ڈاکٹر صغرا صدف کا مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بڑے دنوں بعد ایک اچھی خبر سننے کو ملی ہے۔ قانون قدرت ہے جب ہم مایوس ہوجاتے ہیں تو پھر کوئی نہ کوئی بشارت ہمارے کانوں سے ٹکرا کر ہماری فکر کو نہال کر دیتی ہے اور ہمیں جینے کا حوصلہ عطاء کر کے زندگی کی راہ گزر پر رواں دواں کر دتی ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے اِس طرح کی ترغیب ضروری ہوتی ہیں۔ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کی یہ وہ خبر ہے جس کا برسوں سے ہمارے ملک کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی کو انتظار تھا۔

وہ جو اِس ملک کو ترقی، روشن خیالی اور ہم آہنگی کی ڈگر پر آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے تھے مطالبہ کرتے رہتے تھے مگر ہر بار اِس مطالبے کو کسی نہ کسی فتوے یا خوف سے شکست دے دی گئی۔ آپ خود سوچئے جس طرح کا ماحول بن چکا ہے، جس نہج پر ہم اپنی برداشت کو لے گئے ہیں اور جتنا ہمارا مذہبی شعور ہے۔ اِس عالم میں اگر اب بھی حکومت اور اہل حکمت بلیک میل ہوتے رہیے تو آگے گہری کھائی کے علاوہ کوئی رستہ نہیں۔ ویسے بھی حالات اتنے مثالی نہیں کہ بگڑنے کے خوف سے ریاست اپنے خلاف ہی سمجھوتے پر رضامندی اختیار کرے۔

ملکی مفاد کے خلاف تحریکوں اور فتووں کی دھمکی دینے والوں کو اب خیر نہیں پڑ نے والی۔ میں اس اعلان کو دل و جان سے خوش آمدید کہتی ہوں کیونکہ یہ صرف مدرسوں کو وزارت تعلیم کے ماتحت لانے کا ایک اعلان نہیں ہے بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ آج ہم تقسیم کے جس عمل سے گزر رہے ہیں یہ سب ہمارے طبقاتی نظام اور ضیا الحقی فکرکا کیا دھرا ہے۔ ہمارے سرکاری، پرائیویٹ اور پھر پرائیویٹ اداروں کی کتنی قسمیں ہیں آپ اندازہ نہیں کر سکتے تاہم فرق اتنا زیادہ ہے کہ اِن اداروں میں زیر تعلیم طالب علم اس سڑک پر اکٹھے سفر نہیں کر سکتے جو انہیں ایک قوم بنا سکتی ہے۔

ماضی میں کبھی یہ مدارس یونیورسٹیوں سے زیادہ علمی اور فکری حیثیت کے حامل تھے۔ ان میں پڑھنے والے سائنس فلسفہ، فلکیات، طِب، منطق اور دیگر علوم کے ماہر ہوتے تھے۔ ہمارے تمام صوفی شاعر اور وَلی بھی ان مدارس سے استفادہ کرکے اپنے من کے دریا، کائنات کے رازوں اور خالق کائنات تک پہنچے۔ پھر رفتہ رفتہ زمانے کی ضرورتوں کے تناظر میں ہمارے زیادہ تر مدارس کا حلیہ ہی بدل گیا۔ اُن کے مقاصد وہ نہ رہے جن پر اُن کی عمارت تعمیر کی گئی تھی۔

اِسی وجہ سے پورے عالم میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی کہتے ہیں ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔ بالکل یہی کچھ مدارس کے ساتھ بھی ہوا۔ آج بھی ایسے بہت سے مدارس موجود ہیں جو ہر طرح کی شورش سے پرے دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت میں مصروف ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِن مدارس میں پڑھنے والے طالب علموں کو یہاں سے فراغت کے بعد روز گار کے وسائل کیسے مہیا ہوں گے۔ موجودہ زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا وقت کی ضرورت بھی ہے اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے لازم بھی۔

جدید تعلیم کے حصول کے بغیر چارہ نہیں۔ اسلام کی دین کے ساتھ دنیاوی تعلیم کے حوالے سے تعلیمات سے ہم سب واقف ہیں۔ میری نسل کے لوگوں نے اس ملک کو بہت اچھے حال میں دیکھا ہے۔ ہمارے بچپن کا پاکستان بہت خوبصورت تھا ایک روشن خیال اور لبرل پاکستان جس میں طبقات کم اور ہم آہنگی زیادہ تھی۔ دولت اور آسائشیں کم تھیں لیکن لوگوں کی آپس میں جڑت زیادہ تھی۔ ان کا آپس میں گہرا رابطہ تھا۔ فرقے موجود تھے مگر ایک دوسرے کا احترام مقدم تھا۔

لوگ اچھائی برائی کا سرٹیفیکیٹ جیب میں لے کر نہیں گھومتے تھے۔ نہیں، مدارس کا احترام کیا جاتا تھا اور مسجدوں کی تکریم کی جاتی تھی لیکن جب مدارس اور مسجدوں کا ماحول بدل گیا تو پھر یہاں سے نکلنے والوں نے اپنی الگ دنیا بسانی شروع کر دی۔ اگر ہم مدارس کا ان تمام سرگرمیوں سے الگ ہوکر جائزہ لیں تب بھی ہمیں عام تعلیم اور مدارس کی تعلیم میں بہت زیادہ فرق نظر آتا ہے جس طرح میں نے پہلے عرض کیا کہ ادارے ریاستی نظم و ضبط کے سہارے آگے بڑھتے ہیں۔

ریاست میں مختلف ادارے کام کرتے ہیں۔ یہ ادارے مل کر ایک ریاست کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر ریاست کے اندر کچھ ایسے ادارے موجود ہوں جو ملک کے عمومی قوانین اور پالیسیوں سے متضاد چلنے کا رحجان ن رکھتے ہوں تو ریاست کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ پھر ریاست ماں باپ کی حثیت رکھتی ہے اور والدین کی طرح اسے تمام بچوں کو ترقی کے برابر مواقح مہیا کرنے چاہیے۔ تاہم ہم نے بہت لمبی سزا کاٹی ہے۔ ظلم و تشدد اور جگ ہنسائی کے اثرات سے ابھی تک ہماری روح مضمل ہے اِس لیے اگر اب یہ اچھا عمل شروع ہونے جا رہا ہے تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ اس کے نتائج بہت بہتر نظر آئیں گے۔

ایک دنیا جو وقتاً فوقتاً اِس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہتی ہے بھی اطمینان کا سانس لے گی اور اِس سے پاکستان کی معیشت بھی بہتر ہوگی۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ حکومت چاہتی تو مدارس کو ختم بھی کر سکتی تھی لیکن اس نے مدارس کو ختم نہیں کیا بلکہ وزارت تعلیم کے ماتحت کر کے بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج کے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تمام بچوں کو یکساں سہولیات فراہم کر کے اُن کی شخصیت کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ انھیں قومی دھارے میں شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اِس لیے معاشرے کے صاحب دل اور صاحب فکر افراد کو اِس عمل کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔ چند منفی قوتیں اپنے مفادات کے لیے مذہبی معاملات کو بنیاد بنا کر اور سادہ لوح لوگوں کے جذبات کو ابھار کر اس ترقی کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گی۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ 21 ویں صدی کے با شعور لوگ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے وقت کی آواز نہیں سنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ مثبت جواب دیں گے۔ یہاں حکومت کو چاہیے کہ وہ اگر مدارس کے نظام کو بہتر کرنا چاہتی ہے تو فوری طور پر اُس کا مکمل ڈھانچہ ختم کرنے کی بجائے وہاں جدید تعلیم کے نظام کو متعارف کروائے اور غریب بچوں کے لیے رہائش اور خوراک کا انتظام بھی کرے۔

ذرا سوچیے اگر ہم دوسرے بچوں کی تعلیم، بنیادی حقوق اور اُن کی صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے کے مواقع پیدا نہیں کریں گے، اُن کے احساسات کا خیال نہیں کریں گے تو ہم کبھی بھی اپنے بچوں کے لئے ایک بہتر ماحول پیدا نہیں کرسکتے۔ بہرحال شکریہ کہ پاکستان میں ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔ معاشرتی ٹوٹ پھوٹ ’تقسیم، شدت پسندی، ہیروہین اور کلاشنکوف کلچر ضیا الحق دور کی دین ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑا اور اس کے شدید اثرات دفاعی اداروں پر بھی مرتب ہویے۔

فوج کو اک طویل عرصہ اپنی ہی زمین پر چھپے ہوئے دشمن کے وار کو عملی جامہ پہنانے والے اپنوں کے خود کش حملوں کا سامنا رہا جس میں ہمارے بہت سے بھائی اور بیٹے وطن کی ان پر قربان ہوئے۔ صد شکر ہماری آج کی فوج ضیا االحق کی فکر کی پیروکار نہیں بلکہ معاشرے کا سدھار چاہتی ہے اور اس رستے پر دوبارہ سفر آغاز کر چکی ہے جو امن اور ترقی کا ضامن ہے۔ ہم سب اس ملک سے محبت کرتے ہیں اور محبت یہ تقاضا کرتی ہے کہ غلطی پر ڈٹ جانے کی بجاے اصلاح کی سمت بڑھا جاے۔ تاریخ بہت ظالم ہے صرف اسی کے گیت گاتی ہے جو انسانی فلاح اور ملکی بقا کے لیے کام کرے۔ ہم آنے والے دنوں میں ایسے کئی اعلانات کی توقع رکھتے ہیں جو ہمارے عظیم ملک کو بہتری کی طرف لے جانے میں معاون ہوں۔

تمہی نے درد دیا تھا، تمہی دوا دو گے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •