دخل اندازی کا کفارہ کیا ہو سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ان معاشی مشکلات سے نمٹنے میں لگی ہوئی ہے، جو سب کی سب اس نے پیدا نہ کی ہوں، تو بھی ان میں اضافہ ضرور کیا ہے۔  ہر شخص کو معلوم تھا کہ پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں مبتلا تھا۔ اس کی درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں۔  اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات اس خلا کو کم تو کرتی ہیں ’پورا نہیں کر سکتیں۔  براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے آئی ایم ایف کے دروازے پر ایک بار پھر دستک دینا ہو گی۔

چند ماہرین معاشیات یہ ضرور کہتے پائے گئے کہ آئی ایم ایف ”عطار کا لونڈا“ ہے، اس کے پاس ہرگز نہ جایا جائے، لیکن واقفانِ حال کی بھاری اکثریت اس سے متفق نہیں تھی۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا جو خسارہ، اٹھارہ، انیس ارب ڈالر کو چھو رہا تھا، اس سے نمٹنے کے لئے کوئی متبادل موجود نہ تھا۔ وزیر اعظم نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ مل کر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے اربوں ڈالر ضرور حاصل کر لیے، لیکن یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ تھے۔

انہوں نے چند ماہ کے لیے سہارا تو دے دیا، مستقل حل ان کے بس میں نہیں تھا۔ خسارے کو کم کرنے کے لئے پائیدار اقدامات کی ضرورت تھی۔ آئی ایم ایف کا پروگرام مطلوبہ تیقن فراہم کر سکتا تھا، اور سرمایہ کاروں کا اعتماد پاکستانی معیشت پر بحال کر کے اس کے استحکام میں مدد دے سکتا تھا۔ پاکستان ماضی میں کم و بیش اکیس بار آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دے چکا تھا۔ اگرچہ یہ ادارہ امریکہ کے زیر اثر بتایا جاتا ہے، اور بہت سے مبصرین اسے امریکی خارجہ پالیسی کا خفیہ ہتھیار قرار دیتے ہیں کہ اس کے ذریعے ضرورت مندوں کا ٹیٹوا دبایا جا سکتا، اور ان کو مرضی کی راہ پر چلایا جا سکتا ہے، لیکن بادی النظر میں یہ ایک کثیرالمملکتی کلب ہے، جس کا پاکستان بھی رکن ہے۔

اس کلب کی ذمہ داری ہے کہ رکن ممالک کو زر مبادلہ کا بحران در پیش ہو تو یہ ان کی مدد کو آئے، اور اس طرح ان کی مدد کرے کہ ضرورت پوری ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی معیشت کی اصلاح بھی ممکن ہو، اور ان سے ایسی شرائط منوائی جائیں، جن پر عمل کرنے سے وہ اس مرض سے محفوظ ہو جائیں۔  یہ اور بات کہ ان شرائط پر عمل کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، اور معیشت کی رفتار بھی سست ہوتی ہے۔  حکومتیں مختلف شعبوں میں جو سبسڈی فراہم کر رہی ہوتی ہیں، ان کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے، مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے اگر ٹیکس وصول نہیں کیے جا رہے، تو ان کی وصولی بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ شرح میں اضافے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

درآمدات کو مہنگا کرنے کے لیے کرنسی کو ڈی ویلیو بھی کرنا پڑتا ہے، اور یوں ایک چکر سے نکلنے کی تگ و دو بعض اوقات کئی اور چکروں میں پھنسا دیتی ہے۔  پاکستان کے حوالے سے تو وہ سرکاری ادارے بھی اہمیت رکھتے ہیں، جو مسلسل خسارے میں ہیں، اور جن کی نجکاری کے ذریعے ان سے جان چھڑائی نہیں جا سکی۔ آئی ایم ایف کا پروگرام غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی اخراجات میں بھی کٹوتی کا سبب بن جاتا ہے کہ بجٹ کے خسارے کو ایک حد میں رکھنا بھی مقصود ہوتا ہے۔

پاکستان نے 1988 ء کے بعد 11 مرتبہ آئی ایم ایف کو پکارا ہے لیکن صرف 2013 ء میں طے پانے والا پروگرام پایہ تکمیل کو پہنچ پایا۔ مطلوبہ ڈالر چونکہ ایک دم نہیں ملتے، سہ ماہی یا ششماہی قسطوں کی صورت میں ان کا اجرا ہوتا ہے، اس لیے اگر شرائط پر تسلی بخش طریقے سے عمل نہ ہو رہا ہو تو درمیان ہی میں ہاتھ کھینچ لیا جاتا ہے۔  جنرل پرویز مشرف کے دور میں آئی ایم ایف کے پروگرام سے پاکستان البتہ خود دستبردار ہو گیا تھا کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی وجہ سے اسے ڈالروں کی ضرورت نہیں رہی تھی۔

آئی ایم ایف جونہی کسی ملک کے لیے پروگرام منظور کرتا ہے، عالمی منڈی میں اس کی ساکھ جم جاتی ہے۔  معاشی استحکام کا پیغام دور و نزدیک تعاون کے راستے کھول دیتا ہے، اور دوسرے عالمی ادارے بھی متعلقہ ملک کے ساتھ معاملہ کرنے، اور اسے فنڈنگ فراہم کرنے میں آسودگی محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں۔  اسی لیے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے یہ کہا تھا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام اگرچہ سات آٹھ ارب ڈالر کا ہو گا، لیکن عالمی بینک اور دوسرے مالیاتی اداروں کی طرف سے بھی وہ رقوم موصول ہونا شروع ہو جائیں گی، جو رکی ہوئی ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں کبھی آئی ایم ایف کے پروگرام کو اِس قدر متنازعہ نہیں بنایا گیا، جس قدر اب بنا ڈالا گیا ہے۔  2013 ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسر اقتدار آئی تھی تو اُس وقت بھی کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ ایک بڑا چیلنج تھا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے فی الفور آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع کیے، اور معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔  اگست 2016 ء میں 6.4 ارب ڈالر کا پروگرام مکمل ہو گیا۔ اسحاق ڈار کے ساتھ آئی ایم ایف کے مشن چیف نے دبئی میں نیوز کانفرنس کے دوران اس کا باقاعدہ اعلان کیا۔

 اس پروگرام کے تحت ٹیکسوں کا ہدف 3.104 ٹریلین مقرر کیا گیا تھا، لیکن اس سے زیادہ ( 3.115 ٹریلین) وصول کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیا۔ 2013 ء میں جی ڈی پی کا 8.5 فیصد ٹیکس وصول ہو رہا تھا، جو 10.5 فیصد تک پہنچ گیا۔ شرح نمو 4.71 فیصد تک پہنچ گئی جو گزشتہ آٹھ سال میں سب سے زیادہ تھی۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سال شرح نمو 5.7 فیصد تک پہنچ جائے گی، اور 2017 ء میں یہ 7 فیصد ہو گی۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آئی ایم ایف کے پروگرام کو نہ تو کسی پبلک ڈیبیٹ کا موضوع بنایا، نہ معیشت کی زبوں حالی پر مجالس برپا کیں بس اپنے کام پر توجہ دی۔ دہشت گردی کے خلاف تمام قومی اداروں کو مجتمع کیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے امن قائم ہوتا چلا گیا۔ بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے تیز رفتاری سے منصوبے مکمل کیے۔  چین سے سی پیک پر اربوں ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے کیے، اور منظر تبدیل ہو گیا۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی حکومت نے پوری دُنیا میں پاکستان کے ”دیوالیہ پن“ کا ڈھنڈورا پیٹا، الل ٹپ اقدامات کیے۔

روپے کو بلا سوچے سمجھے ڈی ویلیو کر دیا۔ شرح سود میں اضافہ کیا، بجلی، گیس اور پٹرول کو مہنگا کیا، لیکن ہاتھ کچھ نہ آیا۔ آئی ایم ایف کی شرائط بدستور پیچھا کرتی رہیں۔  اب جو پیکیج سامنے ہے، اس سے سہانے خواب مزید بکھریں گے۔  مشکلات مزید بڑھیں گی، عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو گی، ترقی کی رفتار مزید سست ہو گی، بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو گا۔ عوام سڑکوں پر نکلیں یا نہ نکلیں، مخالف سیاسی جماعتیں متحرک ہوں یا نہ ہوں، ہونی تو ہو کر رہے گی۔

پاکستانی معیشت کو جس بحران میں مبتلا کر دیا گیا ہے اس کے ذمہ داروں کو تاریخ تلاش کرتی رہے گی کہ فی الحال انہوں نے ہاتھوں پر دستانے چڑھا رکھے ہیں۔  ناک الٹی پکڑیں یا سیدھی، پاؤں کے بل کھڑے ہوں یا سر کے بل الٹ جائیں جو دودھ زمین پر گرایا جا چکا ہے، اسے دوبارہ بالٹی میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ کسی کے آنے، جانے سے مشکل آسان نہیں ہو گی۔ اس لیے ماضی میں پھنس جانے کے بجانے مستقبل پر نظر کریں۔  سب سٹیک ہولڈر اسی طرح مل بیٹھیں جس طرح دہشت گردی کے خلاف اکٹھے ہوئے تھے۔  معیشت پر سیاست سے توبہ کریں، بے جا دخل اندازی کا کفارہ ادا کریں کہ پاکستانی ریاست، معیشت اور سیاست کو ایک نئے ”نیشنل ایکشن پلان“ کی ضرورت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>