پاکستان اور آئی ایم ایف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے کافی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ کچھ اکانومسٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ پاکستان کے لئے تباہ کن ہوگا۔ اور اس ضمن میں مصر کی مثال دیتے ہیں۔ مصر میں اس طرح کے پروگرام کے ثمرات یہ ہیں کہ غربت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ مصر کی کرنسی کی قدر کم ہونے سے وہاں مہنگائی بہت تیزی سے بڑھی۔ ان کے مطابق پاکستان میں بھی یہی ہو گا، ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہو گی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں گی، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی اور یہ سب پاکستانی عوام کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گا۔

ان کایہ بھی ماننا ہے کہ اس قرض سے پاکستان میں کسی طرح کا معاشی استحکام نہیں آئے گا کیونکہ یہ شرح نمو کو مزید گرا دے گا۔ گا۔ ’آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کے دو سے تین برس تک ہمیں اپنے جی ڈی پی کی شرح نمو دو سے ڈھائی فیصد رکھنا ہو گی۔ جس ملک میں 15 لاکھ نوجوان ہر برس روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں وہاں بیروزگاری میں مزید اضافہ ہو گا۔ ‘

دوسری طرف کچھ اکانومسٹ کا یہ کہنا ہے کہ ہمارے حالات کافی عرصے سے خراب ہیں اورہمیں آئی ایم ایف کے بہت پہلے چلا جانا چاہیے تھا۔ بقول ان کے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا صحیح وقت 2016 تھا جب بیرونی ادائیگیوں میں مسلئہ پیدا ہوا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے لگا۔ کچھ دانشمند لوگوں نے اس وقت یہ مشورہ بھی دیا تھا لیکن مسلم لیگ نواز حکومت اس وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار تھی اور کوئی بات سننے کو تیار نہ تھی۔ اگر اس وقت کی حکومت دانشمندی سے کام لیتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاس چلی جاتی تو آج ان معاشی مشکلات کا سامنا نہ ہوتا۔

سوال یہ ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کے حوالے سے کوئی متبادل منصوبہ موجود تھا توعباسی حکومت اور مفتاح اسماعیل جن کے بارے ان کے حامیوں کا یہ ماننا ہے کہ وہ موجودہ معاشی ماہرین سے زیادہ عقل مند تھے۔ وہ اس متبادل منصوبے کو سامنے کیوں نہیں لائے اوراس کو لاگو کیوں نہ کیا؟ لیکن انہوں نے ایسی کسی دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے بیرونی ادائیگیوں کو بڑھنے دیا حتیٰ کہ دسمبر 2017 آگیا اور روپے کی قدر میں خود بخود گراوٹ آنا شروع ہو گئی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عباسی حکومت کے پاس آئی ایم ایف سے بچنے کا کوئی متبادل منصوبہ تھا ہی نہیں۔ وہ خرچوں کو کم نہیں کرنا چاہتے تھے اور کسی طریقے سے الیکشن تک پہنچنا چاہتے تھے۔

اگرچہ نگران حکومت نے ان معاشی مشکلات کا ادراک کرلیا تھا لیکن اپنی عبوری حکومت کی وجہ سے انہوں نے کوئی بڑا فیصلہ لینے سے ہچکچاہٹ کی۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے ان معاشی تبدیلیوں کا روڈ میپ تیار تو کیا تھا لیکن معاملہ آنے والی تحریک انصاف کی حکومت پر چھوڑ دیا تھا۔ اسد عمر نے اگرچہ کچھ بڑے بڑے معاشی مسائل کو چھیڑا ضرور لیکن ان کے پاس بھی آئی ایم ایف سے بچنے کا کوئی متبادل پروگرام ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے ملک کی اقتصادی صورتحال بد سے بدتر ہوتی گئی۔ مختصر یہ کہ نہ ہی سابقہ حکومت اور نہ ہی موجودہ حکومت کے پاس کوئی ایسا منصوبہ تھا جس کے ذریعے وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے گریز کرتے ہوئے اورملک میں معاشی استحکام حاصل ہوتا۔

فنانس کے موجودہ مشیر اور گورنر ایس بی پی دونوں نئے ہیں، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کو تیز کرنے کی ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس تحریک کو لکھتے وقت تک حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور آئی ایم ایف کسی طرح کی کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ اسلام آباد میں موجود کچھ مبصرین کے خیال میں آئی ایم ایف کا پاکستانی پروگرام مصر جیسا سخت نہ ہوگا۔ جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ہمیں پاکستانی کرنسی کی قدر میں پندرہ سے بیس فیصد کمی کرنا ہوگی۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت روپے کے شرح تبادلہ پر رکی ہوئی ہے۔ کیا اسے مصر کی طرح بالکل کھلا چھوڑ دیں یا پھر آہستہ آہستہ اس کو دوسری کرنسی کا مقابل ایڈجسٹ کرنے دیں۔ ؟

کرنسی کی شرح تبادلہ کو مکمل آزاد کرنا ہو ا تو اس بات پر پاکستان میں عمل کرنا بے حد مشکل ہے۔ روپے کی قدر میں ہونے والی کمی براہ راست عام آدمی کو متاثر کرے گی جن کی آمدنی یک دم گرے گی۔ ان کی قوت خرید متاثر ہوگی اور ملک میں پہلے سے موجود کساد بازاری میں مزید اضافہ ہو گا۔ کرنسی کی قیمت میں کمی کا سب بڑا فائدہ بنکوں کو ہوگا۔ روپے کی قدر میں کمی سے بینکوں کے سود کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے جس کا براہ راست فائدہ بینکوں کو ہوتاہے جنہوں نے اپنی زیادہ تر انویسٹمنٹ حکومتی سیکورٹیز میں کی ہوئی ہے۔ اس لئے یہ بات بینکوں کے فائدے میں ہے کہ وہ روپے کی قدر میں کمی ہونے دیں۔

آئی ایم ایف کی ٹیم یہ بھی چاہتی ہے کہ پاکستان اپنی شرح سود کو بھی بڑھائے تاکہ قرضے مہنگے ہو اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اگلی مایٹیری پالیسی قرضوں کی سود کی شرح میں تبدیلی پچاس پیسے سے لے کر ایک روپیہ تک ہو سکتی ہے۔ ایک اور اہم معاملہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے تعلق رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف کی تجویز یہ ہے کہ حکومت پاکستان توانائی کے خسارے کو کم کرنے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں دو روپے فی یونٹ اضافہ کر دے۔

کیا عمران خان کی حکومت یہ مشکل فیصلے کر پائے گی۔ کیا تبدیلی کا نعرہ بس ایک نعرہ بن کے رہ جائے گا۔ ؟ پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ لوگوں کے لئے نئی نوکریوں کا کیا ہوگا؟ اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہو جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •