انگریزوں نے پنجاب پر کیسے قبضہ کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لارڈ ہارڈنگ کی یہ خواہش تھی کہ وہ پنجاب کو انگریزی راج میں ملا ہوا دیکھے۔ لیکن بطور گورنر جنرل، اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی۔ مارچ 1846 کی صلح میں انگریزوں کے پنجاب میں اپنے قدم جمانے کے لیے اس نے ابتدائی اقدام اٹھائے۔

پنجاب کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج میں ضم کر لینا، انگریزوں کی طاقت سی باہر تھا۔ انھوں نے اس مراد کو پانے کے لیے دھیرے دھیرے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

سکھوں کے کچھ سردار انگریزوں کے طرف دار تھے۔ اکثر ان کی گہری چالوں کو سمجھ نہ پائے یا سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ انگریزوں کی نیت اور ارادوں کو سمجھنے اور دیس کے سچے وفاداروں میں دیوان دینا ناتھ اور مہارانی جند کور نمایاں تھے۔ لارڈ ڈلہوزی یہ جانتا تھا کہ صرف مہارانی جند کور ہی پنجاب میں انگریزوں کے خلاف خطرہ کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چنانچہ پنجاب کو اپنی مکمل گرفت میں جکڑنے کے لیے لارڈ ڈلہوزی نے مہارانی جند کور کو دلیپ سنگھ سے جدا کرتے ہوئے شیخوپورہ قلعے میں قید کر دیا۔

پہلی اینگلو سکھ جنگ کے بعد مارچ 1846 کے معاہدے کے تحت برٹش فوج نے سال کے آخر میں لاہور سے واپس چلے جانا تھا۔ لارڈ ہارڈنگ کسی نئی صلح کے سہارے پنجاب پر پہلے سے بھی زیادہ گہرا رسوخ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ بھی چاہتا تھا کہ نئی صلح کی اپیل بھی سکھ سرداروں سے ہی کرائی جائے۔

چنانچہ معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی، گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ کے خاص سفیر، فریڈرک کری نے لاہور دربار کے سرداروں سے زبردستی ایک دستاویز لکھوائی جس میں انگریزی فوج کو لاہور میں ہی تعینات رہنے کو کہا گیا۔ چنانچہ 16 دسمبر 1846 کو بھیرووال کے مقام پر ایک نیا معاہدہ ہوا جس کے تحت ہینری لارنس کو لاہور میں ریزیڈینٹ تعینات کتا گیا اور خالصہ راج کے تمام علاقوں میں حکومتی کام نمٹانے کے سب اختیارات اسے سونپ دیے گئے۔ ریزیڈینٹ کی نامزد ممبروں کی کونسل آف ریجینسی کو نئے سرے سے تشکیل دے کر، تیز سنگھ کو سربراہ تعینات کیا گیا۔ انگریزوں کو امن قائم رکھنے کے بہانے غیر معینہ مدت تک سکھ راج کے علاقوں میں تعینات رہنے کی چھوٹ دے دی گئی۔ اس معاہدے کا مہاراجا دلیپ سنگھ کی عمر 16 سال ہو جانے تک لاگو رہنا طے کیا گیا۔

جولائی 1847 کو گورنر جنرل کی طرف سے جاری ہوئے ایک اور اعلان کے تحت ریزیڈینٹ کے اختیارات بڑھا دیے گئے۔

جنوری 1848 میں ہینری لارنس کی جگہ فریڈرک کری، اور لارڈ ہارڈنگ کی جگہ لارڈ ڈلہوزی نیا گورنر جنرل بنا۔ ڈلہوزی اور کری کو جلد ہی ملتان کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کو بہانہ بنا کے مہاراجہ دلیپ سنگھ کے علاقوں کو ہندوستان کے برطانوی راج کے علاقوں میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ لاہور میں تعینات ریزیڈینٹ نے ملتان کے گورنر دیوان مول راج کی طرف سے دیے جانے والے لگان میں اضافہ کر دیا۔ مول راج نے اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے اپنی صلاحیت ناکافی بتاتے ہوئے گورنری سے استعفٰی دے دیا۔

فریڈرک کری نے اس کی جگہ ’جنرل کاہن سنگھ‘ کو گورنر نامزد کیا اور دو برطانوی افسروں کے ہمراہ، مول راج سے چارج لینے کے لیے ملتان بھیجا۔ جنرل کاہن سنگھ اور انگریز افسر 18 اپریل 1848 کو ملتان پہنچے۔ دیوان مول راج نے رسمی کارروائیاں پوری کرتے ہوئے، قلعہ خالی کر دیا اور چابیاں لاہور دربار کے نمائندوں کو سونپ دیں۔ لیکن مول راج کے سپاہیوں نے بغاوت کر دی اور برطانوی افسروں کو ان کے کیمپ میں ہی مار کر ملتان کی بغاوت کا آغاز کر دیا۔

لاہور سے آئی جنرل کاہن سنگھ کی فوج کے سپاہی بھی مول راج کے فوجیوں میں شامل ہو گئے۔ کری کو اس واقعے کی اطلاع 21 اپریل کو مل گئی۔ اس نے جان بوجھ کر کارروائی کرنے میں دیر کی۔ لارڈ ڈلہوزی نے ملتان کی بغاوت پر قابو پانے کے لیے پانچ مہینے کوئی کارروائی نہ کی۔ اس دورانیے میں الٹا سکھوں کو بھڑکانے پر پورا زور دیا گیا۔ مہارانی جند کور کو سخت نگرانی میں رکھا جانے لگا۔ سکھ سرداروں کے ساتھ ملاقات پر پابندی لگا دی گئی۔

مہارانی کا نجی خرچ ڈیڑھ لاکھ روپے سے گھٹا کر 12 ہزار روپے کر دیا۔ مہارانی کے پچاس ہزار روپے مالیت کے زیورات اور ڈیڑھ لاکھ روپے نقد ضبط کر لئے۔ 16 اگست 1847 کو مہارانی کو شیخوپورے کے قلعے میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ انگریزاں کی طرف سے مہارانی سے اس توہین آمیز سلوک اور پنجاب میں اپنی طاقت ختم ہونے پر سکھ مشتعل ہو گئے۔ لاہور میں نئی حکومت بدنام ہو گئی۔ جالندھر دوآب میں جگیریں ختم کرنے اور مالیے کے نظام میں تبدیلیوں کی وجہ زمینداروں ممکن بے چینی پھیل گئی۔

ادھر بنوں میں تعینات ریزیڈینٹ کے معاون نے پٹھان سپاہیوں کی بھرتی شروع کر دی اور ملتان کی طرف کوچ کیا۔ باغیوں کو ہتھیار پھینک دینے کے لیے کہا۔

لارڈ ڈلہوزی نے، کسی حکم کے بغیر ملتان کو گھیرنے اور مول راج کو معاہدے کے لیے زور ڈالنا کا برا منایا۔ اس نے ریزیڈنٹ کے معاون کو اپنے طور پر کوئی بھی کارروائی کرنے سے روک دیا۔

تاہم ایڈوارڈیز نے حکم کی پرواہ نہ کرتے پیش قدمی جاری رکھی۔ کنیری کے مقام پر مول راج کی فوج کو لڑائی میں شکست دی۔ سکھ مول راج کی حمایت میں کھڑے ہونے لگے۔ دوسری جانب برطانوی فوجیں خالصہ راج کے سرحدی علاقوں میں پہنچنی شروع ہو گئیں۔ جون 1848 تک سرحد پر فوجیں کی تعینات مکمل کر لئی گئی جو ملتان کی بغاوت کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھیں۔

ہزارہ میں موجود ریزیڈینٹ کے معاون ’کیپٹن جیمز ایبٹ‘ کو یہ بھنک پڑی کہ ہزارہ کا گورنر چتر سنگھ اٹاری والا، انگریزوں کے خلاف ایک بڑی بغاوت کی تیاری کر رہا ہے۔ ایبٹ نے مسلمان زمینداروں اور کرائے کے قبائلی سپاہیوں کو ساتھ لے کر اس کے خلاف دھاوا بول دیا۔ کیپٹن نکلسن نے ایبٹ کے چتر سنگھ پر لگائے الزامات کی پڑتال کی اور بغاوت کے الزام سے بری الذمہ قرار دیا۔ لیکن نکلسن نے چتر سنگھ کو گورنری سے برخاستگی اور جاگیروں کی ضبطی کی شرط پر جان بخشی کی پیش کش کی گئی۔ چتر سنگھ نے اسے تسلیم نہ کیا۔

ایبٹ کی طرف سے اس سلوک توہین پر آخر چتر سنگھ نے بھی بغاوت کر دی بلکہ اسے بغاوت پر مجبور کر دیا گیا۔ چتر سنگھ کی بغاوت کا اعلان سن کر سپاہیوں کی ٹکڑیاں، اسے کے جھنڈے تلے اکٹھے ہونے لگیں۔ چتر سنگھ نے اپنے باغی ہونے کی اطلاع اپنے بیٹے راجا شیر سنگھ کو بھی بھیجی۔ سب باتوں پر غور کر کے راجا شیر سنگھ بھی باغی ہو کر 24 ستمبر 1848 کو مول راج کی فوج سے مل گیا۔

رنجیت سنگھ کی طاقتور خالصہ فوج 1846 میں سبھراواں کے نام پر ہوئی لڑائی کی بعد توڑی جا چکی تھی۔ برطانوی عہدیداروں نے خالصہ فوج کے سپاہیوں کو بکھیر دیا۔ جرنیلوں کو یا تو برخاست کیا جا چکا تھا، یا پھر لالچ دے کر اپنا طرف دار کر لیا گیا گا۔ جاگیرداروں پر منحصر فوج بھی کمزور ہو چکی تھی۔

چنانچہ یہی ’نام کٹے سپاہی‘ شیر سنگھ کی فوج سے آن ملے۔ خالصہ فوج کی ٹکڑیاں ہزارا، پشاور، ٹونک اور بنوں سے باغی فوج سے مل گئیں۔ برخاست کیے گئے سپاہیوں کے پاس چند جرنیل اور معمولی قسم کا اسلحہ تھا۔ مزید ہتھیاروں کے حصول کا کوئی ذریعہ بھی نہیں تھا۔

لارڈ گف 9 نومبر کو ستلج پار کرتے ہوئے 13 نومبر کو لاہور پہنچ گیا۔ اس نے رچنا دواب میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے وہ 22 نومبر کو رامنگر پہنچ گیا۔

رامنگر کی مقام پر لڑائی میں سکھوں کو جیت ہوئی۔

13 جنوری 1849 کو چیلیانوالا کی لڑائی میں، شیر سنگھ کی کمان میں بارہ ہزار جوانوں کی طاقتور سکھ فوج سے انگریزوں کا سامنا ہوا۔ انگریزی فوج کو گھنے جنگل کی وجہ سے مورچہ بندی میں مشکل ہوئی۔ جس سے نظم برقرار نہ رہ سکا۔ انگریزوں کے لیے یہ جنگ بہت بھیانک ثابت ہوئی۔

ہندوستان بھر میں لڑی جانے والی جنگوں میں سے اس لڑائی میں ایک ساتھ مارے گئے گورے سپاہی زیادہ تعداد تھی۔ لڑائی کے بعد برطانوی پریس اور انگریز اس بھیانک لڑائی کی بعد سہم گئے۔ برطانوی پارلیمینٹ میں اس لڑائی میں ہوئے نقصان پر ماتم منایا گیا۔

ملتان پر برطانوی قبضہ ہو گیا جہاں دیوان مول راج نے 22 جنوری 1849 کو میجر جنرل وشّ کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔

ادھر لارڈ گف نے 21 فروری 1849 کو لڑی گئی گجرات کی لڑائی میں اپنی ساکھ سدھار لی۔ سکھ فوج جہلم دریا کے کنارے چلتے ہوئے 15 فروری کو گجرات پہنچی۔ 13 فروری نوں میجر۔ جنرل وشّ کی پہلی ڈویزن برطانوی فوج کے ساتھ مل گئی۔ بمبئی کے پندرہ ہزار فوج بھی کچھ دنوں میں پہنچ گئی۔ جوانوں کی مزید نفری اور بھاری توپخانے کی آمد سے لارڈ گف کا حوصلہ مضبوط ہوا اور فوج کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔

گجرات کی لڑائی کو ہندوستان میں برطانوی لڑائیوں کی تاریخ میں سب سے اہم واقعہ گردانا جاتا ہے۔ گجرات میں برطانوی فوجوں کی فیصلہ کن جیت سے 11 مارچ 1849 کو جنگ بندی ہو گئی۔ شیر سنگھ اور چتر سنگھ نے رسمی طور پر راول پنڈی کے نزدیک میجر جنرل گلبرٹ کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔

گجرات کی لڑائی میں فیصلہ کن جیت حاصل کر کے انگریزوں نے پنجاب کا برطانوی ہندوستان میں ضم کر لیا۔ دیوان مول راج کو کالا پانی بھیج دیا۔ خالصہ فوج کو غیر مسلح کر کے تحلیل کر دیا۔ سرداروں کی طاقت کمزور کر کے پنجاب میں بڑے عہدوں پر انگریز افسر نامزد ہو گئے۔ یوں مہاراجا رنجیت سنگھ کی طرف سے قائم کیا گیا ایک طاقتور راج اندرونی کمزوریوں کے نتیجے میں برباد ہو گیا اور انگریز پنجاب کے مالک بن بیٹھے۔

21 دسمبر 1849 کو مہاراجا دلیپ سنگھ کو لاہور سے فتح گڑھ بھیج دیا۔ فتح گڑھ میں مسٹر لاگن اور لیڈی لاگن کی نگرانی میں رکھا گیا۔ انہیں یہ ہدایت کی گئی کہ دلیپ سنگھ کو عیسائیت کی طرف راغب کیا جائے۔ 1853 کو فتح گڑھ میں ہی دلیپ سنگھ کو عیسائی بنا دیا گیا۔ مئی 1854 کو جلا وطن کر لندن بھیج دیا۔

دلیپ سنگھ انگریزی لباس میں

1860 میں دلیپ سنگھ اپنی ماں سے ملاقات کرنے کے لیے ہندوستان آیا۔ انگریزوں نے مہارانی کو پہلے شیخوپورہ اور پھر بنارس میں قید میں رکھا۔ بنارس سے وہ نیپال کی طرف فرار ہو گئی۔ 1860 میں اپنے بیٹے سے ملنے کلکتے آئی۔ وہیں سے دلیپ سنگھ اسے اپنے ساتھ انگلینڈ لے گیا۔ جہاں 1863 میں اس کی موت ہوئی۔

مارچ 1886 کو دلیپ سنگھ ہندوستان جانے کے لیے جہاز میں سوار ہوا۔ مہاراجے کی واپسی کی خبر سے انگریزی سرکار گھبرا اٹھی۔ جب جہاز عدن کی بندرگاہ پہنچا تو وہیں سے مہاراجا کو فورا واپس لندن کا حکم دیا۔ دلیپ سنگھ نے احتجاج کرتے ہوئے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ 3 جون 1886 کو عدن سے پیرس جانے سے پہلے، وہاں موجود ٹھاکر سنگھ سندھاوالیے اور گیانی پرتاپ سنگھ کے ہاتھوں ’امرت‘ پی کر سکھ مذہب قبول کر لیا۔

1886 کے آخر میں سندھاوالیے سردار ٹھاکر سنگھ نے پانڈی چری پہنچ کر مہاراجے کی وطن واپسی کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔ فرانسیسی اور دوسرے ممالک کی حکومتوں سے رابطے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور پنجاب میں اہم رابطے کیے۔ تاہم 1887 میں صحت کی خرابی کی وجہ سے سردار ٹھاکر سنگھ کی موت ہو گئی، جس کے بعد مہاراجا دلیپ سنگھ خود کو اکیلا محسوس کرنے لگا۔

22 اکتوبر 1893 کو دلیپ سنگھ کا پیرس کے ایک ہوٹل میں انتقال ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •