عمران خان کی بے بسی اور تاریخ کا بوجھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایوب خان نے ملک قائم ہونے کے گیارہ برس بعد ہی اقتدار پر قبضہ کرلیا اور دس برس تک حکومت کی۔ اسی طرح ضیا الحق نے گیارہ برس اور پرویز مشرف نے نو برس تک قتدار پر قبضہ رکھا۔ اگر ان ادوار کی قانونی حیثیت اور فوجی جرنیلوں کی حلف شکنی کو موضوع گفتگو نہ بھی بنایا جائے تو بھی یہ سوال تو اپنی جگہ موجود رہے گا کہ سول حکومتوں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے سے پہلے ان ادوار کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا کم و بیش دیکھ لیا جائے جنہیں ملک کا سنہرا دور قرار دینے کی نئی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اگر کبھی دو قومی نظریہ نام کی کوئی بنیاد تحریک پاکستان کے قائدین کے دماغ میں موجود بھی تھی تو 1971 کے سانحہ نے اسے مسمار کردیا تھا۔ اس سانحہ کے بعد دو کام کرنے کی ضرورت تھی۔ فوج یہ سبق سیکھتی کہ سیاست کرنا اس کا کام نہیں ہے اور ملک کے سیاست دان اور ووٹر بھلا برا جیسے بھی معاملات طے کرتے ہیں، فوج آئین کے وفادار ادارے کے طور اسے قبول کرے اور ان فیصلوں کو تسلیم کیا جائے جو ملک کی پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی فکری لحاظ سے ملک کو نئی بنیاد فراہم کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو یہ کام کرسکتے تھے لیکن فوج کے دباؤ اور اقتدار کی ہوس نے انہیں اس حد تک مجبور کردیا تھا کہ وہ اسی قرارداد مقاصد کو 1973 کے دیباچہ میں شامل کرنے پر راضی ہو گئے جو قائد اعظم محمد علی جناح کے آنکھ بند کرتے ہی آئین ساز اسمبلی سے منظور کروائی گئی تھی۔ اور ملک کے تمام اقلیتی لیڈروں نے جس کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔

گویا اس بات سے اصولی طور پر انکار کردیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد نصف پاکستان پر مشتمل علاقے پر قائم ہونے والے ملک کو کسی نئی فکری جہت کی ضرورت تھی۔ قرار داد مقاصد کو مکرر قبول کرنے کا مطلب یہی تھا کہ اس مذہبی رجحان و تفہیم کو قبول کر لیا جائے جس کی بنیاد پر مولانا ابوالاعلی مودودی نے جناح کے پاکستان کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ لیکن قائد اعظم کی رحلت کے بعد قرار داد مقاصد کی آڑ میں اسے اصلی اسلامی ریاست بنانے کے مقدس مشن کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ اس مشن کی تکمیل کے لئے چونکہ جمہوری تحریک شرط نہیں ہے لہذا جماعت اسلامی نے ہر آمریت کا ساتھ دینا ضروری سمجھا۔ اس تگ و دو میں یہ جماعت نہ اسلامی تحریک بن سکی اور نہ ہی قابل قدر سیاسی جماعت کا روپ دھار سکی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی برطرفی اور پھانسی سے پیدا ہونے والے حالات نے بھی واضح کردیا کہ نہ صرف نئی فکری بنیاد کے لئے غور و فکر ضروری نہیں سمجھا گیا بلکہ ملک کی فوج نے بھی 1971 کی خانہ جنگی اور ملک ٹوٹنے کے المیہ سے سبق سیکھنے کی بجائے سیاست پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کو اپنے عسکری عہد کا لازمہ قرار دیا۔ 1988 سے 1999 کے دوران تواتر سے منتخب حکومتوں کو تبدیل کرنے کا عمل دراصل سیاست میں فوجی اسٹبلشمنٹ کی بھرپور مداخلت کی کہانی ہے۔

2007 میں عدلیہ بحالی تحریک کے ذریعے جمہوریت کی بجائے محفوظ دیواروں میں بیٹھ کر سیاست کرنے والے سایوں کو طاقت عطا کی گئی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ طویل انتظار اور بے نظیر بھٹو جیسی لیڈر کی شہادت کے باوجود ملک میں جمہوری حکومت تو قائم ہوگئی لیکن جمہوریت غالب نہ آسکی۔ 2008 میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی اور 2013 میں بننے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کی بے بسی اور لاچاری سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ملک کو کوئی سمت کیوں نہیں دی جا سکی۔

2018 میں نیا پاکستان بنانے کے نام پر تحریک انصاف کی حکومت منظر عام پر آئی۔ زندگی بھر ہر شعبہ میں کامیابیاں حاصل کرنے والے عمران خان ملک کے وزیر اعظم بنا لئے گئے۔ تاہم گزشتہ برس اگست میں حلف اٹھانے کے بعد سے انہیں مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہے۔ یہ ناکامیاں واضح کررہی ہیں کہ کوئی بھی حکومت اختیار اور جواز کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ موجودہ حکومت کو پارلیمنٹ میں اپنے وجود کا جواز حاصل نہیں ہے اور اس نے اپنے اختیارات ان اداروں کے پاس گروی رکھے ہوئے ہیں جو عمران خان کو اقتدار میں لانے کا سبب بنے ہیں۔

اس معلق فضا میں یہ تصور کرلیا گیا ہے کہ سابقہ حکمرانوں کو مطعون کرکے ملک کے سارے مسائل کا حل نکال لیا جائے گا۔ لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران ٹھوس مالی حقائق پر بات کرنا پڑتی ہے۔ ان سچائیوں کو بدلنے کے لئے ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اس کام کے لئے نعروں کی بجائے بصیرت اور نفرت کی بجائے مفاہمت ضروری ہے۔ عمران خان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے حصار میں قید ہیں۔ وہ غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے اصلاح کا راستہ تلاش کرنا دو بھر ہوچکاہے۔ البتہ ملک کو اس صورت حال تک پہنچانے کی ذمہ داری عمران خان پر عائد نہیں ہوتی گو کہ تاریخ یہ بوجھ انہیں کے سر پر لادے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1186 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali