قیادت کا بوجھ

سابق وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں اخبار نویسوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر وہ ان سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تو پھر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید جنرل عاصم منیر انہیں اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اپنے سابق دوست جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ

Read more

کراچی میں پُرامن احتجاج کا نتیجہ

جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی دونوں کو مبارکباد پیش کی جانی چاہیے کہ انہوں نے سندھ کے بلدیاتی قانون میں ترمیم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ چار ہفتے جاری رہنے والا دھرنا ختم کر دیا گیا ہے، ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ حافظ نعیم الرحمن کو ”ماموں“ بنا دیا گیا ہے، یعنی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ پیپلزپارٹی انہیں دھوکہ دے گی اور وہی کرے گی جو کرتی رہی

Read more

استعفے کا مطالبہ

اپوزیشن رہنماؤں کی زبانیں شعلے اُگل رہی ہیں۔ جب سے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس میں قائم کی جانے والی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے، حکومت کے مخالفین میں نئی روح دوڑتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کے اسد عمر اور فواد چودھری جیسے جانثار اپنی جگہ اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں، بلکہ بغلیں بجا رہے ہیں کہ ان کا دامن صاف ہے، ان کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہوا،

Read more

کچھ ہونے والا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے چیئرمین وزیراعظم عمران خان کو خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات مہنگے پڑ گئے ہیں۔ یہ صوبہ ان کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، تاریخ میں پہلی بار انہوں نے صوبائی اسمبلی کے یکے بعد دیگرے دو انتخابات جیتے تھے۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر اکثریت حاصل کی گئی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کا اُس وقت بھی یہ کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا راستہ روکا جائے۔

Read more

جلد بازی کے سامنے گڑھے

پاکستانی جمہوریت نے دنیا کو یہ منظر بھی دکھایا کہ چھ گھنٹے کے لگ بھگ جاری رہنے والے پارلیمینٹ کے اجلاس میں آدھا وقت شور شرابے، دھینگا مشتی اور حلق آزمائی کی نذر ہوا، تو آدھے میں 33 بل منظور کر لیے گئے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے جو کہ مشترکہ اجلاس کی صدارت کے بھی دستوری طور پر حق دار ہیں، جس برق رفتاری سے قوانین منظور کرائے، اُس نے یقینا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہو گا۔

Read more

ہمارے”وڈّے“ بھائی جان

انیس، بیس سال کا وہ نوجوان ایمرسن کالج ملتان سے بی اے کا امتحان دے کر واپس آیا تو پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ والدین کی آنکھیں مستقبل پر لگی ہوئی تھیں، دعائیں اسے حصار میں لیے رہتیں۔ یہ بیسویں صدی کے(غالباً) 54ویں سال کی بات تھی، اُن دِنوں بی اے پاس کر لینا گویا معراج کو چھو لینا تھا۔ مولانا غلام رسول مہر جیسے محقق اپنے نام کے ساتھ بی اے کا لاحقہ لگاتے تھے۔ نکلتے

Read more

سیاسی جماعتوں کے اندر

پاکستانی سیاست کا اونٹ بار بار کروٹیں بدل رہا ہے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا، اپوزیشن اتحاد ”پی ڈی ایم‘‘ فراٹے بھر رہا تھا۔ لانگ مارچ کی تیاریاں کی جا رہی تھیں، ارکانِ اسمبلی کے استعفے جمع کیے جا رہے تھے، انہیں ایٹم بم قرار دیا جا رہا تھا کہ جب چلائیں گے ایوانِ اقتدار بھسم ہو کر رہ جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی بلائیں لے رہی تھیں، ماضی کی تلخیوں کو بچپن کی شرارتیں

Read more

جنگ بندی کا دائرہ

غزہ میں جنگ بندی ہو چکی ہے، اسرائیل اور حماس‘ دونوں کی طرف سے اسے اپنی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ حماس نے تو جمعے کا دن ”یوم فتح‘‘ کے طور پر منایا کہ اسرائیل کے دانت کھٹے کر دیئے گئے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ کس کے دعووں میں کتنی صداقت ہے، یہ بات باعثِ اطمینان ہے کہ آگ اور خون کا جو کھیل وہاں کھیلا جا رہا تھا، اسے روک دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی

Read more

عمران حکومت کے دوران کرپشن میں اضافہ

کرکٹ، کرپشن اور عمران خان تین ایسے الفاظ ہیں، جنہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ کرکٹ نے خان صاحب کو عالمی شہرت دی، وہ ایک عظیم کپتان کے طور پر اب تک یاد رکھے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے کرکٹ لورز اب بھی اس حوالے سے اپنا ووٹ ان کی نذر کرنے کو تیار پائے جاتے ہیں، ایک حالیہ بین الاقوامی سروے اس کا تازہ ترین ثبوت بھی فراہم کر چکا ہے۔ کرپشن کے خلاف مہم

Read more

ڈینگی کے خلاف مہم کی یادیں اور کورونا ویکسین سے ہماری محرومی

وزیراعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے صحت (جنہیں وزیر صحت بھی کہا اور سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کا درجہ یہی ہے ) ڈاکٹر فیصل سلطان نے دو روز پہلے انگریزی روزنامہ ”دی نیوز“ کو بتایا ہے کہ پاکستان نے کووڈ 19۔ ویکسین کی خریداری کے لیے نہ تو کسی کو کوئی آرڈر دیا ہے، نہ ہی کسی دوا ساز ادارے نے اس کی فراہمی کے لیے ہماری کوئی درخواست منظور کی ہے۔ ان کا فرمانا تھا کہ

Read more

کامران خان کی وارننگ

پاکستانی سیاست کی بے لگامی نے پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جو لوگ دیکھنے، سننے، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکے ہیں، ان کو رکھیے ایک طرف لیکن جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ سب صلاحیتیں کچھ نہ کچھ عطا کر رکھی ہیں، ان کی آنکھوں کی نیند اڑ اڑ جاتی ہے ؎ پھر کہیں منزل پہ جا کر لٹ نہ جائے کارواں اٹھتے جاتے ہیں قدم، اور بیٹھتا جاتا

Read more

سکندر مرزا کا راستہ

اکتوبر کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ایک مہینے کے دوران قتل کی دو وارداتیں ایسی ہوئیں، جنہوں نے مستقبل پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے، اور ان سے ابھی تک سو فی صد نجات ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ قیام پاکستان کے چار سال بعد اس ماہ کی 16 تاریخ کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں (جسے بعد ازاں ان کے نام سے موسوم کر دیا گیا تھا) گولی کا نشانہ بنایا گیا۔

لیاقت علی خان محض ایک وزیر اعظم یا سیاست دان نہیں تھے، وہ تحریک پاکستان کے دوسرے بڑے رہنما تھے۔ قائد اعظمؒ کے بعد ان کی شخصیت سب سے قد آور اور محترم تھی۔ وہ مسلسل کئی برس تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل رہے تھے، اور انہی کی انتظامی صلاحیتوں نے مسلم لیگ کو ایک تنظیم کے طور پر کھڑا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ ان کا قتل پاکستانی سیاست کا قتل ثابت ہوا، اور اقتدار میں نوکر شاہی کا عمل دخل بڑھتا چلا گیا۔ بونے اپنے آپ کو جن سمجھنے لگے، انہوں نے نہ صرف جسد سیاست کو تار تار کیا، بلکہ اپنے پاؤں پر بھی کلہاڑی ماری، اور خود بھی بے ننگ و نام ہو گئے۔

Read more

عدالت میں انصاف کا قتل

بھارت کی ایک عدالت نے بابری مسجد انہدام کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام 32 ملزموں کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا، تو دُنیا بھر کی عدالتوں میں سرزد ہونے والی ناانصافیوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ اپنے اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر ”عدالتی وارداتوں‘‘ کو لوگ یاد کرنے لگے۔ بھارتی عدالت نے نہ صرف اخباری رپورٹوں کو مسترد کیا، بلکہ موقع واردات کی تصویری شہادتوں کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا

Read more

”وزیر اعظم اپنا کام آپ کریں“

اے پی سی کا انعقاد بذات خود کوئی معمولی بات نہیں تھی، اپوزیشن جماعتیں اعلیٰ ترین سطح پر اکٹھی ہوئیں، اور اپنے مخالفوں کو حیران کر گئیں، لیکن ان کے اجتماع سے بڑا دھماکہ یہ ہوا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے طویل خطاب کیا، اور اس میں وہ سب کچھ کہہ ڈالا، جو کہنا چاہیے تھا یا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اپنے بیانیے کو نہ صرف دہرایا، بلکہ مزید زور دار بنایا۔ ریاست کے اندر ریاست سے بات بڑھا کر ریاست کے اوپر ریاست تک پہنچا دی، اور دور و نزدیک اپنے وجود کا احساس دلا دیا۔

اس کے بعد عسکری قیادت سے سیاست دانوں کے رابطوں کی تفصیلات منظر عام پر آنے لگیں، ”میدان خطابت کے جرنیل“ شیخ رشید احمد میدان میں آ نکلے، اور یکے بعد دیگر انکشاف کرتے چلے گئے۔ خفیہ ملاقاتوں کی کچھ باتیں بتائیں، کچھ مزید بتانے کی دھمکی دی۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو بھی یہ اعلان کرنا پڑا کہ سندھ کے سابق گورنر صاحب نے، جو مسلم لیگ (ن) کے سرخیلوں میں شمار ہوتے ہیں، یکے بعد دیگرے دو ملاقاتیں چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے اپنی خواہش پرکیں، اور ان کے سامنے اپنے لیڈروں کے معاملات رکھے۔

