ذوالفقار چیمہ سے کچھ سوالات


\"zunairaذوالفقار احمد چیمہ (آئی جی پی موٹروے پولیس ریٹائرڈ) ایک معروف اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔ چونکہ ان کی ساری زندگی پولیس سروس میں گزری ہے تو بیشتر کالم بھی پولیس میں گزارے وقت کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ان کے کالم کا مطالعہ میں باقاعدگی سے کرتی ہوں۔ کچھ کالم پڑھ کر خوشی ہوتی ہے کہ پولیس کی سروس میں ایسے بھی لوگ تھے جنوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا  اور اسی وجہ سے بار بار ان کے تبادلے کیے جاتے رہے۔ لیکن کل کا کالم پڑھ کر احساس ہوا کہ کچھ باتیں ہماری پولیس فورس میں ایسے سرایت کر چکی ہیں کہ اب ان کے غلط یا صحیح ہونے کی تمیز بھی باقی نہیں رہی۔ جب چیمہ صاحب جیسا آدمی جعلی پولیس مقابلوں کی حمایت کرتا نظر آئے تو سمجھ لینا چاہیے کہ پولیس فورس کے ساتھ بہت کچھ ٹھیک ہونے والا ہے۔

 اپنے 17 اگست کے کالم میں چیمہ صاحب بھلوال کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں جس میں ڈاکوؤں نے ڈکیتی کرتے ہوئے فائرنگ کر کے کمپنی کے 4 ملازمین کو ہلاک کر دیا۔ بھلوال جیسے علاقے میں یہ بڑا واقعے تھا۔ آگے بتایا جاتا ہے کہ کیسے پولیس جلد ہی ملزموں تک پہنچ جاتی ہے اور ایک ملزم بڑے بے پروا انداز میں 4 بندوں کو مارنے کا اعتراف بھی کر لیتا ہے۔ آگے کی کہانی چیمہ صاحب کی زبانی سنے:

\” میں نے اس سے پوچھا \”اتنے سنگین جرم پر تمہاری سزا کیا ہونی چاہیے؟ \”گولی\”، اس نے فوراً جواب دیا \”اس کے چند گھنٹوں بعد آدھی رات کے وقت تحصیل بھلوال کے تھانہ میانی کی حدود میں اشتہاری مجرم نصیرے کے ساتھ مقابلے کی اطلاع پولیس وائرلیس  کنٹرول پر چلی تو ایس ایس پی سرگودھا نے مجھ سے فوراً رابطہ چاہا مگر میں گریز کرتا رہا۔ وہ میرے روکنے کے باوجود سرگودھا سے چل پڑے اور جب موقع  پر پہنچے تو خطرناک ڈاکو اور بیسیوں بے گناہ شہریوں کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔ مارتھ صاحب نے مجھے علیحدہ لے جا کر کہا \”آپ کی مجھ سے بات ہو جاتی تو ہو سکتا ہے میں آپ کو روکتا لیکن ہونا یہی چاہیے تھا جو ہوا۔\”

 اس کے بعد چیمہ صاحب بتاتے ہیں کہ کیسے اس کے بعد بھلوال کا امن بحال ہوا اور پولیس کی خوب واہ واہ ہوئی۔ میرا سوال یہ ہے کہ ان جیسا ایمان دار افسر جس کے پاس تمام ثبوت گواہ سمیت موجود تھے، وہ بھی جعلی پولیس مقابلوں میں ملزم مارنے پر یقین کیوں کر رکھتا تھا؟ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح  شہر میں امن ہحال ہوا۔ میرا خیال ہے کسی کو ان سے پوچھنا چاہئے کہ کیا اس طرح جھوٹ اور پولیس گردی کے کلچر کو شہ نہیں ملی؟ کیا یہی وہ طریقہ واردات نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام اس بات پر یقین ہی نہیں کرتی کہ پولیس مقابلے میں \”خطرناک\” ڈاکو مارا گیا۔ کیا اس پولیس گردی کی وجہ ہماری عدالتوں کا بوسیدہ سسٹم ہے جو کہ پیشیاں پر پیشیاں دے کر پہلے تو انصاف کے عمل میں تاخیر کرتا ہے اور پھر خطرناک ملزموں کو عدم ثبوت کی بنیاد پر رہا کر دیتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر ثبوت لانا کس کی ذمےداری ہے؟ وجہ بہرحال کچھ بھی ہو۔ ایسی بات کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔ پولیس اور عام ڈاکو میں یہی فرق ہے کہ پولیس قانون کے اندر رہ کر کام کرتی ہے تو یہی اس کو کرنا چاہئے۔ ایک عام آدمی اگر ہاتھ میں پستول لے کر لوگوں کو \”انصاف\” دلاتا پھرے گا تو ملک کے قانون کی رو سے مجرم قرار پائے گا۔ لیکن جب اس ملک کی حفاظت کرنے والی پولیس قانون شکنی کرے گی تو اس کو کیا کہا جائے گا؟

Facebook Comments HS

5 thoughts on “ذوالفقار چیمہ سے کچھ سوالات

  • 18/08/2016 at 5:25 شام
    Permalink

    محترمہ،
    آپ نے بہت اہم سوال اٹھایا ہے. کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں. جعلی پولیس مقابلے کرنے سائیکو پیتھ ہیں. ہمارے یہاں ایک DPO صاحب تھے جنہیں لوگوں کو تڑپا تڑپا کر مارنے میں بہت مزا آتا تھا.
    سنا ہے موصوف چرس کے سوٹےلگا کر قسطوں میں بندے مارا کرتے تھے.
    آنجناب چھوٹو مزاری کے حوالے سے بھی زیرِ تفتیش ہیں.
    میرا ماننا ہے کہ اگر آپ اتنے ہی طرم خان ہیں تو جرائم کی نرسریوں کو ختم کریں.
    مجرم خود ہی ختم ہو جائیں گے.
    لیکن بھائی پھر دھندا کیسے چلے گا؟
    توصیف

  • 18/08/2016 at 8:20 شام
    Permalink

    قانون کی بالا دستی اور نفاذ کے لئے غیر قانونی اقدام کی حمایت کرنے والے صرف ہم جیسے معاشروں میں پائے جاتے ہیں.

  • 18/08/2016 at 9:23 شام
    Permalink

    Ap apni court’s ko thk karo sb thk ho jy ga . Police jan ki bazi laga kr jo mujrim pakrti hy ap ki courts 2..3 din bd bail py chor dati hy islye honesty police officer ka yahe kam banta hy k muqaa py hi insaf kar dy. Shukria Zulifqar cheema sb ap ny police ko ik achi soach or maqam dya

  • 18/08/2016 at 11:54 شام
    Permalink

    لگتا ہے موصوف ساوتھ انڈین فلمیں زیادہ دیکھتے ہیں… یہ انصاف نہیں سیدھا سادا قتل عمد کا معاملہ ہے.

  • 20/08/2016 at 5:00 شام
    Permalink

    چیمہ صاحب کے زیر بحث کالم کو پڑھ کر انکی وردی کی مائہ اتر گی.اور اندر سے صرف ایک پولیس والا ھی نکلا

Comments are closed.