جنرل ضیاءالحق شہید کو برا کہنے والے۔۔۔


\"anwarجنرل ضیاءالحق شہید کو برا کہنے والے ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں! جنرل ضیاءالحق مرحوم نے جس طرح اسلام، مسلمانوں اور مذہبی رہنماﺅں کے لیے کام کیا وہ تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ پاکستان کے قانون اور آئین میں موجود شقوں کو اسلامی ریاست کے لیے مضبوط کرڈالا۔ شریعت کورٹ کا قیام، شرعی قوانین کا بنانا، اسلام آباد جیسے علاقے میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا قیام، اسلامی نظریاتی کونسل، حدود آرڈی نینس، دینی مدارس کا جال، مذہبی جماعتوں کے لیے پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرنا، علماءکے لیے خصوصی نمایندگی، فوج میں امام وخطیب کو صوبیدار کے مساوی کا درجہ دلوانا، مدرسوں کی عالمیہ کی سند کو ایم اے یونیورسٹی کے برابر کا درجہ دلوانا۔ اگر ضیاءالحق یہ نہ کرتے تو آج کوئی مولوی ایوان بالا تک نہ پہنچ پاتا۔ اگر وہ مذہبی جماعتوں اور دینی حلقوں کو چھوٹ نہ دیتے تو آج اسلام کا نفاذ چاہنے والوں کی تعداد 86 فیصد نہ ہوتی۔ آج جو پاکستان کا 80 فیصد آئین اور قوانین عین اسلامی ہیں یہ جنرل ضیاءالحق شہید کی مہربانیوں سے ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں گزشتہ اسمبلی میں سب سے زیادہ تعداد مولویوں کی تھی۔ قومی اسمبلی کی تاریخ میں 64 علمائے کرام کبھی نہ تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ باہم مل کر اسلامی نفاذ کے تقاضے کو آگے بڑھاتے۔ ہر جگہ اس کی راہ ہموار کرتے۔ خدمت خلق سے عوام کے دل جیتتے۔ اپنے عمل اور کردار سے ثابت کردیتے کہ علما بھی حکومت کرسکتے ہیں ، وہ بھی عصر حاضر کے تقاضوں سے بخوبی واقف ہیں

لیکن یہ حضرات ”اقدام“ تو کیا کرتے ”دفاع“ بھی نہ کرسکے۔

آج اسلامی ادارے خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ان کی روح ختم ہوچکی ہے۔ ان کا کوئی والی وارث معلوم نہیں ہوتا۔ شریعت کورٹ کا حال کیا ہے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کن لوگوں کے رحم وکرم پر ہے؟ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں قائم ”قاضی کورٹس \” کا سلسلہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ شرعی قوانین میں ترمیم ہوچکی ہے۔ 12590 دینی مدارس اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں۔ حدود آرڈی نینس اور نصاب تعلیم کو بدل دیا گیا اور یہ احتجاج تک نہ کرسکے۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو 30 لاکھ علما اور طلبہ کے ہوتے ہوئے فاسفورس بموں سے بھون ڈالا گیا۔ قانون کی رو سے جس تعلیمی نظام کے پاس 75 اسکول ہوں وہ بورڈ قائم کرسکتا ہے۔ علماءکے پاس پندرہ ہزار سے زائد مدارس یا اسلامک اسکول ہیں لیکن تاحال وہ کوئی بورڈ قائم نہیں کرسکے ہیں۔۔۔

Facebook Comments HS

5 thoughts on “جنرل ضیاءالحق شہید کو برا کہنے والے۔۔۔”

  • 18/08/2016 at 3:53 شام
    Permalink

    میری دعا ہے کہ ضیا الحق کو شہید کہنے اور لکھنے والے بھی انہی کی طرح ‘شہادت’ کا رتبہ پا کر نس جائیں۔

  • 18/08/2016 at 5:55 شام
    Permalink

    میرا گماں تها کہ پاکستان کے لوگوں نے جمہوریت و آمریت کے درمیان کی لکیر کو سمجه لیا ہے اور ملائیت و اسلام کی غلط شرح کرنے والوں میں واضح کمی آئی ہے مگر اس تحریر کو پڑهنے کے بعد میری رائے مختلف ہوگئی

  • 18/08/2016 at 8:42 شام
    Permalink

    اصل میں آپ نے موصوف کے جو محاسن گنوائے، وہی اس کے اہم ترین معائب ہیں۔

  • 19/08/2016 at 10:04 صبح
    Permalink

    salam . gen zia ne mujahidin banay jo afghanistan main ussr k khilaf lary aur jo hal ussr ka hoa wo sub ko pata hai aur os k foran bad gen zia hadsay ka shikar ho gay .. mery khayal main gen zia hadsay main na shaheed hoty tow wo mujahidin ko talban na banay dety in talban ex mujahidin ko wo muqboza kashmir main istemal krty gen zia ko time ni mila mery nazdek gen zia ko time milta tow mujahid talban na banta gen zia ne afghanistan k bad kashmir aur khalistan k liay in ex mujahidin talban ko use krna ta .. gen zia k hadsay main . raw mosad . kbg . cia ka moshtarka mission ta .

  • 21/08/2016 at 8:02 شام
    Permalink

    سارا اسلام آفغان جنگ میں بھرتی کے لئے تھا اور مقدس جہاد کو اسلام کا لبادہ اوڑھنا تھا اور اپنے کئے پر فخر بھی۔ شکر ہے کہ جلال آباد میں شکرانے کے نوافل نہیں پڑھ سکا۔ آج پوری دنیا خصوصا” اسلامی دنیا جہاد کے فیوض سے مستفید ہو رہی ہے۔

Comments are closed.