Read more

واردات کے بعد

ڈیفنس لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے موٹروے کے ایک ٹکڑے پر ایک خاتون کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واردات کی مذمت کے لئے لغت میں الفاظ کم پڑگئے ہیں۔ نہ صرف لوٹا گیا، بلکہ اس کے بچوں کے سامنے اس کی آبروریزی بھی کی گئی۔ دو درندوں نے ایک گھرانے، اور ایک خاندان ہی کا نہیں ہر اس شخص کا سکون چھین لیا، جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل موجود ہے۔ واقعہ تو ازحد افسوسناک، بلکہ المناک، بلکہ شرمناک تھا ہی، اس کے بعد جو کچھ سامنے آیا، اس نے تو دل کو ایسے کچوکے لگائے ہیں کہ جن کی کسک کم ہونے میں نہیں آ رہی۔

سیالکوٹ لاہور موٹروے کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے، لیکن موٹروے پولیس نے اس کی سکیورٹی نہیں سنبھالی، اس کے لئے جو افرادی قوت اور دیگر لوازمات درکار تھے، وزارت مواصلات نے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، اس کے پرجوش وزیر مرادسعید جو اپنی گرم گفتاری کے سبب خاص شہرت کما چکے ہیں، اور ہروقت اپنی کارکردگی کی تفصیلات پیش کرکر کے داد طلب کرتے رہتے ہیں، فائل پر سوئے رہے۔ پنجاب پولیس تک کو دستے متعین کرنے کے لئے نہیں کہا گیا، لیکن ٹول پلازہ جیب گرم کرنے کے لئے حاضر ہے۔

Read more

الزامات کی برسات

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اپنے خلاف سوشل میڈیا کا ایک بڑا حملہ (تادم تحریر) ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے معاون خصوصی کے طور پر کام کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کی خدمت میں پیش کردیا تھا۔ ارادہ ظاہر کیا گیا تھاکہ صرف سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر خدمات جاری رکھی جائیں گی، اور سیاسی معاملات سے دوری اختیار کر لی جائے گی ’ہر چند کہ اُنہیں کسی

Read more

دلوں کے حکمران

آج دس محرم الحرام ہے۔ حضرت حسینؓ کا یوم شہادت۔ 1381 ہجری سال پہلے آج ہی کے دن انہوں نے میدان کربلا میں جام شہادت نوش کیا تھا… سرداد نہ داد دست در دست یزید… سر دے دیا لیکن یزید کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیا۔ چلئے، میدانِ کربلا چلتے ہیں، حفیظ جالندھری کے ہمراہ، انہوں نے حضرت امامؓ کا جو سراپا بیان کیا ہے، اور میدان کربلا کی جو منظر کشی کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دیکھئے

Read more

بھٹو ہوں یا ضیاالحق

جنرل محمد ضیاالحق اور ان کے رفقا کے حوالے سے (گزشتہ کالم میں) یہ عرض کیا گیا تھاکہ افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل ان کی دو ایسی کامیابیاں (Achievements) ہیںکہ پاکستانی قوم اور اس کے اداروں نے جن کے اعتراف کا حق ادا نہیں کیا۔ اس کا ہمارے بعض دوستوں نے بہت بُرا منایا، سوشل میڈیا پر بھی دِل کے پھپھولے پھوڑے گئے اور باقاعدہ کالم آرائی کرکے بھی غبار نکالا (یا

Read more

”فیلڈ مارشل“ ضیا الحق کا شکریہ

جنرل محمد ضیا الحق کو اس دنیا سے رخصت ہوئے بتیس سال بیت گئے۔ 1988 ء کے ماہ اگست کی سترہ تاریخ کو ان کا فوجی طیارہ بہاولپور کے نزدیک حادثے کا شکار ہوا، اور وہ ٹینکوں کا ایک نمائشی مظاہرہ دیکھنے کے بعد اسلام آباد واپس آنے کی بجائے وہاں پہنچ گئے، جہاں جانا تو سب کو ہے، واپس کسی نے نہیں آنا۔ جنرل صاحب کے ساتھ جان دینے والوں میں چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل اختر عبدالرحمن کے علاوہ ایک لیفٹیننٹ جنرل، تین میجر جنرل اور پانچ بریگیڈیئر بھی شامل تھے۔

پاکستان میں متعین امریکی سفیر اور پینٹاگون کے ایک نمائندہ فوجی افسر بھی اس بدقسمت طیارے میں سوار تھے۔ ابھی تک اس طیارے کی تباہی کے اسباب کا تعین نہیں کیا جاسکا، نہ وہ ہاتھ تلاش کیے جا سکے ہیں جو اس کے ذمہ دار تھے۔ انہوں نے جو دستانے پہن رکھے تھے، وہ لہو کی تلاش میں رکاوٹ بن گئے۔ ان میں سے کون ابھی زندہ ہے، اور کون کون اپنی فرد عمل کے ساتھ منصف حقیقی کے روبرو پیش ہو چکا، اس بارے میں بھی قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا ممکن نہیں۔

Read more

شاہ محمود کا ”ورنہ“

شاہ محمود قریشی ماشاء اللہ اپنی کرسی پر خوب جچتے ہیں۔ بنے بنائے وزیر خارجہ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، خاندانی وجاہت بھی وافر مقدار میں میسر ہے۔ بڑے زمیندار ہونے کے ساتھ ساتھ مخدوم بہاؤالدین ذکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے سجادہ نشین ہیں۔ گویا دین و دُنیا دونوں سے گاڑھی چھنتی ہے۔ مریدوں کا وسیع سلسلہ، اندرون اور بیرون مُلک پھیلا ہوا ہے، سندھ میں بھی وہ ہزاروں کی تعداد میں آباد ہیں۔ اکثر ان کے مداح (جن میں

Read more

صرف بھارتی جاسوس کے لیے

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے پاکستان میں جاری احتساب کے عمل اور نیب کی کارکردگی کے بارے میں 87 صفحات پر مشتمل جو فیصلہ جاری کیا ہے، اس نے ایوانوں اور میدانوں میں ایسا ہنگامہ اٹھا دیا ہے کہ جس کے اثرات سمٹنے میں نہیں آ رہے۔ جسٹس مقبول باقر کے تحریر کردہ اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، قانون اور سیاست پر غیر جانبدارانہ نظر رکھنے والا ہر شخص فاضل بنچ کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس کے بعد اقتدار اور اختلاف کے بنچوں پر بیٹھنے والے اہل سیاست ہوش کے ناخن لیں گے، اور ایک دوسرے کو زچ کرنے کی خواہش سے اوپر اٹھ کر قانون سازی کریں گے، اور غیر جانبدارانہ احتساب کو ممکن بنانے کی سعی کریں گے۔ اس مقصد کے لئے سپیکر قومی اسمبلی نے ایک کل جماعتی پارلیمانی کمیٹی قائم بھی کر دی ہے، لیکن کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس رفتار اور مقدار سے اپنا کام مکمل کر سکے گی۔

Read more

عثمان بزدار کا ’’کلّہ‘‘

بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات تھی، کوئی ساڑھے گیارہ بجے برادر محترم منیر احمد خان کا فون آیا۔ خان صاحب ایک پرانے سیاسی کارکن ہیں۔ طلبہ سیاست میں بھی سرگرم رہے، اور بعد ازاں قومی سیاست میں بھی نام بنایا۔ مسلم لیگ کے مختلف برانڈز سے استفادہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سے مصافحہ کیا لیکن یہاں زرداری صاحب ان کو اور وہ زرداری صاحب کو راس نہ آئے۔ تحریک انصاف کو بھی سونگھتے پائے گئے لیکن سیاسی فعالیت سے

Read more

سیاست سڑکوں پر، خطرہ حکومت کو

پاکستان ایک طرف کورونا کی عالمی وبا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، الحمدللہ کہ ہماری تمام تر بے اعتدالیوں اور بے ضابطگیوں کے باوجود اس کا پھیلاؤ محدود ہو رہا ہے۔ تاجروں اور دکان داروں سے لے کر مفتیان کرام تک نے اس کی ”حوصلہ افزائی“ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ جب دنیا بھر کی مسجدوں میں معمول کے مطابق نماز ادا نہیں کی جا رہی تھی، یہاں تک کہ بیت اللہ اور مسجد نبوی میں بھی نمازیوں کی تعداد انتہائی محدود کر دی گئی تھی، تراویح کا اہتمام ممکن نہ رہا تھا اور عید کی نماز بھی گھروں پر ادا کرنے کی تلقین کی جا رہی تھی، پاکستان کے مفتیان عظام ایک دوسری روش اپنائے ہوئے تھے۔

ایک انتہائی جید مفتی صاحب کورونا وائرس کے خطرے کو موہوم قرار دے رہے تھے، اور تراویح اور عید کے اجتماعات کو محدود کرنے کی اہمیت سمجھنے پر تیار نہیں تھے۔ تاجر اور دکان دار عید کے موقع پر بازار اور مال مسلسل کھلے رکھنے پر اصرار کر رہے تھے، اور حکومتوں کو احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ عدالتی ایوان سے بھی عید کی شاپنگ کے حق میں ریمارکس دیے گئے۔ عوام کی بڑی تعداد بھی بگٹٹ تھی۔ عورتیں، بچے، بزرگ سب گھروں سے بے لگام باہر نکل کر خریداری پر تلے ہوئے تھے۔

Read more

جولائی کی وہ رات

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک طرف وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اپنے ساتھیوں عبدالحفیظ پیرزادہ اور مولانا کوثر نیازی کے ساتھ میز پر تشریف فرما تھے، تو دوسری طرف مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصراللہ خان اور پروفیسر عبدالغفور براجمان تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ میز چوکور تھی، یا گول، خیال یہی ہے کہ گول ہو گی۔ جب ہم پلہ جماعتوں یا گروپوں کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو اس کے لیے گول میز کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

برصغیر کی سیاسی روایت یہی ہے۔ گول میز کا کمال یہ ہے کہ اس کے ذریعے بڑے چھوٹے یا اونچے نیچے کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ سب شرکا کا مرکزی نقطے سے ایک سا فاصلہ ہوتا ہے، اور سب میں برابری کا احساس موجود رہتا ہے۔ بات ذرا دور چلی گئی عرض یہ کرنا تھا کہ وزیر اعظم بھٹو اور ان کے حریف مذاکرات کی میز بچھا چکے تھے۔ وزیراعظم کی اپنی پارٹی پر گرفت بھرپور تھی، وہ جب کوئی بات کرتے تو پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ کرتے، انہیں کوئی خدشہ لاحق نہیں ہوتا تھا کہ ان کے رفقا ان سے اختلاف کریں گے یا ان کی بات رد کر دیں گے، جبکہ ان کے حریفوں کا معاملہ الٹ تھا۔

Read more

منور حسن: باغ بہشت کا تازہ پھول

جمعہ کا دن تھا، ایک بجنے والا ہو گا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ سکرین پر برادر عزیز سجاد میر کا نام طلوع ہو رہا تھا۔ لپک کر اسے اٹھایا اور فوراً کان سے لگایا لیکن کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ سسکیوں نے دستک دی، اور چند لمحوں بعد میر صاحب کی رندھی ہوئی آواز ٹوٹ ٹوٹ کر آئی، منور صاحب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس کے بعد پھر آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑا۔ وہ دھاڑیں مار کر رو رہے تھے اور مجھے بھی اپنے آپ پر قابو نہ رہا تھا۔

دھاڑوں کا معاملہ دھاڑوں سے تھا۔ ہم دونوں ایک ہی کیفیت میں مبتلا تھے۔ کچھ دور بیٹھے، عزیزان عمر، عثمان اور ان کی والدہ بھاگ کر میرے پاس پہنچے، اور دلاسا دینے لگے۔ سب کے چہرے سوالیہ نشان تھے۔ میری آنکھوں میں آنسو انہوں نے کم ہی دیکھے تھے، سو پریشانی سوچند تھی، بصد مشکل خبر ان تک پہنچائی تو وہ بھی افسردہ ہو گئے۔ میری اہلیہ، طاہرہ تو میاں محمد شوکت مرحوم کی صاحبزادی ہیں، گویا جماعت اسلامی سے ان کا نسبی تعلق ہے، بچے بھی الحمدللہ لاتعلق نہیں ہیں۔ سید منور حسن کا نام کسی کے لیے بھی اجنبی نہیں تھا۔ وہ لاہور میں تھے، تو ان سے ملاقات جاری رہتی تھی۔ کئی بار انہوں نے غریب خانے کو رونق بخشی، بچوں کے ساتھ گھل مل کر بیٹھے، اور اپنی خوشگوار یادیں چھوڑ گئے۔

Read more

سپریم کورٹ کا ایک اور تاریخی فیصلہ؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا تو احاطۂ عدالت میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔ قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے (یا ان کے حق میں ) پیش ہونے والے وکلا کی مسرت دیدنی تھی۔ ان کے چہرے وفور مسرت سے سرخ ہو رہے تھے، اور ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرانے کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ با وقار اور با اعتبار قانون دان حامد خان اس فیصلے کو تاریخی قرار دے رہے تھے، تو سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنزائی بھی پر جوش اظہار خیال کر رہے تھے۔

سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر صدر قلب حسن بھی ان کی مسرتوں میں شریک تھے۔ بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی کا چہرہ بھی تمتما رہا تھا۔ منیر اے ملک کہ عدلیہ آزادی تحریک کے ساتھ ان کا نام جڑا ہوا ہے، جسٹس افتخار چودھری سے لے کر جسٹس فائز عیسیٰ تک انہوں نے مسلسل کردار ادا کیا ہے، ان کی خوشی بھی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ وکیلانہ احتیاط کے ساتھ وہ اپنے جذبات کو زبان دے رہے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دے کر، اور سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ان کا جاری کیا جانے والا اظہار وجوہ کا نوٹس خارج کر کے سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔

Read more

جنرل قمر باجوہ کی کال کی مثال

ایک طرف کورونا کی یلغار جاری ہے، اس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم حسب معمول تقریریں کرنے میں مصروف ہیں، سمارٹ لاک ڈاؤن کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے لئے خود ذمہ داری اٹھانے کے اعلانات بھی کیے جا رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب جناب وزیر اعظم بنفس نفیس پورے ملک پر نظر رکھیں گے اور جہاں قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھرتے دیکھیں گے، وہاں کاری ضرب لگائیں گے۔

ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ اسلام آباد اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں کورونا کا مرکز بن جانے والے علاقوں کو سیل کر دیا جائے گا۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو، اور اس وائرس کے سامنے ”سپیڈ بریکر“ لگائے جا سکیں، اس کی رفتار کو محدود کیا جا سکے۔ وزیر اعظم بار بار اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں اس وائرس سے نجات نہیں ملنے والی، جب تک اس کی ویکسین دریافت نہیں ہو گی، یہ ہمارے درپے رہے گا۔ اس سے کوئی مفر نہیں ہے۔ ان کی ایسی گفتگو سن کر یوں لگتا ہے کہ کورونا حوصلہ پکڑ لیتا ہے ؎

Read more

شہباز شریف کی گرفتاری اور برابر کی اکثریت

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کی طرف سے ہر صبح کرنل شفیق کورونا وائرس کے متاثرین کے بارے میں تازہ ترین اعداد و شمار جاری کرتے ہیں۔ آج جبکہ یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، 93983 کیسز کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ 32581 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ 1265 افراد کی حالت نازک ہے۔ ملک بھر کے 747 ہسپتالوں میں پانچ ہزار 60 مریض داخل ہیں۔ بڑی تعداد اپنے گھروں میں خلوت اختیار کیے ہوئے ہے۔ کاروبار زندگی معمول کے مطابق چلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

Read more

پی آئی اے حادثہ: محفوظ سفر کا ”خواب“

پی آئی اے کا مسافر طیارہ جس نے رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ کو جمعۃ المبارک کے دن ایک بج کر دس منٹ پر لاہور کے علامہ اقبال ہوائی اڈے سے اڑان بھری تھی، منزل مقصود کراچی پہنچ کر زمین کو نہ چھو سکا، اور ہوائی اڈے سے ایک، دو منٹ کی مسافت پر گنجان آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس میں عملے سمیت 99 افراد سوار تھے، دو مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے۔ پنجاب بینک کے سربراہ ظفر مسعود اور ایک نوجوان انجینئر محمد زبیر اب ہسپتال میں زیر علاج ہیں، انہیں کوئی بڑی چوٹ نہیں آئی، دونوں ہوش میں ہیں اور اپنے بچنے کی کہانی بھی بیان کر چکے ہیں۔

ظفر مسعود کا کہنا ہے کہ یوں لگا، کسی نے انہیں نشست سمیت اٹھا کر باہر پھینک دیا ہو۔ محمد زبیر کو بھی یاد نہیں کہ یہ معجزہ کیسے ممکن ہوا۔ انہوں نے حادثے سے پہلے کی تفصیل البتہ یہ بتائی ہے کہ پرواز بالکل ہموار تھی۔ راستے میں کوئی الجھن یا دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ کراچی پہنچ کر پتہ چلا کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر نہیں کھل رہے۔ ہوا باز نے ایک چکر لگایا اور مسافروں نے کلمے کا ورد شروع کر دیا۔ چند ہی لمحوں بعد آگ کے شعلے تھے، اور شوروغوغا تھا، جہاز حادثے کا شکار ہو چکا تھا۔ یہ ایک گنجان آبادی پر گرا، کئی مکان زمین بوس ہو گئے، اور درجنوں افراد جو اپنے اپنے گھروں میں بصد اطمینان بیٹھے ہوئے تھے، آناً فاناً ملبے کے ڈھیر پر تھے۔

Read more

کورونا کے ساتھ زندگی گزارنی ہے

پوری دنیا کو کورونا وائرس نے چکرا کر رکھ دیا ہے۔ انسانی تاریخ کی یہ انوکھی وبا انسانوں سے انسانوں کو منتقل ہوتی ہے، گویا اس سے بچنے کے لیے انسان کا انسان سے فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ بعض اوقات اس کی کوئی علامت بھی ظاہر نہیں ہو پاتی، اور یہ انتہائی خاموشی کے ساتھ ایک جسد خاکی سے دوسرے جسد خاکی میں منتقل ہو جاتی ہے۔ تین لاکھ سے زائد افراد اس کی وجہ سے لقمۂ اجل بن چکے ہیں، جبکہ لاکھوں بستر علالت پر پڑے ہیں، وہ معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے۔

Read more

حکومت کا ڈھیلا پن اور مشکلات

کورونا وائرس کا سامنا جس طرح کرنا چاہیے تھا، اور جس طرح کیا گیا، یہ سوال اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ جو کچھ ہو گیا سو ہو چکا، پہیہ الٹا نہیں گھمایا جا سکتا، لیکن جو اب ہونا چاہیے یا اب ہو سکتا ہے، اس پر بحث کی جا سکتی ہے، اور کی بھی جانی چاہیے۔ یہ وبا اپنی تمام تر تباہ کاریوں کے ساتھ ہمارے سروں ہی پر نہیں منڈلا رہی، ہمارے درمیان دندنا رہی ہے، اور ہر روز اس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

Read more

اور وزیر اعظم ہاؤس کا اجلاس ختم ہو گیا

وزیر اعظم ہاؤس میں آج صبح ہی سے بڑی چہل پہل ہے۔ فروری کی 20 یا 21 تاریخ ہے۔ صوفوں اور کرسیوں کو ترتیب سے رکھا جا رہا ہے۔ رگڑ رگڑ کر ان کی میل صاف کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کا ذاتی عملہ بھی آتا جا رہا ہے۔ ملٹری سیکرٹری، اے ڈی سی چاق و چوبند کھڑے ہیں۔ نواز شریف وزیر اعظم تھے تو یہاں ان کا دفتر تھا اور رہائش بھی۔ ان کے ملاقاتی یہیں آتے اور

Read more

کورونا اور رمضان المبارک: حکومت قوت ارادی کا مظاہرہ کرے

دنیا بھر میں کورونا یلغار جاری ہے، ایک غیر مرئی ذرّے نے عالمی طاقتوں تک کو عاجز کر رکھا ہے۔ بائیس لاکھ افراد اس سے متاثر ہو چکے اور ایک لاکھ سے زیادہ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ہسپتال مریضوں کے لیے ناکافی پڑ گئے ہیں، ہنگامی بنیادوں پر نئی سہولتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، تاکہ متاثرین کی نگہداشت کی جا سکے۔ کورونا متاثرین میں سے جو جان کی بازی ہار جاتے ہیں، ان کی تدفین کے لیے

Read more

وہ ”مولوی“ بھٹو کی پھانسی نے جسے بدل ڈالا

مولوی سعید اظہر ہمارے کوچۂ صحافت کی ایک منفرد شخصیت تھے۔ بیسویں صدی کے ساتویں عشرے کے آخری سال کراچی سے لاہور منتقل ہوا تو ہفت روزہ ”زندگی“ کے مدیر معاون کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ جناب الطاف حسن قریشی کے زیر نگرانی دھماکہ خیز صحافت کا آغاز ہوا، اور پہلے ہی شمارے سے ہمارے ہفت روزہ نے اپنی دھاک بٹھا دی۔ اس کی 25 ہزار کاپیاں ہاتھوں ہاتھ نکل گئیں، مارکیٹ سے مزید کا تقاضا ہونے لگا۔ دوسرے

Read more

ہمارے جاوید صاحب

جنگ میڈیا ایمپائر کے چیئرمین اور پبلشر میر جاوید رحمن کو جب تنفس کی بحالی کے لیے وینٹی لیٹر لگانے کا فیصلہ ہوا تو ان کی اہلیہ غزالہ نے ڈبڈباتی آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا۔ انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں تھی، سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنی صحت کی بحال کی امید کرتے ہوئے انہوں نے یہ الفاظ بھی ادا کرنا ضروری سمجھے کہ جو اِس دُنیا میں آیا ہے، اُسے ایک دن واپس جانا ہے۔ (اس لیے گھبرانے کی

Read more

وزیراعظم اپنا لہجہ بدلیں

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دُنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد چھ لاکھ کو چھونے والی ہے۔ ان میں سے ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد صحت مند ہو چکے ہیں۔ 27 ہزار سے کچھ زائد لقمہ اجل بن گئے ہیں، چار لاکھ سے زائد روبصحت ہیں جبکہ 23 ہزار کے لگ بھگ کی حالت نازک ہے۔ چین ’جہاں سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا، وہاں چین کی بانسری بجائی جا رہی ہے۔ ووہان

Read more

کورونا چیلنج کا مقابلہ

کورونا وائرس دُنیا بھر میں جو قیامت ڈھا چکا ہے اور ڈھا رہا ہے، اس کی تفصیلات سب پر واضح ہیں، ترقی یافتہ امیر ترین ممالک بھی سہمے ہوئے ہیں۔ اِس کا کوئی مؤثر علاج ابھی تک ڈھونڈا نہیں جا سکا، نہ ہی کوئی ویکسین دریافت ہو سکی ہے، لیکن کوششیں زوروں پر ہیں۔ تجربات ہو رہے ہیں، مختلف ادویات آزمائی جا رہی ہیں، بعض کے مفید اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جوش میں

Read more

دہلی کے تڑپتے لاشے اور پرویز ہود بھائی

ابھی ابھی مَیں نے نئی دہلی سرکار کے تحت کام کرنے والے ”دہلی اقلیتی کمیشن“ کی مرتب کردہ رپورٹ کی تفصیلات سنی ہیں، یہ کلپ مجھے برادر عزیز سلیم منصور خالد نے آج ہی بھجوایا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دو ہزار کے لگ بھگ باگڑی لوگ دہلی میں بلائے گئے۔ انہیں مختلف سکولوں میں ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے گھروں، املاک اور مسجدوں پر حملے کیے، اور درجنوں افراد کو ہلاک کر ڈالا، ابھی تک مرنے

Read more

نعمت اللہ خان۔ ۔ ۔اور تلوار ٹوٹ گئی

نعمت اللہ خان، اہلِ کراچی کے لئے اللہ کی ایک خاص نعمت تھے۔ گزشتہ دِنوں اِس دارِ فانی میں نو عشرے گزار کر وہ یہاں سے رخصت ہوئے تو اُنہیں الوداع کہنے کے لیے ہزاروں لوگ امڈے چلے آئے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق بطور خاص کراچی پہنچے اور اُن کی نمازِ جنازہ کی امامت کی۔ کوئی سیاسی جماعت، کوئی مکتبِ فکر اور کوئی شعبۂ زندگی ایسا نہ تھا جس کا نمائندہ یہاں موجود نہ ہو۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ متعدد وزرا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے۔

Read more

کورونا سے مودی وائرس تک

دنیا بھر میں کورونا وائرس نے اودھم مچا رکھا ہے۔ ہزاروں افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں، لقمہ اجل بن جانے والوں کی تعداد بھی چار ہندسوں کو چھو رہی ہے۔ اگرچہ کہ اس کا ہر بیمار موت کے منہ میں نہیں چلا جاتا، ایسے افراد کی تعداد شاید دو یا تین فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ بوڑھوں اور بچوں، یا موذی امراض میں مبتلا افراد ہی پر اس کا حملہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے، لیکن اس کا کوئی علاج تاحال دریافت نہ ہونے کے سبب اور ایک انسان کو چھونے یا اس کے قریب بیٹھنے سے وائرس دوسرے انسان تک پہنچ جانے کی وجہ سے خوف و ہراس بہت زیادہ ہے۔

Read more

مہاتیر محمد کا استعفے کا اعلان

ملائیشیا کے 95 سالہ وزیراعظم مہاتیر محمد نے اعلان کیا ہے کہ وہ نومبر میں استعفا دے سکتے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ان کے بعد 72 سالہ انور ابراہیم وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔ کسی ایک شخص کی سبکدوشی کے بعد کسی دوسرے شخص کا عہدہ سنبھالنا بظاہر ایک معمول کی بات ہے لیکن ڈاکٹر مہاتیر کی جگہ انور ابراہیم کا اقتدار سنبھالنا معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ان دونوں کے تعلقات کی کہانی محبت و نفرت اور

Read more

رجب طیب اردوان جو سوال چھوڑ گئے

ترک ، جو عالمِ اسلام کے سب سے مقبول حکمران سمجھے جاتے ہیں، اور جنہیں مسلمان عوام میں ایک رول ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اسلام آباد کے دو روزہ سیاسی، جذباتی اور نفسیاتی دورے کے بعد واپس روانہ ہو گئے۔ ان کی اہلیہ اپنے سر کو پوری شدت سے ڈھانپے ہوئے ان کے ہمراہ تھیں۔ ان کے شوہر کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اِس بات کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا کہ جمہوریہ ترکیہ کی

Read more

مریم نواز کی آزادی: ڈکٹیٹر مشرف اور موجودہ حکومت کا تقابل

چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے، اور جاوید ہاشمی کوٹ لکھپت جیل میں جرمِ بغاوت کی سزا بھگت رہے تھے۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے کئی افراد جیل کی سلاخیں توڑ کر جدہ جا چکے تھے۔ جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر بنائے گئے۔ راجہ ظفرالحق کو چیئرمین کا منصب سونپا گیا، دونوں اپنے اپنے رنگ میں اپنا اپنا نقش جمانے لگے۔ جاوید ہاشمی جلد ہی گرفتارِ بلا ہو گئے۔ وہ براہِ راست

Read more

وزیراعظم کی ڈیووس میں دھوم اور جھومتے مداح

وزیر اعظم عمران خان ورلڈ اکنامک فورم کے اندر اور باہر اپنی قادرالکلامی کی دھوم مچا کر واپس اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ یہاں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ان کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھی جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اِس رپورٹ پر پہلے دن تو وزیروں اور مشیروں نے محتاط انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ لگی لپٹی رکھے بغیر گفتگو کرنے والے گورنر پنجاب

Read more

آرمی چیف کی توسیع: نظرثانی کی انوکھی درخواست

وزیر قانون جناب فروغ نسیم اور وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے خبر دی ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تین رکنی فل بنچ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ استدعا کی گئی ہے کہ اس معاملے کی سماعت کے لیے ایک بڑا بنچ تشکیل دیا جائے، اور اس کی سماعت بھی بند کمرے میں کی جائے، یعنی میڈیا کی آنکھ

Read more

نواز شریف، اکرم شیخ اور پرویز مشرف تاریخ میں داخل ہو گئے

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ایوانِ انصاف سے رخصت ہو گئے۔ ایک جج کے طور پر بھی اور ایک چیف جسٹس کے طور پر بھی ان کے کردار کو بھلایا نہیں جا سکے گا۔ ان کے مختلف فیصلے زیر بحث آتے رہیں گے، اور اپنے اپنے حصے کا خراج وصول کرتے رہیں گے۔ ان سے اختلاف کرنے والے بھی موجود رہے ہیں اور رہیں گے۔ اس وقت ان کا تفصیلی تذکرہ یا احاطہ مقصود

Read more

جب ڈھاکہ سے خبر آئی

دسمبر کا مہینہ آتے ہی سقوطِ ڈھاکہ کا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔  اس مہینے کی 16 تاریخ ہی کو ہماری وحدت کا سورج مشرق میں ڈوب گیا تھا۔ اڑتالیس سال گزرنے کے باوجود یہ زخم ہرے ہو ہو جاتے ہیں۔  1971 ء کو جب یہ خبر لاہور پہنچی تھی تو اس پر رد عمل کیا تھا؟ 17 دسمبر یعنی اگلے روز ہی میرے زیر ادارت شائع ہونے والے ہفت روزہ ’زندگی‘ کا جو اداریہ لکھا گیا اور

Read more

قومی مفاد کی عینک

اخباری رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومتی قانونی ٹیم کی کارکردگی کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی ٹیم نے عدالت عظمیٰ کو مطمئن کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اور عدالتی فیصلہ قانونی ٹیم کی فتح ہے۔ مزید فرمایا گیا ہے کہ فیصلے سے ملکی اداروں میں تصادم چاہنے والوں کو شکست ہوئی، اپنا پیسہ بچانے والے اس مافیا کو آئندہ بھی مایوسی ہو گی۔ 15 ماہ تک زور لگانے والا مافیا ناکام

Read more

جب بھٹو صاحب ”نیا پاکستان“ بنانے لگے تھے

برادرِ عزیز ظہیر احمد کا شمار پاکستان کے ان بہادر اخبار نویسوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کئی عشرے پوری جرات اور ہمت کے ساتھ رپورٹنگ کا حق ادا کیا ہے۔بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں سندھ میں جو کچھ ہوتا رہا کسی کی بھی پروا کئے بغیر ان کا قلم اس کی تصویر کھینچتا رہا۔ میرے زیر ادارت شائع ہونے مختلف ہفت روزوں کے وہ خصوصی نمائندے رہے۔ برادرم محمد صلاح الدین شہیدکا ہاتھ بھی بٹایا۔ وہ حیدرآباد سے

Read more

”چودھری مشورے“

پنجاب اسمبلی کے سپیکر، پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ، اور مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان (اور ان کی حکومت) کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سب کاموں کو چھوڑ کر معیشت اور گورننس کی طرف توجہ دیں۔ حکومت کا یہ کام نہیں کہ گرفتاریوں کے لیے نیب کو مشورے دے۔ احتساب کا کام نیب کے ذمے ہے، اسے اپنا یہ فرض ادا کرنے دینا چاہیے۔ حکومت

Read more

… اور دھرنا جاری ہے

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ابھی تک اسلام آباد کے پشاور موڑ پر جما ہوا ہے۔ آگے بڑھا ہے نہ پیچھے ہٹنے کو تیار ہے۔ مولانا نے عید میلاد النبیؐ کے حوالے سے ایک بڑی سیرت کانفرنس کے انعقاد کا اشتہار بھی جاری کر دیا ہے۔ اس کے مطابق ”رہبر شریعت پیر طریقت حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقش بندی، حضرت مولانا محمد ادریس آف اکوڑہ خٹک، حضرت مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا معید یوسف، حضرت مولانا محمد اسماعیل

Read more

مولانا صاحب کا ”ورنہ“

اسلام آباد پہنچ کر آزادی مارچ، ایک بڑے جلسے میں تبدیل ہو گیا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے چوٹی کے رہنما بھی مولانا کی آواز سے آواز ملانے پہنچ گئے۔ شہباز شریف نے دھواں دھار تقریر کی، اور جو جو کچھ وزیر اعظم عمران خان کو کہہ سکتے تھے، کہہ گزرے۔ پتھر دِل، مغرور، خالی دماغ۔ بلاول بھٹو زرداری ’جن کے بارے میں ان کے ترجمان بار بار دھمکی دے رہے تھے کہ جلسہ جمعہ کو ہو گا

Read more

نواز شریف کے لیے ”سوغات“

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور کروڑوں پاکستانیوں کے دِلوں کی دھڑکن۔ نواز شریف۔ اِس وقت لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ہسپتال کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور میڈیا رپورٹروں کا ہجوم ہے۔ سڑک کا ایک حصہ ڈی ایس این جیز (DSNG) نے گھیر رکھا ہے۔ ایک ایک لمحے کی عکس بندی ہو رہی ہے۔ جو کچھ ٹی وی سکرین پر جگہ نہیں پا رہا وہ آرکائیوز میں محفوظ ہو رہا ہے۔ دور و نزدیک

Read more

مولانا کی ’’بند مٹھی‘‘

حضرت مولانا فضل الرحمن کا ”آزادی مارچ‘‘ فراٹے بھر رہا ہے۔ حکومت نے ان سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں جو کمیٹی قائم کی ہے، اس کے ناموں کا اعلان ہو چکا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی اس کارِ خیر میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے۔ یہ سارے حضرات جہاندیدہ اور

Read more

کیا نواز شریف سے بات چیت کے لئے انہیں جیل سے نکالا گیا ہے؟

مولانا فضل الرحمن کے ”آزادی مارچ“ کا آغاز تو کم و بیش دو ہفتے بعد ہونا ہے، لیکن اس کا تذکرہ ”مومینٹم“ (Momentum) پکڑ رہا ہے، یا یوں کہیے کہ اس میں ”زورِ حرکت“ پیدا ہو رہا ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز کا تو یہ پسندیدہ موضوع ہے ہی، اخباری صفحات بھی اس سے بھرے پڑے ہیں۔ اس کے مخالف حامیوں سے زیادہ پُر جوش ہیں۔ وزرائے کرام کو اس کا تذکرہ مرغوب ہے، حکومتی حلقوں سے قریبی تعلق رکھنے والے یا قریبی تعلق پیدا کرنے کی خواہش رکھنے والے اس پر اظہارِ خیال فرضِ اولین سمجھتے ہیں، اور تو اور ہمارے پیارے مفتی عبدالقوی بھی میدان میں اُتر چکے ہیں۔

Read more

وزیر اعظم ”اِن“ وائٹ ہاؤس اور احتساب کا کالا پانی

وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے امریکہ پہنچ چکے ہوں گے یا پہنچنے والے ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق ان کی دو ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ظہرانہ بھی وہ وائٹ ہاؤس ہی میں تناول کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کی ساخت اور انداز کو مد نظر رکھ کر مبصرین اندازے لگا رہے ہیں کہ۔ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے ”دیوانے“ دو۔ دونوں غیر روایتی لیڈر ہیں، اپنے اپنے سیاست دانوں اور اپنے اپنے میڈیا ہاؤسوں

Read more

جنابِ وزیراعظم! بس ایک نظر

پاکستان کی معیشت اور سیاست کے محافظ جو کچھ کر رہے ہیں،اور اپنے اقدامات سے جن نتائج کی توقعات باندھے بیٹھے ہیں،ان کے بارے میں ہر ایک کی رائے اپنی اپنی ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پہلے سیاست کو اُلجھایا گیا،پھر معیشت بھی زیر دام آ گئی۔ یوں ترقی کی گاڑی رُک گئی۔ انتخابات سے پہلے شرح نمو6فیصد کو چھونے والی تھی۔ مالیاتی خسارہ قابو میں تھا۔ محصولات کی آمدنی میں پانچ سال کے اندر اندر سو فیصد

Read more

مذاقِ معیشت اور سیاست

مولانا فضل الرحمن صاحب مدِظلہ کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا انعقاد عین اس روز ہوا جس روز پاکستانی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف نبرد آزما تھی۔ پاکستانیوں کے دو ہی شوق ہیں، کرکٹ اور سیاست۔ دونوں کھیل انہیں پسند ہیں۔ کرکٹ دیکھنے کے لیے ان کے ٹھٹھ لگ جاتے ہیں، اور ہزاروں میل دور ہونے والا میچ بھی قریب نظر آتا ہے۔ ٹیلی ویژن سکرین کے ذریعے آپ کھیل کے میدان میں جا موجود

Read more

عمران خان نوازشریف کی سزا معطل کرنے کی سفارش کریں

مریم نواز شریف کی پہلی باقاعدہ پریس کانفرنس پاکستانی سیاست (اور مسلم لیگ ن) پر کیا اثرات مرتب کرے گی، اس بارے میں اس وقت کوئی فیصلہ کن گفتگو تو نہیں کی جا سکتی کہ پاکستانی سیاست کا اونٹ (یا مولانا مودودیؒ مرحوم کے بقول گدھا) کسی بھی وقت کوئی بھی کروٹ لے سکتا ہے۔ اگر مولانا کے الفاظ سے استفادہ کیا جائے تو کروٹ لینے کی ضرورت ہی نہیں رہتی، پھر بحث دولتّیوں پر ہو گی کہ کس کو

Read more

فولاد ہے مومن؟

عید کے بعد کیا ہو گا؟ یہ سوال پاکستان کے سیاسی اور میڈیائی حلقوں میں شدت سے زیر بحث ہے۔ جہاں بھی سیاسی موضوعات سے دلچسپی رکھنے والے دو، چار افراد اکٹھے ہوتے ہیں یہ سوال زیر بحث آ جاتا ہے۔ جن لوگوں کو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ بھی اِس سوال سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی افطار بیٹھک ’جو رمضان کے مہینے میں بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی، اور

Read more

وزیر اعظم مودی کی واپسی

بھارتی انتخابات مکمل ہو چکے، وزیر اعظم نریندر مودی آئندہ پانچ سال کے لیے بھی اپنے منصب پر براجمان رہیں گے۔ لوک سبھا میں بی جے پی کے ارکان کی تعداد 282 سے بڑھ کر 303 ہو گئی ہے۔ (کانگرس کے حصے میں صرف 52 نشستیں آئی ہیں)۔ اتحادیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد 353 تک پہنچ جاتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 2014ء میں ”مودی لہر‘‘ (WAVE) اُٹھی تھی تو 2019ء میں ”مودی سونامی‘‘

Read more

دخل اندازی کا کفارہ کیا ہو سکتا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ان معاشی مشکلات سے نمٹنے میں لگی ہوئی ہے، جو سب کی سب اس نے پیدا نہ کی ہوں، تو بھی ان میں اضافہ ضرور کیا ہے۔  ہر شخص کو معلوم تھا کہ پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں مبتلا تھا۔ اس کی درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں۔  اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات اس خلا کو کم تو کرتی ہیں ’پورا نہیں کر سکتیں۔  براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی نہ ہونے کے

Read more

مٹی کے کھلونے

وزیر خزانہ اسد عمر کی سبکدوشی کی خبر انتہائی دھماکہ خیز تھی۔ رات کو کامران خان صاحب کے نیوز شو میں انہوں نے ایک گھنٹہ طویل انٹرویو دیا، اور مستقبل کے حوالے سے اپنے لائحۂ عمل پر بھی روشنی ڈالی۔ وہ مطمئن تھے کہ مشکلات کم ہو گئی ہیں اور آنے والے دن گزر جانے والے دِنوں سے بہتر ہوتے جائیں گے۔ ان کے کسی فقرے یا لفظ سے کوئی گھبراہٹ ظاہر نہیں ہو رہی تھی۔ پورے اعتماد اور اطمینان

Read more

مجھ کو بھی شرمسار کر

بھارت میں 17ویں لوک سبھا چننے کے لئے انتخابی عمل چند روز پیشتر شروع ہو چکا ہے۔ یہ مئی کے تیسرے ہفتے میں مکمل ہو گا اور چوتھے ہفتے میں ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ 23 مئی کو اعلان ہو جائے گا کہ آئندہ پانچ سال کے لئے بھارتی وزیر اعظم کس کو بننا ہے۔ نریندر مودی ایک بار پھر تخت پر بیٹھیں گے یا راہول گاندھی، اپنے والد اور دادی کی گدی پر براجمان ہونے میں کامیاب ہو

Read more

کرائسٹ چرچ سے بہاول پور تک

نیوزی لینڈ کی 39 سالہ خاتون وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے سانحۂ کرائسٹ چرچ کے بعد جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا، اس نے اُنہیں ممتاز عالمی مدبرین کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ اِس وقت کوئی بھی صدر یا وزیر اعظم اُن کے برابر نظر نہیں آ رہا۔ اُن کا قد اتنا بڑھ گیا ہے کہ بڑے بڑوں کو اُنہیں دیکھنے کے لئے آنکھیں دور تک اوپر اٹھانا پڑتی ہیں۔ دو مسجدوں میں نمازِ جمعہ کے دوران کیے گئے حملوں نے متعدد کلمہ گوؤں کو تو شہید کیا، بہت سوں کو زخمی کر دیا، لیکن نسلی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جو بند محترمہ نے باندھا، اس نے بھی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ جس طرح انہوں نے اپنے مسلمان شہریوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کیا، اور اپنے ہم وطنوں کو اپنے ساتھ شریک کیا، اس نے دُنیا بھر کے مسلمانوں کے دِل تو جیتے ہی، خود نیوزی لینڈ ہی کو نہیں پورے یورپ، بلکہ پوری مغربی دُنیا کو خود حفاظتی کے ایک نئے لائحہ عمل سے روشناس کرا دیا۔

Read more

دو نہیں۔ ۔ ۔ ایک عمران خان

اس میں کوئی شک نہیں کہ پلوامہ حملے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے جو اقدامات بھی کیے ، ان سے نہ صرف جنگ کا خطرہ ٹلا بلکہ دُنیا بھر میں ایک ریاست کے طور پر پاکستان کا اور ایک سربراہِ حکومت کے طور پر عمران خان کا امیج بلند ہوا۔ پاکستانی افواج نے جن دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، اور ہماری فضائیہ نے جس طرح ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کی، اس کا اعتراف دُنیا بھر میں کیا گیا۔ غیر جانبدار مبصرین اور تجزیہ کار بھارتی حکومت اور اس کے فوجی ترجمانوں کے دعووں کو مضحکہ خیز قرار دیتے رہے، اور ایک بار پھر بھارت کے بلند بانگ دعووں کا پول کھل گیا۔

Read more

صندوق اور ”بندوق“ کے سامنے

گزشتہ دو اڑھائی مہینوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان جو کچھ ہوتا رہا، بظاہر تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، لیکن یہ تاریخ ایسی ہے جو بار بار خود کو دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پردھان منتری نریندر مودی کی انتخابی سیاست نے بھارتی معاشرے میں جنگی جنون کو جس طرح ہَوا دی، وہ کسی بھی وقت کچھ کرکے دکھا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کھلم کھلا کہا ہے کہ جو کچھ کیا گیا وہ ”پائلٹ پروجیکٹ“ تھا۔گویا یہ انجام نہیں آغاز تھا۔ اِس آغاز کا انجام کیا ہو گا، وہ اِس بارے میں زیادہ غور و خوض پر تیار نہیں ہیں۔ دُنیا بھر کے مبصرین کہہ رہے ہیں کہ مودی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے، اور کوئی بھی کرتب دکھا سکتے ہیں۔ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ جذبات کی آگ کو ہَوا نہ دی جائے، اس پر پانی ڈالا جائے، دونوں مُلک ایک دوسرے کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھیں، اور مسائل حل کرنے کی پُرامن کوششوں کا آغاز کریں۔

Read more

پاک سعودی ”پارٹنرشپ“

سعودی عرب کے ولی عہد اور مردِ آہن شہزادہ محمد بن سلمان کی آمد آمد ہے۔  جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے، تو ان کی آمد میں محض چند گھنٹے باقی بچے ہوں گے۔  اُن کے شاہانہ استقبال کی تیاریاں جاری ہیں۔  پروٹوکول کے روایتی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اپنی کابینہ کے ہمراہ ہوائی اڈے پر اُن کے استقبال کے لیے موجود ہوں گے۔  اُنہیں اکیس توپوں کی سلامی دی جائے

Read more

اپوزیشن کی اپوزیشن

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے احتجاجی سیاست میں بڑا نام پیدا کیا ہے۔ انہوں نے دو عشروں کے لگ بھگ اس کی پریکٹس کی اور بالآخر اپنے حریف اول نواز شریف کی تینوں وکٹیں اڑانے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک کرکٹر کے طور پر تو دنیا ان کا اعتراف کرتی ہے۔ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے ان کی فتوحات میں بھی کوئی کلام نہیں۔ ان کی کرکٹ کہانی تجربے اور سسپنس سے

Read more

ساہیوال سانحے کے قابل غور پہلو

سانحہ ساہیوال کو سات روز گزر چکے لیکن اس کے خلاف غم و غصہ ابھی تک کم نہیں ہوا۔ اِس سانحے کو واردات کہا جائے تو بھی غلط نہ ہو گا۔ ایک بے گناہ شہری اور اُس کے خاندان کے کئی افراد کو اُس کے بچوں کے سامنے بھون کر رکھ دینا ایسی بات ہے بھی نہیں‘ جسے بآسانی بھلا دیا جائے۔ کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تربیت یافتہ افسروں اور اہلکاروں نے اس گناہِ کبیرہ کا ارتکاب

Read more

چھیالیس سال کا لمحہ

نماز عصر ادا کی جا چکی تھی، جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کراچی سے آئے تھے، شاہ خالد کے معالج ڈاکٹر غلام اکبر خان نیازی بھی موجود تھے۔ لیاقت بلوچ، منفرد دانشور احمد جاوید، الخدمت کے سربراہ عبدالشکور، برادران حفیظ اللہ نیازی اور وحید چودھری، ڈاکٹر فرید پراچہ، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ، مولانا مودودی کے بڑے اور چھوٹے صاحبزادے سید عمر فاروق اور خالد فاروق، میاں طفیل محمد کے فرزند ارجمند احسن اور جماعت اسلامی کے کئی

Read more

زندہ اور مردہ پروفیسروں کی ”لاشیں‘‘

جب وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد میں اپنی دعوت پر دُنیا بھر سے جمع ہونے والے اساتذہ اور اہلِ علم کا استقبال کر رہے تھے۔ 137.5 ایکڑ کو محیط پاکستان کے وزیر اعظم ہائوس میں نیشنل یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کر رہے تھے۔ خلیفہ ہارون الرشید کے بغداد میں قائم کردہ ”بیت الحکمت‘‘ کو یاد کر رہے تھے کہ وہ حصولِ علم کا ایک بین الاقوامی مرکز تھا، جہاں مردانِ تحقیق تجربات و ایجادات میں جُتے رہتے تھے،

Read more

تیس لاکھ بنگالیوں کا قتل؟

دسمبر کا مہینہ جب بھی آتا ہے، 1971ء کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ ایک بار پھر یہ موضوع زیر بحث آ جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کیسے بنایا گیا؟ اس سوال کا کوئی ایک سطری جواب ممکن نہیں ہے: وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا سازشوں اور حماقتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس نے مملکت خداداد پاکستان کو دولخت کیا، لیکن بد قسمتی سے حقائق کی تہہ تک پہنچنے کا نعرہ

Read more

مردہ باد کا ’’تمغہ‘‘

پاکستانی سیاست، عسکریت، عدالت اور صحافت میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے، جس پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ کارٹون بنائے جا سکتے ہیں۔ ناٹک رچائے جا سکتے ہیں، لیکن ہر چوٹ ایسی نہیں ہوتی کہ جس کے اثرات فوراً ظاہر ہو جائیں، ایسی بھی نہیں ہوتی جس کی علامات فوراً دیکھنے میں آ جائیں، ان چوٹوں میں کئی دِل کی چوٹوں جیسی ہوتی ہیں کہ جو دِل کے ساتھ ساتھ رہتی ہیں، جب تک دِل دھڑکتا ہے، چوٹیں

Read more

پہلا دیانتدار وزیراعظم؟

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اپنے پہلے سو دن مکمل کر چکی۔ اس موقع پر اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں ایک پرجوش اجتماع کا اہتمام کیا گیا، جس میں تحریک انصاف کے متوالوں کے ساتھ ساتھ اہلِ ثقافت اور صحافت بھی موجود تھے۔ سو دنوں میں کیے جانے والے اقدامات اور اعلانات کا جائزہ پیش ہوا۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد ارباب نے نکتہ بہ نکتہ اپنے اعمال پر روشنی ڈالی۔ وزیر خزانہ اور خارجہ بھی بولے

Read more

چین پر بھارت سے حملہ؟

دو روز پہلے پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بنا۔ کراچی کے چینی قونصل خانے پر تین دہشت گرد حملہ آور ہوئے، لیکن پولیس اور رینجرز کی چوکسی نے انہیں ناکام بنا دیا۔ تینوں حملہ آور مارے گئے، دو پولیس اہلکار اور دو شہری شہید ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور قونصل خانے کے اہلکاروں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے، لیکن وہ دہلیز ہی پر دھر لئے گئے۔ اسے پولیس کی ایک بڑی کامیابی گردانا

Read more

لیڈر کا یو ٹرن

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں اخبار نویسوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لیڈر حالات کے مطابق یو ٹرن نہ لے ،وہ لیڈر ہی نہیں۔جو یو ٹرن لینا نہیں جانتا، اس سے بڑا بیوقوف نہیں ہوتا۔یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہٹلر اور نپولین اگر یو ٹرن لے لیتے تو انہیں شکست نہ ہوتی۔مزید فرمایا کہ لیڈر حالات اور واقعات کو مدنظر رکھ کر سٹرٹیجی اور لائحہ عمل میں تبدیلی لاتا ہے۔ خان صاحب

Read more

مولانا سمیع الحق کا آخری کارنامہ

توہینِ رسالتؐ کے الزام سے آسیہ (یا عاصیہ) مسیح کی بریت کے خلاف ملک بھر میں دھرنے جاری تھے۔ کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا تھا۔ پنجاب اور سندھ میں تعلیمی ادارے بند تھے۔ سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ گاڑیوں اور جہازوں کی آمد و رفت معطل تھی۔ تحریک لبیک پاکستان کے حامیوں کی ٹولیاں جگہ جگہ معمولاتِ زندگی میں خلل ڈال رہی تھیں۔ موٹر وے پر سفر کرنا ممکن نہیں رہا

Read more

وزیراعظم کی انگلیاں

لاہور، اسلام آباد کے درمیان جب سے موٹروے تعمیر ہوئی ہے، وہاں قیام مختصر ہو گیا ہے۔ صبح روانہ ہوتے ہیں اور کام سمیٹ کر شام کو گھر واپس آجاتے ہیں۔ جب جی ٹی روڈ سے جانا ہوتا تھا تو یک طرفہ سفر اتنا لمبا ہو جاتا کہ اسی دن واپسی کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کاموں کی گٹھڑی بناتے رہتے اور ہفتوں سوچنے کے بعد عازم سفر ہوتے۔ دو تین دن وہاں پڑاؤ ڈالتے، پھر ہانپتے کانپتے

Read more

اہلِ علم کی بے توقیری

سیاست اور معیشت کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سیاست کی پیدا کردہ بے یقینی معیشت کو لے بیٹھتی ہے اور معیشت کا بحران سیاست کو بنجر کر دیتا ہے۔ پاکستانی اہلِ سیاست (اور صحافت) دونوں نے معیشت کو اپنی اولین ترجیح قرار نہیں دیا، انہوں نے نعروں اور بڑھکوں کے ذریعے مقدر سنوارنے کے جو تجربے کئے، اس نے قوم کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ذوالفقار

Read more

نیب اور سیاست

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کو نیب لاہور نے کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ اُنہیں گرفتاری کے اگلے روز احتساب عدالت میں پیش کرکے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا گیا، گویا وہ آئندہ دس روز نیب کے دفتر میں قائم حوالات کے کسی سیل میں رہیں گے اور اپنے اوپر قائم مقدمے کے حوالے سے سوالوں کے جوابات دیں گے۔ دلچسپ بات یہ

Read more

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی: ایک صدی کا انسان

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو اس دنیا سے رخصت ہوئے انتالیس برس ہو گئے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اچھرہ لاہور کے جس مکان کو اپنا مسکن بنایا تھا اسی کا ایک گوشہ ان کی آخری آرام گاہ قرار پایا۔ یہیں وہ ابدی نیند سو رہے ہیں۔ چند برس بعد ان کی اہلیہ نے بھی اسی مکان میں آخری ہچکی لی اور ان ہی کے برابر آسودہ خاک ہو گئیں۔ ان دونوں کی کچی قبریں اب اس گھر کی

Read more

ڈاکٹر حسن صہیب مراد۔۔۔ ایک تارہ فلک سے ٹوٹ گیا

ڈاکٹر حسن صہیب مراد اگرچہ ساٹھ کے ہندسے کو چھونے والے تھے لیکن ان میں کہولت اور تھکاوٹ کا شائبہ تک نہیں تھا۔ توانائی سے بھرپور، لہجے میں عنفوانِ شباب کی جھلک تھی۔ ان کے پاس بیٹھنے اور ان سے باتیں کرنے کے بعد کچھ کر گزرنے، آگے بڑھنے اور اپنے ارد گرد کو بدلنے کا جذبہ بیدار ہوتا تھا۔ اپنی چال ڈھال اور گفتار سے وہ چالیس سال کے بلند ہمت معلوم ہوتے تھے۔ جو کچھ وہ کر چکے

Read more

کلثوم نواز کا آخری احسان

محترمہ کلثوم نواز لاہور کی بیٹی بھی تھیں اور بہو بھی۔ اسی شہر میں پیدا ہوئیں۔ یہیں نواز شریف جیسا دولہا نصیب ہوا اور یہیں مٹی کی چادر اوڑھ کر ہمیشہ کے لئے سو گئیں۔ لاہور ان کا میکہ تھا اور سسرال بھی۔ انھوں نے زندگی کا بہت بڑا حصہ یہیں گزارا۔ ان کے شوہر عروج و زوال کے عجب مرحلوں سے گزرے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر یہاں جھنڈا گاڑا۔ تین بار وزیر اعظم بن کر اسلام

Read more

چھ ستمبر سے تازہ ملاقات

53 سال پہلے ستمبر کی 6 تاریخ کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستانی قوم صدارتی انتخاب کی لگائی ہوئی چوٹوں کو سہلانے میں مصروف تھی۔ اس سال کے آغاز ہی میں محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں فیلڈ مارشل ایوب خان صدر منتخب ہوئے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران تلخی عروج کو پہنچی ہوئی تھی۔ محترمہ کو اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر اپنا امیدوار چنا تھا۔ ان کی طرف سے قبولیت کے اعلان نے ایوان صدر

Read more

راہِ امن کے دو مسافر: واجپائی اور کلدیپ نیئر

اگست کے مہینے میں یکے بعد دیگرے ہندوستان سے دو افسوس ناک خبریں آئیں۔ 16 اگست کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی چل بسے اور ٹھیک سات دن بعد کلدیپ نیئر نے آخری سانس لیے۔ دونوں حضرات نے طویل عمر پائی، اول الذکر نے 94 سال تو ثانی الذکر نے 95 سال اِس دُنیائے رنگ و بو میںگزارے۔ ایک کا میدان سیاست تھا دوسرے کا صحافت۔ لیکن دونوں کو پاکستان میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا،

Read more

راہِ امن کے دو ہندوستانی مسافر

اگست کے مہینے میں یکے بعد دیگرے ہندوستان سے دو افسوس ناک خبریں آئیں۔ 16 اگست کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی چل بسے اور ٹھیک سات دن بعد کلدیپ نیئر نے آخری سانس لیے۔ دونوں حضرات نے طویل عمر پائی، اول الذکر نے 94 سال تو ثانی الذکر نے 95 سال اِس دُنیائے رنگ و بو میںگزارے۔ ایک کا میدان سیاست تھا دوسرے کا صحافت۔ لیکن دونوں کو پاکستان میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا،

Read more

وزیر اعظم عمران خان اور دستور کی شق (3)184

ابھی ابھی وزیر اعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے بعد ایوانِ صدر سے باہر نکلا ہوں۔ گزشتہ تینتس (33) سال کے دوران کئی وزرائے اعظم کو حلف اٹھاتے دیکھا۔ کبھی ایوانِ صدر آ کر تو کبھی ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اقتدار کے ایوانوں میں صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر قدم رکھا تھا۔ سبکدوش ہونے والے صدر، جنرل آغا محمد یحییٰ خان کا ارادہ طویل قیام

Read more

بدلا ہوا پاکستان؟

انتخابی عمل مکمل ہو چکا، اور ان انتخابات کے نتیجے میں (برادرم سلمان غنی کے بقول) حکومت سے پہلے اپوزیشن بن چکی۔ وہ سیاسی رہنما جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا تو کجا آنکھ ملانا بھی گناہِ کبیرہ سمجھتے تھے، ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ”دھاندلی زدہ‘‘ انتخابات کے خلاف جدوجہد کا اعلان کر دیا عشق کی اِک جست نے طے کر دیا قصہ تمام

Read more

وزیر اعظم عمران خان، مبارک

عام انتخابات مکمل ہو چکے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے نتائج کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ چند نشستوں کو چھوڑ کر جیتنے اور ہارنے والوں کے نام سامنے آ چکے۔ پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے۔ قومی اسمبلی میں اس کے ارکان سب سے زیادہ ہیں لیکن حکومت سازی کے لئے مطلوب اکثریت بنانے کے لئے اسے آزاد ارکان اور بعض یک رکنی، دو رکنی اور سہ رکنی جماعتوں کے ساتھ معاملہ

Read more

غیرمتنازع انتخابات: 25 جولائی کا بڑا امتحان

25 جولائی اب آیا ہی چاہتا ہے۔ چند روز بعد اس کا سورج طلوع ہو گا اور اہلِ پاکستان ایک بار پھر آئندہ پانچ سال کے لئے اپنے حکمران چنیں گے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان منتخب ہوں گے اور وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سربراہوں کا انتخاب کریں گے۔ پاکستان کی تاریخ حادثات اور اتفاقات سے بھری پڑی ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک یہاں باقاعدگی کے ساتھ انتخابات نہیں ہو پائے۔ ہمارے ہمسائے بھارت کو

Read more

قیامت کا ایک دن

جس روز سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور اُن کی بیٹی گرفتاری پیش کرنے کے لیے لندن سے لاہور واپس آ رہے تھے، پنجاب ہی نہیں وفاقی حکومت کی توجہ بھی اِس طرف مرکوز تھی۔ نگران وزیر قانون و اطلاعات صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کی علی الاعلان یقین دہانیاں کرا رہے تھے، پنجاب حکومت کے وزیر اعلیٰ اور جملہ پولیس افسران بھی اس طرف متوجہ تھے۔ صوبے کے نگران وزیر داخلہ چونکہ سابق انسپکٹر جنرل ہیں،

Read more

نواز شریف اور بھٹو

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کی دختر مریم کو اسلام آباد کی احتساب کورٹ نے علی الترتیب 11، اور 8 سال قیدِ سخت کی سزا سنا دی ہے۔ انہیں 165 کروڑ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا، لندن فلیٹس بھی ضبط کر لیے گئے ہیں۔ کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال کی سزا دی گئی ہے۔ نواز شریف اور مریم کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی سزا ختم ہونے کے بعد مزید دس سال انتظار

Read more

انصاف کرنے کا حق

پاکستان میں پہلے عام انتخابات اس کے قیام کے تیرہ سال بعد 1970ء میں منعقد ہوئے تھے۔ پچاس کی دہائی میں صوبوں میں تو ان کا انعقاد ہوا، لیکن مرکز تک نوبت نہیں پہنچی۔ دستور سازی کا عمل مکمل نہ ہو سکا اور یوں معاملہ لٹکتا چلا گیا۔ اگر دستور جلد بن جاتا اور انتخابات ہر پانچ سال کے بعد ہوتے چلے جاتے تو آج ہماری سیاست یکسر مختلف ہوتی۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ 1954ء میں جب (خدا خدا

Read more

دعا کریں کہ سیاست کو عدالت اور علالت سے چھٹکارا ملے

بیگم کلثوم نواز شریف لندن میں وینٹی لیٹر پر ہیں، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں اور ان کے لواحقین کو کتنا عرصہ اس اذیت میں مبتلا رہنا پڑے گا۔ بس دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکل آسان کرے اور انہیں اس دنیا میں ہنسنے بسنے کی مزید توفیق عطا کر دے‘ جس کی صورت گری کے لئے ایک زمانے میں انہوں نے بھی خون پسینہ ایک کیا تھا۔ محترمہ سے جب بھی

Read more

انتخابات کا کھیل

انتخابی شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ تحریک انصاف نے سب سے پہلے اپنے ٹکٹ یافتہ افراد کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس جاری ہے، پیپلز پارٹی بھی اپنے پتے پھینٹ رہی ہے۔ کئی دوسری جماعتیں بھی سر جوڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں، اور کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طرح اپنے وجود کو منوانا چاہتی ہیں۔ عمران خان نے

Read more

الیکشن ایکسپریس کا ڈرائیور ایک ہی ہونا چاہیے

وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں، نگران وزیراعظم نے حلف اٹھا لیا ہے، لیکن تین صوبوں میں ابھی تک نگران وزیراعلیٰ کے نام پر کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی، صرف سندھ میں سابق چیف سیکرٹری فضل الرحمن کے نام پر اتفاق ہوا تھا، اس لیے تین وزرائے اعلیٰ اپنی اپنی جگہ ہیں، اور اگر معاملہ پارلیمانی کمیٹیوں سے ہوتا ہوا الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہے، تو پھر ان کے اقتدار کی مہلت میں چند روز کی توسیع

Read more

ماضی میں پھنسا ’’مومن‘‘

بازارِ سیاست میں پہلے تو نواز شریف صاحب کے عدالتی بیان نے تہلکہ مچایا، اس کے چند ہی روز بعد پاکستان اور بھارت کے اہم ترین انٹیلی جنس اداروں (آئی ایس آئی اور، را) کے سربراہوں (لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی اور اے ایس دلت) کی ”مشترکہ تصنیف‘‘ منظر عام پر آ گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس میں بہت کچھ ایسا ہے، جسے قومی رازوں کی ”افشائی‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف صاحب نے قومی سلامتی کمیٹی

Read more

نوازشریف غدار نہیں

”ڈان‘‘ کے نمائندے سرل المیڈا کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے جو انٹرویو دیا، اس پر کئی دن گزر چکے ہیں،لیکن ہنگامہ ابھی تک اُٹھا ہوا ہے۔ ہر اخبار اور ہر چینل پر بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا میں بھی اس کے حوالے سے غبار اڑایا جا رہا ہے، نکالا بھی جا رہا ہے اور ڈالا بھی جا رہا ہے۔ اِس انٹرویو سے پہلے بھی نواز شریف کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ جاری تھی۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی

Read more

نگران وزیر اعظم کا نام

سیاست ایک قدم آگے دو قدم پیچھے، اور دو قدم آگے ایک قدم پیچھے کی رفتار سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ کبھی بے یقینی کے سائے گہرے ہو جاتے ہیں، تو کبھی یقین کی کرنیں جگمگانے لگتی ہیں۔ عبوری وزیر اعظم کے نام پر مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔ قائد حزبِ اختلاف خورشید شاہ کے ساتھ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کانا پھوسی کر چکے ہیں، اور دونوں نے اپنے ہونٹ سی لیے ہیں۔ خورشید شاہ کا کہنا

Read more