کالا دھن سفید کروائیں اسکیم

قارئین محترم ہماری اور آپ کی زندگی ایک دائرے کا سفر ہے۔ ہر نئی حکومت ہمیں ایک اچھی حکومت دینے کا وعدہ کرتی ہے اور جب ہم آگے بڑھتے ہیں تو یہ ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔موجودہ حکومت نے بھی اشرافیہ کو ٖ فائدہ پہنچانے کے لئے ”کالا دھن کو سفید کرنے“ کے لئے اعلان کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اوپن پلاٹ، زمین، سُپر سٹرکچر اور اپارٹمنٹ ظاہر کرنے کے لئے ڈیڑھ فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ اسکیم کے تحت 4 فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر بے نامی گاڑیاں بھی ظاہر کی جا سکیں گی، پاکستانی کرنسی میں کھولے گئے بے نامی اکاونٹس میں موجود دولت پر 4 فیصد ٹیکس دینا ہوگا اور فارن کرنسی بے نامی اکاؤنٹ میں دولت کو ظاہر کرنے کے لئے بھی 4 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ جب کہ اثاثوں کی ویلیو ایف بی آر کی مقررہ ویلیو سے 150 فیصد تک مقرر ہوگی۔

Read more

پاکستان اور آئی ایم ایف

پاکستان میں آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے کافی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ کچھ اکانومسٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ پاکستان کے لئے تباہ کن ہوگا۔ اور اس ضمن میں مصر کی مثال دیتے ہیں۔ مصر میں اس طرح کے پروگرام کے ثمرات یہ ہیں کہ غربت میں بے تحاشا…

Read more

پاکستان کے مالک کون؟

” ہر بڑی خوش قسمتی کے پیچھے جرم چھپا ہوتا ہے۔ “پاکستان کے امراء اور شرفاء کی دولت مندی کے پیچھے یہی بھید چھپا ہے۔ یہ لوگ پاکستان کے امیر ترین لوگ ہیں یہ بائیس خاندانوں کے نام سے مشہور ہیں۔ ہمارے یہاں بائیس خاندان تین طرح کے ہیں۔ ایک وہ جو اصلی اور پرانے خاندان ہیں۔ دوسرے جو کہ 90 کی دہائی میں سامنے آئے اورتیسرے جو آج کل کے بائیس خاندان ہیں۔ یہ گروپ سیمنٹ، ٹیکسٹائل، انشورنس اور بینکوں کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں نئے قائم ہونے والے پاور پلانٹ پر بھی ان کا قبضہ ہے۔

Read more

خواتین کا ملکی ترقی میں کردار

کچھ دن پہلے ایف۔ ای۔ چوہدری المعروف چاچا چوہدری کے انٹرویو پر مبنی کتاب ”اب وہ لاہور کہاں“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ا یف۔ ای۔ چوہدری ایک مشہور فوٹو گرافر تھے اور انہوں نے کئی شاہکار تصویریں کھینچ کر لاہور کی تاریخ کو محفوظ بنایا۔ یہ انٹرویو معروف صحافی منیر احمد منیر نے اپنے جریدے آتش فشاں کے لئے کیا تھا۔ ویسے تو ساری کتاب پڑھنے کے لائق اور اس پر تبصرہ ایک الگ مضمون کا تقاضا کرتا ہے لیکن یہاں اس کتاب کا تذکرہ کرنے کا مقصد اس میں چھپنے والی ایک تاریخی تصویر ہے، جس میں کچھ لڑکیاں بائیسکل پر کالج جاتی دکھائی دے رہی ہیں۔

تقریبا ستر سال پہلے کھینچی گئی یہ تصویر ہمیں اس حقیقت سے روشناس کرا رہی تھی کہ ستر سال پہلے کے لاہور کے لوگ ہم سے نہ صرف زیادہ روشن خیال تھے بلکہ زیادہ بہادر تھے جو نہ صرف اپنی بیٹیوں کو پڑھا رہے تھے بلکہ ان بیٹیوں کو بیٹوں کی طرح سائیکل چلانے کی اجازت دے رہے تھے۔ اب اگر آپ ان والدین کا مقابلہ آج کے والدین کے ساتھ کریں تو ہم یعنی آج کے والدین زیادہ شدت پسنداور ڈرے ہوئے ہیں۔ آج آپ کو شاید ہی کوئی بچی خود سے سائیکل چلاتے سکول یا کالج جاتی دکھائی دیتی ہے۔ اب کچھ بچیاں لاہور میں سکوٹی چلاتی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن ان کی تعداد بھی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔

Read more

نوجوانوں کے لئے تفریح کے سکڑتے مواقع

بالاخر حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اس سال بھی بسنت نہیں منائی جائے گی۔

لاہور تاریخی اہمیت کا شہر ہے جو اپنی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے علاوہ تفریحی اعتبار سے بھی ہردل عزیز شہر رہا ہے۔ جو لوگ لاہور میں رہے ہیں خصوصا اندرون شہر میں انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں پر ہر موسم کے اپنے کھیل تھے۔ اگر بسنت کا موسم ہوتا تو سبھی لوگ گھروں کی چھتوں پر ہوتے۔ کرکٹ میچیز کھیلنے کے لئے کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان کا دورہ کرتی تو پورے لاہور کی گلیوں اور سڑکوں پر کرکٹ کھیلی جاتی اور جب تک ہاکی مرحوم نہیں ہوئی تھی تو گھر میں موجود جو ڈنڈا، سوٹا ہاتھ میں آتا اس سے ہاکی کھیلنے لگتے۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر لاہورشہر کے لوگوں سے اجتماعی تفریح کے مواقع چھینے جا رہے ہیں۔

Read more