جلا وطن کیے گئے بھائی کے نام ایک خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

16 جنوری 1989 سے 16 جنوری 2019 تک، عمرِرواں کے تیس برس۔ بہت سی یادیں ہیں بہت سی باتیں ہیں۔ زندگی کے کتنے برس، مہینے، دن، گھنٹے اور منٹ ہم نے ساتھ گزارے۔ اس میں کوئی شک نہیں تم نے عمر کے تیس سالوں میں جو گھٹنائیں دیکھی ہوں گی ان کا درد میں شاید محسوس نہ کر پاوں۔ لیکن زندگی کے وہ سارے درد جو ماں کی آنکھ سے آنسو بن کے ٹپکے میں نے شدت سے محسوس کیے۔ ماں کی اپنے ہر بچے سے جذباتی وابستگی ہوتی ہے لیکن ایک بچہ ماں کو سب بچوں میں عزیز ہوتا ہے۔

ماں کی آنکھ کا تارا ہونے کا اعزاز بھی تمہارے پاس ہے۔ میں نے تمہیں جب بھی دیکھا مسکراتے دیکھا زندگی میں جتنی بھی مشکلات آئیں ہمیشہ تم مسکراتے ملتے۔ تمہاری ہنسی میں، میں نے محرومی کا دکھ بھی محسوس کیا۔ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے پریشانی بھی تمہاری زندہ دلی میں فرق نہ لا سکی۔ مجھے یاد ہے جب پاپا زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے تو اسپتال میں ڈاکٹر نے ایک رات پہلے تمہیں بتایا کہ یہ جنگ وہ جیت نہ پائیں گے ان کی سانسوں کی گنتی محدود رہ گئی تھی لیکن میں نے تب بھی تمہیں مسکراتے دیکھا۔

مجھے یقین ہے ماں کو حوصلہ دیتے دیتے اسپتال کے کسی کونے میں جا کر تم بھی روئے ہو گے۔ تمہاری ہنسی نے ہمیشہ مجھے حوصلہ دیا۔ میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ دوسرے بھائی کی طرح تم اپنی ضروریات کے لیے واویلا نہیں کرتے خاموشی سے ہر ملنے والی چیز چاہے وہ کم ہوتی اکتفا کر لینا۔ چھوٹے بھائی کا تمہاری چیز پر قبضہ کر لینا بھی تمہاری شان بے نیازی میں فرق نہیں لاتا تھا۔ ماں ہمیشہ اس بات پہ آنسو بہایا کرتی تھی کہ میرا بچہ اپنی ہر خواہش کو دبا لیتا ہے کچھ نہیں مانگتا۔

زندگی ایسے ہی کٹتی رہی۔ پھر ایک منحوس دن آیا جس نے ہماری زندگی کے رنگ ہم سے چھین لیے۔ 6 جنوری 2017۔ تم کیسے بھول سکتے ہو اس دن تم لاپتہ کر دیے گئے تھے۔ ہاں مجھے یاد ہیں وہ 21 دن، زندگی جیسے تھم گئی تھی۔ ماں کا غم کے مارے برا حال تھا۔ پتا نہیں تمہیں زمین کھا گئی کہ آسمان نگل گیا تھا۔ کتنے در تھے جو تمہاری تلاش میں کھٹکھٹائے تھے کہیں شنوائی نہ ہو سکی۔ اچانک سے سامنے آنے والے ایک بیان نے تو زندگی اجیرن کر دی تھی۔

ماں کو اپنی تربیت پہ ملال تھا اور دوسری طرف رشتہ داروں اور لوگوں کے طعنوں نے جینا محال کر دیا۔ ہم نہ زندوں میں تھے نہ مُردوں میں۔ ایک طرف باہر نکلنے پہ عوام کے مشتعل ہونے کا ڈر تھا تو دوسری طرف اندر محصور رہ کر بھی موت کے سائے سر پر منڈلا رہے تھے۔ جو تم پہ گزری وہ الگ تھی ان کربناک دنوں کو قلمبند کرنا میرے لیے مزید ممکن نہیں۔ مختصر یہ کہ 2017 سے 2019 تک کا وقت تمہاری یاد سے خالی نہیں گزرا ہے۔ میں جانتی ہوں تم آج بھی دکھی ہوتے ہو گے تمہاری آنکھ سے آنسو نکلنے سے پہلے مسکراہٹ تمہارے ہونٹوں کو چوم لیا کرتی ہوگی۔

اپنوں سے دوری کا ملال تمہیں بھی رلاتا ہو گا۔ تم جب بھی کسی کو لاپتہ دیکھتے ہو گے تمہیں اپنی گمشدگی یاد ہوتی گی۔ جب بھی کوئی خودساختہ جلاوطنی پہ مجبور ہوتا ہو گا تو ضرور تمہیں اپنا دکھ رلاتا ہو گا۔ آج تم نے زندگی کے تیس سال پورے کر لیے ہیں۔ پچھلے دنوں تم نے شادی بھی کر لی ہے۔ زندگی ویسے ہی چل رہی ہو گی کیونکہ کچھ رکتا نہیں ہے۔ زندگی کی ہر خوشی میں تمہیں یہ ملال ستائے گا کہ جب تمہارا وقت تھا تم اپنوں کہ پاس رہتے، اپنوں کے ہاتھوں ہی تم دیس سے نکالے گئے۔ پیارے بھیا کچھ رکتا نہیں ہے زندگی چلتی رہے گی۔ نشیب و فراز زندگی کا خاصہ ہیں۔ دعا ہے، اس خرابے میں میری جاں آباد رہو۔ ہمیشہ مسکراتے ہوئے ہی زندگی کی ہر مشکل سے گزر جانا۔ ہمیشہ جیو۔ خوشحالی اور سلامتی کے ساتھ۔ تمہاری زندگی میں مزید کوئی دکھ نہ آئے۔ آمین

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •