اور تسلسل کے دوسرے انتخابات منعقد ہوئے، اور پہلی بار باضابطہ طور پر جمہوری حکومت اپنا دورانیہ مکمل کرکے اگلی منتخب حکومت کو اپنے اختیارات منتقل کررہی تھی۔ مسلم لیگ ن نے ملک بھر کے 272 نشستوں میں سے 166 نشستیں حاصل کرلی۔ یہ موقع جہاں پورے ملک کے سیاسی قوتوں کے لئے مسرت کا موقع تھا وہی پر مسلم لیگ ن کے لئے تاریخی موقع تھا۔ 13 مئی کو غالباً اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ملک بھر سے لیگی ذمہ داروں نے شرکت کی تھی وہی پر اس اجلاس میں مسلم لیگ ن نے باضابطہ حکومت کرنے کا اعلان کرلیا۔

اس اجلاس میں گلگت بلتستان سے مسلم لیگ ن کے چیف آرگنائزر حافظ حفیظ الرحمن کو بھی بلایا گیا تھا۔ جس میں حافظ حفیظ الرحمن کے کیے گئے خطاب کو قومی اخبارات میں نمایاں کوریج بھی دی تھی۔ حافظ حفیظ الرحمن نے پارٹی کے اس اہم اجلاس میں خطاب بھی اہم کیا تھا اور اس وقت کے اخبارات کے مطابق حافظ حفیظ الرحمن نے اپنی پارٹی قیادت کو اس جانب راغب کرنے کی کوشش کی تھی کہ گلگت بلتستان کو حکومتی امور میں نظر انداز نہ کیا جائے۔ ایک اخبار میں یہ خبر اس سرخی کے ساتھ چھپی تھی کہ ’گلگت بلتستان اور وفاق کا تعلق صرف سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہے‘ ۔

یہ نقشہ یہاں کھینچنے کا صرف مقصد یہ ہے کہ اگر آپ نے حکومت پر نظر رکھنا ہے اور ’وزیراعلیٰ‘ کی کرسی پر قابض ہونا ہے، یا اس کا ارادہ ہے تو تھوڑی بہت محنت لازمی ہی ہے۔ گلگت بلتستان میں یہ روایت چلتی رہی ہے کہ وفاق میں جس کی حکومت آجائے اس کی صوبے میں بھی حکومت آتی ہے، اسی خیال کی بنیاد پر پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہوئی ہے۔ گزشتہ ایک چار سالوں میں پاکستان تحریک انصاف کا اکلوتا کارنامہ راجہ جہانزیب کی نشست کا تھا، اب اس اکلوتے کارنامے میں ایک اور کارنامے کا اضافہ ہوا ہے جو راجہ جلال حسین مقپون کی بطور گورنر تقرری ہے۔

وفاق میں حکومت قائم ہونے سے قبل تحریک انصاف کے اعلیٰ عہدیداروں کو ایک نشست میں متنبہ بھی کیا تھا کہ آپ اگر اس خیال سے بیٹھے ہیں کہ وفاق میں حکومت آئے گی اور جاڑو کی چھڑی کے مانند سب کچھ لمحوں میں برابر ہوجائے گاتو ایسا نہیں ہوسکتا ہے، تحریک انصاف گلگت بلتستان میں اپنی حمایت لینے کے لئے کم از کم انتخابی منشور میں گلگت بلتستان کے حوالے سے اہم اقدامات کو شامل کرائیں۔ لیکن قیادت کی چپقلش میں تحریک انصاف کے ’قائدین‘ اس بات کو ہی بھول گئے اور اس انتظارمیں ہیں کہ جس طریقے سے وفاق میں حکومت آئی ہے اسی طریقے سے گلگت بلتستان میں حکومت آئے گی۔

پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سابقہ صدر راجہ جلال حسین مقپون کو گورنر تعینات کرنے کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں میں ایک خوشی کی لہردوڑی تھی جس کا اظہار انہوں نے حلف برداری کی تقریب میں کیا تھا اور حفیظ الرحمن کی موجودگی میں ن لیگ مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔ گورنر راجہ جلال حسین مقپون کی آمد کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں کو یہ خیال تھا کہ کم از کم اب ہمیں دفتروں میں وہ عزت اور مقام ملے گا جو دیگر جماعتوں کو ملتا ہے اور راجہ جلال حسین مقپون کے ذریعے کم از کم ہم تحریکی جھنڈے کو عام کریں گے۔ لیکن سب تدبیریں الٹی ہوتی گئیں، راجہ جلال حسین مقپون کا بطور گورنر ابھی تک ایک بھی قابل ذکر کارنامہ نہیں ہے، ابتدائی ایام میں انہوں نے اپنے دفتر کو کارکنوں کے لئے کھول دیا تھا جہاں پر تعمیری گفتگو ہونے کی بجائے سازشوں کا گڑھ بن گیا۔

راجہ جلال حسین مقپون کی تقرری کے بعد سے اب تک تحریک انصاف کے ’قائدین‘ ایک دوسرے کے ہی ٹانگیں کھینچنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی مقبولیت کا گراف بہت گررہا ہے اور صوبائی حکومت کو جس سطح پر دیکھنے کی توقع تھی اس سے بہت اوپر ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بھی بے جا نہیں ہوگا کہ حافظ حفیظ الرحمن نے اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال اس وقت سے شروع کردیا جب سے وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت آئی ہوئی ہے۔

پہلی مرتبہ ایک چیف ایگزیکٹو نے جی بی میں چار نئے اضلاع کے قیام کا اعلان کردیا اور کابینہ سے منظوری بھی لے لی، جس کے بارے میں سیاسی مخالفین کا بھی خیال ہے کہ اگر چار نئے اضلاع کا نوٹیفکیشن جاری کریں تو پہلا قدم ہوگا جس کی تعریف کرنا مجبوری بن جائے گی۔ سابقہ صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود و ترقی نسواں ثوبیہ مقدم کی وزارت سے برطرفی کے اعلان پر تحریک انصاف پوری نے حفیظ الرحمن کو آڑے ہاتھوں لیا اور فیس بک میں اپنی دانشوری دکھاتے ہوئے کہا کہ حفیظ الرحمن کو شاید علم نہیں کہ اب گورنر تحریک انصاف کے راجہ جلال ہیں، اب حفیظ الرحمن کی من مانیاں نہیں چل سکتی ہیں۔ ثوبیہ مقدم کو ایسے ہی عناصر نے شہہ دی تھی جن کی اپنی وقعت نہیں تھی، بھولے پن کا شکار ثوبیہ مقدم اگر اپنی ہی تدبیر سے چل پڑتی تو نہ حفیظ الرحمن پر جھوٹے الزامات اور تحفظات کا اظہار کرنا پڑتا اور نہ ہی حفیظ الرحمن کو حقائق سے برعکس الزامات کا سہارا لیتے ہوئے ثوبیہ مقدم کو فارغ کرنا پڑتا۔

گلگت بلتستان میں اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ حدود کا تنازعہ ہے۔ خیبرپختونخواہ کے ساتھ شندور اور ہربن کے مقام پر پہلے سے ہی حدود تنازعہ جاری تھا جس میں ابھی تک کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہوسکی تھی کہ داریل کے جنگلات پر قبضہ کی بات شروع ہوگئی۔ داستان دلچسپ یوں ہوگئی کہ سپریم اپیلٹ کورٹ میں چیف جسٹس کے لئے سمری بھیجی گئی۔ سید ارشاد حسین شاہ جنگلات کے اس تنازعہ کا فریق نکلا اور پورا گلگت بلتستان بشمول گلگت بلتستان اسمبلی چیخنا شروع ہوگئی۔

سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان میں ججوں کی تقرری کا طریقہ کار مسلم لیگ ن کی سابقہ وفاقی حکومت بھی طے نہیں کرسکی، گلگت بلتستان آرڈر 2018 میں اس اہم ترین پہلو کو حسب سابق چھوڑ دیا گیا، جو کہ ن لیگ کی بڑی ناکامی ہے۔ لیکن ساتھ میں ہی تحریک انصاف کی وفاقی حکومت بھی اس ضمرے میں کوئی تیر نہیں مارسکی اور وہی طریقہ اپنا یا جو پیپلزپارٹی کے دور میں ابتدائی طور پر دیا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور گورنر گلگت بلتستان کی بھیجی گئی سمری کو وزیراعظم پاکستان نے منظور کرلیا۔ حافظ حفیظ الرحمن کی نظر اس وقت 2020 پر ہے، جس کی وجہ سے وہ ایسے اقدامات اٹھارہے ہیں جو تحریک انصاف کی حکومت کے لئے گلے کی ہڈی بن جائیں گے۔ گورنر کے خلاف تحریک انصاف کے اندر سے ہی عدم اعتماد کی آوازیں بلند ہونے اور بیانات لگنے کی وجہ سے وہ حفیظ الرحمن کا سہارا لے چکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان میں 2009 کے انتخابات میں پہلی بار حصہ لیا تھا۔ ان انتخابات میں حلقہ نمبر 2 سے صابر یوسفزئی نے تحریک انصاف کا نشان ’ترازو‘ لے کر پورے 104 حاصل کیے۔ مذکورہ حلقے کے علاوہ کسی دوسرے حلقے میں تحریک انصاف کا کوئی امیدوار بھی نہیں تھا۔ یوں 15 لاکھ آبادی میں کل 104 ووٹ تھے۔ 2015 کے الیکشن میں صرف ایک نشست جیت لی البتہ بعض الیکٹیبلز مقابلوں میں سخت پنجہ آزمائی بھی کرچکے تھے۔

لیکن 2020 کے انتخابات سمیت پارٹی کے نظم و نسق میں تحریک انصاف عدم دلچسپی کا اظہار کرچکی ہے، مستقبل کے لیڈروں کی اپنی درمیانے لیڈر سے ملاقات کھیل کے پارک میں ہورہی ہے اور ابھی تک وزیراعظم پاکستان جی بی کے کسی عہدیدار سے نہیں مل سکے ہیں اور نہ ہی کوئی قدم اٹھایا ہے۔ موجودہ اس نظام میں وفاقی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہونا جی بی کی مجبوری بھی ہے، ان تعلقات کا فائدہ جی بی میں سارے لوگوں کو ہوسکتا ہے لیکن اس کے لئے جدوجہد کرنا پڑے گا۔ تحریک انصاف میں ابھی تک ایک ایسا بندہ نہیں ہے جو جی بی کے تمام مسائل کا علم رکھیں۔ غیر سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد پر سیاست میں آنے کے خواہشمند افراد کل کے لئے خطرہ ثابت ہوں گے۔ ان کارناموں کی بنیاد پر وہ حکومت کی تمنا کررہے ہیں تواتنا کہا جاسکتا ہے کہ ایں خیال است و محال است و مجال است۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •