حجاب اور بشری تقاضے

”اوئے کون ہو تم اٹھو یہاں سے۔ کھڑے ہو جاؤ کیا کر رہے ہو ادھر بیٹھ کر؟ کیا لگتی ہے یہ لڑکی تمہاری؟ بولو بھی، میں بکواس کر رہا ہوں؟“ سبزی مائل وردی میں ملبوس گارڈ ہم دونوں پہ چلا رہا تھا اور ہم ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔ اس اثناء میں اس کے مزید دو ساتھی اور ارد گرد سے تماش بین لڑکے اکٹھے ہو چکے تھے۔

Read more

عورت کی زندگی آسان نہیں

زندگی عورت کے لیے اس قدر سہل نہیں جتنا میں سمجھتی رہی۔ اس کا اندازہ گھر سے دور حصولِ تعلیم کے لیے ہاسٹل میں قیام کے بعد ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ عورت کے لیے محفوظ ترین جگہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ اس کہے جانے سے مجھے ہرگز اتفاق نہیں کیونکہ پہلے تو عورت…

Read more

دیوار سے سر پھوڑ کر مارنے والے استاد اور تماشائی والدین

پچھلے دنوں کی بات ہے۔ ہاسٹل کی مصروف اور تھکا دینے والی زندگی سے فراغت کے کچھ دن میسر آئے تو ہم نے بھی بھاگم بھاگ گھر کی راہ لی۔ خوش قسمتی سے گھر کو جانے والی آخری بس تیار تھی۔ ہم بھی ٹکٹ خرید کر براجمان ہو گئے کیونکہ بس کے نکلنے میں ابھی آدھے گھنٹے سے زائد وقت تھا تو بس میں سواریاں بھی اکا دکا تھیں۔ میرے ساتھ والی سیٹ خالی تھی (جو لوکل سفر کرتے ہیں وہ سمجھتے ہوں گے ایک پوری سیٹ پر جب آپ کا تسلط ہو تو کیسا اچھا محسوس ہوتا ہے ) سو میں نے بھی ادھر دیکھا نہ ادھر خالی سیٹ پر پاؤں پسارے براجمان ہو گئی۔

Read more

جلا وطن کیے گئے بھائی کے نام ایک خط

16 جنوری 1989 سے 16 جنوری 2019 تک، عمرِرواں کے تیس برس۔ بہت سی یادیں ہیں بہت سی باتیں ہیں۔ زندگی کے کتنے برس، مہینے، دن، گھنٹے اور منٹ ہم نے ساتھ گزارے۔ اس میں کوئی شک نہیں تم نے عمر کے تیس سالوں میں جو گھٹنائیں دیکھی ہوں گی ان کا درد میں شاید محسوس نہ کر پاوں۔ لیکن زندگی کے وہ سارے درد جو ماں کی آنکھ سے آنسو بن کے ٹپکے میں نے شدت سے محسوس کیے۔ ماں کی اپنے ہر بچے سے جذباتی وابستگی ہوتی ہے لیکن ایک بچہ ماں کو سب بچوں میں عزیز ہوتا ہے۔

Read more

ماں جی آپ کی محبتوں کا کوئی بدل نہیں

ماں کے لمس سے شناسائی کا لمحہ حقیقی تو یاد نہیں۔ لیکن مجھے یاد ہے زیرو واٹ بلب کی نیلگوں روشنی میں جب میری آنکھ کھلتی تو میں ماں کی دو ٹانگوں کے درمیاں ہوتی تھی۔ نیند میں میرے گرنے کی کوشش ماں کے لاشعور میں بھی چھپی نہ رہ سکتی تھی اور وہ نیند میں ہی مجھے گرنے سے روکنے کا ممتا بھرا سدِباب کرتیں۔ قاری صاحب کا حد درجہ خوف جب مجھ پہ غالب آتا تو میں ماں کی گود میں چھپ کر پوچھتی کہ قاری صاحب تو نہ آئیں گے۔ (یہ خوف دنیا کا سب سے بڑا خوف ہوا کرتا تھا ) ماں مجھے گود میں چھپا کر اوپر سے دوپٹے کا پلو دے دیتیں اور میں قاری کے خوف سے آزاد ماں کی گود میں خود کو ہر خطرے سے محفوظ سمجھتی دو منٹ بعد ہی نیند کی گہری وادیوں میں اتر جاتی۔ مجھے یاد ہے میں نے ماں کو کبھی بھی کچھ بولتے نہیں دیکھا تھا۔ ایک نامعلوم سی خاموشی اور عاجزی ان کی ذات کے گرد حالہ بنائے ہوئے تھی۔ میری صبح کا آغاز ان کی تلاوت کی آواز سن کر ہوا کرتا تھا۔

Read more

لڑکیوں کی تربیت کے بعض دلچسپ پہلو

دنیا میں میرا استقبال میرے شایانِ شان کیا گیا۔ یعنی بیٹے کی قسمت ایک بار پھر سے پھوٹنے پر دادی اماں نے آنسووٗں کی بوچھاڑ کر دی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل سو چل، کبھی میرے آنسو تو کبھی دادی کے۔ کیونکہ بقول شاعر ”آنسو خوشی کے غم کے ہوتے ہیں ایک جیسے“

بچپن میں ہم عمر کزنز کے ساتھ کھیلتے ہوئے اچانک دادی جان کی آواز کانوں میں پڑتی کہ بٹیا لڑکوں کے ساتھ کھیلنے سے قوتِ سماعت پہ شدید قسم کا اثر پڑتا ہے۔ اور ہم مستقبل میں کانوں میں آلات سماعت لگائے ہونقوں کی طرح خود کوتصور کر کے دل و جان سے کانپ اٹھتے۔ پھر اس کے گھر کے کونوں کھدروں میں گھس کر رب کا شکر ادا کیا جاتا کہ اس نے ہماری قوتِ سماعت کو سلامت رکھا ہے اور ہم ابھی تک دادی جان کی شیریں بیانی کو سن سکتے ہیں۔ دادی کی بے وجہ تنقید، با پ کا حد درجہ غصہ اور ماں کا اس سارے قصے میں عمل دخل کا بالکل نہ ہونا میری شخصیت کے بے شمار عیبوں کی وجہ ہے۔

Read more

غیرت،قتل اور ہم

تاریخ انسانی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو غیرت کے نام پر پہلا قتل ہمیں آدم و حوا کے بیٹے ہابیل کا ملتا ہے۔ جو اپنے بھائی قابیل کی جلن اور حسد کا پہلا شکار ہوا۔ اور اس کے بعد پھر یہ سلسلہ چل سو چل۔ قصہ یوں ہے کہ آدم وحوا کے ہاں دو بچوں، لڑکا اور لڑکی کی پیدائش صبح اور دو بچوں، لڑکا اور لڑکی کی پیدائش شام کو ہوتی تھی۔ صبح کو پیدا ہونے والی لڑکی کی شادی شام کو پیدا ہونے والے لڑکے سے کی جاتی اور شام کو پیدا ہونے والی لڑکی کی شادی صبح میں پیدا ہونے والے لڑکے سے کی جاتی تھی۔ ہابیل صبح کو پیدا ہوا اور قابیل شام کو یوں ہابیل کو جو لڑکی ملتی وہ قابیل کو ملنے والی لڑکی سے زیادہ حسین ہوتی تھی۔ قابیل نے ”جلن اور حسد“ کے جذبات سے مغلوب ہو کر ہابیل کا قتل کر دیا۔ یوں یہ تاریخ کا پہلا قتل تھا جو عورت اور غیرت کے نام پر ہوا۔

Read more