نجی جامعات، سیکس ریکٹ اور زہر آلود علمی دنیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم احمد کی شہرہ آفاق نظم ”مشرق ہار گیا“ میں ایک مقام پر ایک کردار اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ وہ مدرسی کے پیشے سے منسلک ہونا چاہتا ہے کہ یہی ایک پیشہ ہے جو علمی سرگرمیوں میں حارج نہیں ہے۔ اس کے جواب میں سلیم احمد کہتے ہیں ”انہیں کراچی کے اساتذہ سے ملواؤ“۔ یعنی یہ خیال کہ اساتذہ کسی طور سے علمی فضا کے لوگ ہوتے ہیں، اس شہر کے حقیقی اساتذہ سے مل کر دھواں بن کر اڑ جائے گا۔ غالباً ”مشرق ہار گیا“ 71 یا 72 وغیرہ میں تخلیق ہوئی۔ آج تقریباً 50 سال بعد کی اس شہر اور اس ملک کی فضا مزید ابتر ہے، اتنی ابتر کہ کبھی کبھی اِسے دیکھ کر الٹی آتی ہے۔

راقم بھی اس پیشہ مدرسی سے بڑا fascinate ہوتا تھا۔ ویسے کبھی استاد بننے کا سوچا تو نہیں تھا مگر استاد بن کر بہت اچھا محسوس ہوا۔ طلبہ میں کچھ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو حقیقی طور پر علم کے طالب ہوتے ہیں اور ایسے ہی طلبہ دراصل کسی اچھے استاد کا سرمایہ ہوتے ہیں اور انہی کی وجہ سے وہ اپنے کام کو بغیر کسی پذیرائی کے بھی کیے جاتا ہے۔

راقم ملک کی سب سے بڑی سرکاری جامعہ کا استاد ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اب استاد کی تنخواہ اور مراعات بھی اتنی اچھی ہیں کہ اگر ہمارے ملک کی جامعات کے اساتذہ اس پر شکر ادا کریں اور دل لگا کر دیانت داری سے اپنے کام کو کریں تو کیا ہی بات ہو۔ مگر معاملہ شاید صرف بدعنوانی کا نہیں، نااہلی کا بھی ہے۔

مگر یہ نااہلی کیا ہے اور کیوں ہے؟ ہمارے ملک کی جامعات کے اساتذہ تو مشرف دور میں ہائر ایجو کیشن کمیشن (HEC) بننے کے بعد سے اس سے بڑے فیوض اور برکات لے چکے۔ کئی کئی مرتبہ غیر ملکی کانفرنسوں میں حاضری دے چکے اور کئی ایک نے تو غیر ممالک سے ایم ایس، پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاک تک کر لیا پھر بھی ہم اس طبقے میں آخر نااہلی کیوں دیکھ رہے ہیں؟

بات اتنی سی ہے کہ HEC کی اس بندربانٹ کی وجہ سے ہمارے وطن کے اساتذہ نے بہت سے ممالک کی سیر و تفریح تو کر لی مگر ان کانفرنسوں کی وجہ سے ان کی علمی قابلیت میں کوئی فرق اس لئے بھی نہ آیا کہ دنیا جہان میں دراصل یہ کانفرنسیں ہوتی ہی محض تفریح کے لئے ہیں۔ راقم خود بھی ایک سے زائد کانفرنسوں میں بیرون ملک (اپنے خرچے پر) شرکت کر چکا ہے۔ وہاں مقالہ پڑھنے پر بمشکل ایک آدھ ہی سوال سامنے سے آتا ہے، وہ بھی اتنا بودا کہ اس سے زیادہ گہرے سوالات کا سامنا تو دوران طالب علمی پریزنٹیشن کے دوران کرنا پڑ جاتا ہے۔

