پندرہ روز میں دانشور بنئیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک مرتبہ ڈرائیونگ سیکھنے کا شوق ہوا تو مختلف ڈرائیونگ اسکولز کے اشتہارات دیکھے، جو اشتہار سب سے زیادہ مناسب معلوم ہوا اُس پر لکھا تھا، سات روز میں موٹر سائیکل اور پندرہ روز میں گاڑی چلانا سیکھیں، خیر یہ الگ بات ہے کہ ہمارا قریبی و قلبی دوست سیف عباسی بھی گزشتہ کئی برس سے یہ دعوی (مختصراً لارا) کیے بیٹھا ہے کہ یہ کام زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی مار ہے۔ تاہم آخری اطلاعات تک تاحال وہ یہ دعوی پورا کرنے سے قاصر ہے۔

معزز قارئین، چونکہ ہم خود کو حضرت اقبال کا شاہین سمجھتے ہیں، سو یہ اشتہارات دیکھنے کے بعد ہمیں شدت سے خیال آیا کہ دانشوری کے تمام حقوق ہم شاہینوں کو ہی حاصل ہیں۔ سو اب وہ تمام دوست جو اس نازک اور پیچیدہ عمل پر مکمل گرفت نہیں رکھتے، یقیناً ہماری ہی ذمے داری ہیں۔ سو سرزمینِ پاک کہ ایک ذمہ دار شہری اور اقبال کے روحانی وارث کی حیثیت سے یہ ہم پر فرض تھا کہ عالم اسلام کی آمدہ نسل کو یہ مہارت منتقل کریں۔

سو ایک روز چائے کے لیے مشہور کوئٹہ ہوٹل میں بیٹھ کر ہم نے اپنے اس انقلاب آفریں منصوبے کو عملی ”پاجامہ“ پہنانا چاہا۔ ہم چاہتے یہ تھے کہ ایک ایسا کورس تشکیل دیں جس کی پندرہ روز میں تکمیل کے بعد ہی، شریک شاہین دانشوری کے عظیم مرتبے پر پہنچ جائے۔ تو جناب بس یہ پندرہ دن ہیں جنہوں نے پر لگا کر اُڑ جانا ہے اور پھر آپ ہوں گے اور آپ کی دانشمندی کے چرچے۔

تو حضور بسم اللہ کرتے ہیں، سب سے پہلے آپ کو لینا ہو گا ایک شیطان کا چرخہ۔ ہائے توبہ، میری مراد ہرگز ہرگز جوان بالکوں کا پسندیدہ ہتھیار 70 سی سی بائک نہیں، بلکہ آپ کے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون ہے۔ اور اگر آپ یہ تحریر لیپ ٹاپ پر پڑھ رہے ہیں تو وہاں بھی گزارا بھرپور طریقے سے ”چل پھر“ سکتا ہے۔ ان تمام پیش بندیوں کے بعد آپ کو ٹویٹر کی موبائل ایپلیکیشن ”ایپ اسٹور“ سے انسٹال (موبائل میں بھرنی) کرنی ہے اگر آپ اسمارٹ فون کا استعمال کر رہے ہیں، لیکن اگر آپ کے پاس لیپ ٹاپ ہے تو بس پھر ٹویٹر کی ویب سائٹ پہ جانا ہے اور اپنا اکاؤنٹ بنانا ہے۔ ویسے اگر آپ پہلے سے ٹوئٹر نامی بستی کے مکین ہیں تو سمجھئیے، آدھا مسئلہ تو یہیں تمام شد۔

بس اب آپ نے کرنا کچھ ہوں ہے کہ میڈیا انڈسٹری کے چند معروف دانشوروں کو فالو کرنا ہے، یقیناً مجھے اپنا نام یہاں گنوانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اب اس کے بعد کی کہانی کچھ ایسے ہے کہ جناب نے ہر آدھے گھنٹے بعد، ایک گھنٹے کے لیے ٹوئٹر کھول لینا ہے۔ اور جو بھی کسی دانشور کا ٹویٹ آیا ہو اُسے حرفِ آخر مان کر، دل کو چھو لینے والے انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دینا ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ اب تک اس قدر دانشوری آپ کے وجود میں سما چُکی ہو گی جس کے باعث مجھے یہ بتانے کی ہر گز ضرورت نہیں کہ ٹویٹر پر مسکرانا کیسے ہے۔

ایک اور بات، دانشوروں کی دانشوری قبول کرنے کے علاوہ آپ کو ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈز پر بھی گاہے بگاہے تبصرہ پیش کرنا ہو گا۔ امید ہے دو ہفتوں ہی میں ہزاروں نا سہی اُمتِ مسلمہ کے سیکڑوں نوجوان شاہین آپ کی دانشمندی سے گھائل ہو کر اپنا قبلہ سیدھا کرنے کا مصمم ارادہ کر چُکے ہوں گے۔

اور آج اس تحریر کے توسط سے میں یہ اعلان کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ اپنے اس کورس کو ”لانچ“ کرنے سے پہلے، میں نے خود اس کا کامیاب تجربہ کر کے دیکھا ہے۔ یقین مانئیے نتائج سو فیصد سے بھی بہتر نکلے ہیں۔ صرف چند روز کی محنتِ شاقہ کے بعد ہی آج سیکڑوں نوجوان میری دانشمندی کا فیض نا صرف سمیٹ رہے ہیں بلکہ سات سمندر پار کی بھی چند بالڑیاں آنکھ بچا کر، چپکے چپکے سے میری ٹویٹس سے فیض یاب ہو رہی ہیں اور شاید جس وقت تک آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں تب تک انہی میں سے کئی فرنگی بیبیاں خطبہ الہ باد پر نظریاتی طور پر ایمان لا چُکی ہوں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>