استاد اور طالب علم کا باہمی تعلق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

استاد اور شاگرد کا رشتہ معنی و مفہوم کہ اعتبار سے انسانی زندگی کا ستون ہے۔ وہ ستون جو زندگی کو معنی اور مفہوم کہ حسین رنگوں سے نکھار دیتا ہے۔ ایک بہترین استاد طالب علم کو اچھے اخلاق و اعتماد کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ وہ شاگرد کی نفسیات اور نفس و کردار کو اخلاقی کردار اخلاقی عمل کی پابندیوں تک پہچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

استاد اور شاگرد کا آپس میں تعلیمی عمل میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ استاد اور طالب علم کہ درمیان عزت و احترام معلومات کے خزانے کو ایک دوسرے تک پہچانے، ایک نشانی، ایک شناخت اور پہچان، ایک علم کا بینک ہے جو نسلوں کو علم منتقل کرتا ہے۔ طالب علموں میں سب کچھ سمیٹ کر اپنی علم کی پیاس بجھانا چاہتا ہے، تا کہ انھیں زندگی بھر تشنگی کا احساس نہ ہو۔

استاد اور شاگرد دونوں کا تعلیمی عمل سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ استاد کی مثال اس علم کہ کنویں جیسی ہے، جو طالب علم اس کنویں سے پانی پی کر اپنے کردار کو بلند ترین سطح پر پہنچاتا ہے۔ جیسے دنیا کہ ہر رشتے ’’ٹُو وے پراسس‘‘ کی بنیاد پر زندہ رہتے ہیں۔ ویسے استاد اور شاگرد کہ مابین باہمی تعلقات کہ بغیر تعلیمی عمل میں کامیابی ممکن نہیں ہو سکتی۔ استاد اور طالب علم دونوں گاڑی کہ دو پہیے ہیں۔ اگر ایک میں بھی خرابی ہوئی تو گاڑی نہیں چل سکتی۔ اس لئے دونوں ہو کو اپنے فرائض ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور انہیں بحسن و خوبی ادا کرنا چاہئے۔ تعلیمی اداروں اور تعلیم کی کامیابی کا انحصار استاد اور شاگرد کہ خوشگوار تعلقات پر ہوتا ہے۔

استاد خواہ مرد ہو یا عورت، صدیوں سے روپ رشتے اور احساس، ماں باپ کا بدل تصور کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ ماں کی گود اور باپ کی چھاؤں سے نکل کر اسکول اور کالج، یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور سیکھنے کہ لئے معصوم بچپن اور جوانی کہ سمجھ و شعور کو ہم اپنے استاتذہ کی انگلی پکڑ کر چلتے اور دوڑتے ہیں۔ کئی مقامات ہماری زندگی میں ایسے بھی آتے ہیں جہاں ہم ماں پاب کو غلط ثابت کر کے استاد کی انگلی پکڑے چلنا چاہتے ہیں۔ وہ معصوم بچپن وہ استاد کا مضبوط اور توانا احساس ہیں جہاں ہم اپنے ہی والدین کو سکھاتے ہیں کیوں کہ ہم استاد سے سیکھ کر آتے ہیں۔ وہ ذہنی ہم آہنگی جو بچپن سے ہی اساتذہ سے جڑ جاتے ہیں اور جب تک علم حاصل کرتے ہیں، یہ رشتہ اور اعتماد بڑھتا ہے۔

زندگی کے دوسروے شعبوں اور اداروں میں کام کرنے والے ایک دوسرے سے اتنے متاثر نہیں ہوتے۔ اور نا ہی ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں جتنا ایک استاد اور شاگرد۔ مختلف دفاتر میں کام کرنے والے افسران اور ماتحت بے جان فائلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پر ایک استاد اور شاگرد کا معاملہ ان سے مختلف ہوتا ہے۔ دونوں احساس رکھتے ہیں۔ دونوں کی کامیابی کا انحصار ایک دوسرے پر ہوتا ہے۔ استاد کا فرض ہے کہ وہ علم دینے کے ساتھ ساتھ محبت و شفقت کا اظہار کرے اور طالب علم کی ذمہ داری ہے کہ علم کہ ساتھ ساتھ استاد کا دلی طور پر احترام کیا جائے۔ استاد کی ہر ہدایت اور نصیحت پر عمل پیرا ہو اور تعلیم میں دلچسپی کا اظہار کرتا رہے۔ ان اصولوں کی بنا پر تعلیمی سرگرمی میں خوشگوار اور صحت مند تخلیقی ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔

اس لئے ہمیں استاد اور شاگرد کے مابین تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔ تعلیم کی ترقی دونوں کے کردار اور خوشگوار تعلقات سے منسلک ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
 رابیل ناپر سندھی کی دیگر تحریریں
 رابیل ناپر سندھی کی دیگر تحریریں