کانفرنسوں میں دنیا جہان سے لوگ آتے ہی بس تفریح کرنے ہیں۔ رہ گئی بات HEC کے خرچے پر بیرون ملک سے ایم ایس، پی ایچ ڈی یا پوسٹ ڈاک کی تو وہ بھی مزاحیہ سی بات ہے، اس لئے کہ ان اسناد کے نام پر جس نوع کا فراڈ بہت سے ممالک میں ہو رہا ہے، وہ کس سے پوشیدہ ہے۔ شک ہو تو کینیڈا کے ایڈلر انسٹی ٹیوٹ کے بابت تحقیق کیجئے اور برطانیہ سے MS، پی ایچ ڈی یا پوسٹ ڈاک کرنے والے کسی بھی شخص سے دو باتیں علمی قسم کی پوچھ لیجیے۔

بات برطانیہ، امریکا یا کینیڈا کے نام میں نہیں ہوتی، بات یہ ہوتی ہے کہ وہاں کس جامعہ سے پڑھا ہے۔ ظاہر ہے کہ آکسفورڈ اور سندر لینڈ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز ایک برابر تو نہیں ہو سکتے۔ یہاں تو ماشاء اللہ بنگلہ دیش سے چھپنے والے ”امریکن انٹرنیشنل جرنل آف سوشل سائنسز“ میں مقالے چھاپ کر لوگ جامعات میں ترقیاں پاتے رہے۔

پھر ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ ہماری جامعات کے نصاب میں ہے کیا؟ ان کو اگر بفرض محال بالکل صحیح طور پر بھی پڑھا دیا جائے تو بھی کون سی توپ چل جائے گی؟ یہاں تو ر گزرتے دن کے ساتھ علوم کے نصاب بھی تباہ کیے جا رہے ہیں۔ صرف نفسیات کی ہی مثال یہ ہے کہ جامعہ کراچی میں تو نفسیات سے فرائیڈ کو نکال کر مارٹن سلیگمن جیسے سطحی مصنف کورس میں ڈال دیے گئے ہیں۔

پھر اساتذہ کی زندگی کی خواہشات کی فہرست میں ان کا علم بھی کہیں شامل ہے؟ ہوتا تو ان کی زندگیوں سے تھوڑا بہت تو جھلکتا۔ راقم نے تو اساتذہ کو ہمیشہ بس غیبت کرتے یا کھانے پینے کی باتیں ہی کرتے پایا۔ وہ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بس یہی کرتے ہیں۔ کئی اساتذہ نے فوجیوں، پولیس والوں، بیورو کریٹس اور سیاست دانوں وغیرہ سے کسی نوع کا مفادی تعلق استوار کر لیا ہے اور ان کے ساتھ ملاقاتوں کی سیلفیاں سماجی میڈیا پر بڑے زوروں سے دنیا کو دکھاتے رہتے ہیں جیسے یہی تو ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ پھر ایک سطح اخلاقی بھی ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے (اور بجا طور پر اٹھتا ہے ) کہ جو لوگ معاشرے کے نوجوانوں کی تربیت پر مامور ہیں وہ خود بھی کسی نوع کے اخلاقی نمونے کا درجہ رکھتے بھی ہیں یا نہیں؟

ویسے تو سرکاری جامعات پر سب کی نظر ہر معاملے میں پڑتی ہے مگر اخلاقی گراوٹ کی جو مثالیں اساتذہ نے نجی جامعات میں قائم کر دی ہیں، وہ بھی قابل دید ہیں۔ علمی سرقے کے معاملات میں کتنے اساتذہ نامزد ہیں یہ تو سب جانتے ہیں مگر بعض نجی جامعات میں تو باقاعدہ سیکس ریکٹ بھی چل رہے ہیں، اس سے کتنے لوگ واقف ہیں؟ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس طبقے کی طرف سے ہو رہا ہے جو علمی طبقہ کہلاتا ہے، یہ کیسی فضا ہے؟ یہ کیسا بھیانک ظاہر و باطن کا تضادہے؟ اگر یہ علمی طبقہ ہے تو طبقہ جہلاء کسے کہتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •