کاش میں محبت کا اظہار کرنا پہلے ہی سیکھ جاتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 میرے کمرے کی کھڑکی کھلی ہے۔ اس سے ٹھنڈی ہوا اپنی نمی اور خوشگواریت کے ساتھ شر شر کرتی میرے ارد گرد بہہ رہی ہے۔ وہ مور جو سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا میری ماں کے گھر صبح کاذب کے وقت بولا کرتا تھا۔ پتا نہیں کیسے یہاں تک آن پہنچا! مور کی آواز۔ میری۔ کھلی کھڑکی سے اندر آتی ہے اور میرے کمرے میں پھیل جاتی ہے۔ مجھے ماں اور اس کا سرخ اینٹوں کا صحن یاد آتا ہے۔ وہ انگور کی بیل جس کی پھیلی ہوئی چھاؤں میں میری ماں بیٹھ کر عبدالحلیم شرر کی جویائے حق پڑھتی تھی۔ اور سیف الملوک کے بیت اٹھاتی تھی۔

جب اس کے گرد رنگ رنگ کی دکھی عورتوں کے دُکھ بولتے تھے۔ اور وہ ان کی تسلی اور دلاسے کو ہمہ وقت مو جود ہوتی تھی۔ میری ماں زمانی اعتبار سے جسے ر خصت ہوئے چوبیس طویل برس بیت چکے ہیں، مگر دل کہ اب بھی اس کی جدائی سے چور چور ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی کمی پہلے سے زیادہ محسوس ہو تی ہے۔ آج ملک بھر میں مدرز ڈے منایا جا رہا ہے۔ بازاروں میں مدرز ڈے کی لوٹ سیل لگی ہے۔

لوگ سیل پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔ ماؤں کے لئے تحفے تحائف۔ ماؤں کے لئے محبت کے پیغامات۔ ہر جانب ماں کی عظمت کے چرچے۔ ما ں تجھے سلام۔ ماں تو سب سے عظیم ہے۔ تجھ جیسا کوئی نہیں ماں۔ آئی لو یو ماں۔ آئی لویو۔ انہی آوازوں کے شور میں انگور کی بیل تلے بیٹھی ہوئی ماں کی نم آواز میری پتلیوں پر عجیب سا درد چھوڑ جاتی ہے۔ جو میرے دل کو مٹھی میں لے کے پوچھتا ہے۔ مدرز ڈے پر جب سارے بچے ماؤں کی عظمتوں کو سلام کر رہے ہیں تو۔۔۔ تو اتنی خاموش کیوں ہے؟ کیا ا تیرا دل نہیں چاہتا کہ تو بھی اونچی آواز میں زور سے کہے ماں۔ آئی لو یو۔ ماں تو میرے لئے ہر ضرورت سے بڑی ضرورت ہے۔ ہر محبت سے بڑی محبت ہے۔ جب سے تو نے اس دنیا سے پردہ کیا ہے، میں تجھے ہر عورت کے چہرے میں ڈھونڈتی ہوں۔ مگر کسی عورت کے چہرے میں تو دکھائی نہیں دیتی۔ تو کہاں ہے ماں؟ تو کہاں ہے؟ مگر افسوس میں یہ سب کچھ سوچ کر رہ جاتی ہوں۔ کہہ نہیں سکتی۔ یہ نہیں کہ مجھے کہنا نہیں آتا۔

بات یہ ہے کہ جس نسل سے میرا تعلق ہے اس نسل کو محبت کا اظہار سکھایا ہی نہیں گیا تھا۔ اس نسل کو کسی بھی اظہار کے لئے تیار نہیں کیا گیا تھا۔ چاہے وہ نفرت ہو چاہے محبت۔ یہ دبو اور اپنے فطری جذبوں کے اظہار سے ڈرتی ہوئی نسل میری نسل ہے۔ جو نہ تو ماں سے کھل کر اظہارِمحبت کر سکی۔ نہ اس کسی سے جو اسے پہلی نظر میں خیالی محبوب جیسا لگا۔ ۔ باقی معاملے تو رہے ایک طرف، مگر مجھے ہمیشہ ایک بات کا قلق رہا کہ میں اور کچھ نہیں تو اپنی ماں سے اور اس کی ماں سے اس محبت کا اظہار کیوں نہ کر سکی، جو میری روح کی ضرورت تھی۔ اور جس کا اظہار مجھے تنگ کرتا رہتا تھا۔

مجھے یاد ہے جب میری نانی بی بی غلام فاطمہ، جس کی شخصیت میں پیر وارث شاہ کی جٹی ہیر پوری جھلک دیتی تھی۔ اور وہ جٹی ہیر کی طرح ہی ساری زندگی اپنے پورے قد سے کھڑی دکھائی دیتی رہی، اور دیہاتی معاشرے کے مردانہ جبر اور خوف سے بھرے ماحول میں، جس کے سامنے آنے سے بڑے بڑے لوگ گھبراتے تھے۔ جب آج سے چوبیس برس پہلے شیخ زید ہاسپیٹل کے آئی سی یو میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی اور سفید ململ کے دوپٹے میں لپٹا اس کا چہرہ سکون کی کسی منزل پر ٹھہرا ہو اتھا۔ اور اس کی بے پناہ آنکھیں بند تھیں۔ وہ کسی بھی لمحے ہمیں چھوڑ کر جانے والی تھی، تو میں اس کی ٹھنڈی پڑتی پیشانی پرہاتھ رکھتی تھی اور میری آنکھیں چناب بہاتی تھیں۔ سوہنی کا چناب جس کے کنڈے پر میری ماں کی ماں کا تخت ہزارہ تھا۔ جس کے ایک ٹھنڈے اور دنیا کے سب سے خوبصورت گھر میں میری ہیر کی چھب والی نانی کا سکہ چلتا تھا۔

اور تخت ہزارے والے بے بے غلام فاطمہ کا ادب بے اختیار کرتے تھے۔ مگر میں اظہار سے شرمندہ۔ نانی کے پیلے پڑتے ماتھے پر ہاتھ رکھے چناب بہاتی رہی اور وہ ململ کے سفید دوپٹے والی میری نانی اپنی بے پناہ آنکھوں میں میرے لئے ساری شفقت اور محبت سمیٹے چل دی۔ مجھے اس کے بعد جب اس کی محبت کے اظہار نے مار دیا، تو میں نے سیارہ ڈایجسٹ میں نانی پر ایک دل گداز مضمون باندھا۔ جیسے لکھتے ہوئے میں اس مضمون کو بار بار آئی لو یو نانو، سناتی رہی۔ مگر شاید اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔ نانو شاہ براہم کے قبرستان میں مٹی کی ایک ڈھیری میں گم ہو چکی تھی۔ اور میں اس ڈھیری پر بیٹھی چناب بہاتی تھی۔

ماں کے معاملے میں گرچہ میں خو د کو بہت سمجھا چکی تھی اور اظہار میں دیر کے دکھ کو جھیل بھی چکی تھی، مگر اس کے باوجود مجھ سے کبھی نہ کہا گیا، ماں آئی لو یو۔ یہ چھوٹا سا لفظ جو اس زمانے میں اتنا گھس پٹ گیا ہے کہ اس کے معانی بھی گم ہو چکے اور شکل بھی تباہ ہو چکی۔ مگر میں حیران ہوں یہی گھسا پٹا لفظ بعض اوقات اتنا بھاری اتنا وزنی، اتنا با معنی ہو جاتا ہے کہ اس کی ادائیگی کا بوجھ مجھ جیسے اظہار سے شرمندہ لوگ اٹھا ہی نہیں سکتے۔ سو ان کے ساتھ یہی المیہ گزر جاتا ہے۔ کہنے نہ کہنے کے درمیان ساری عمر کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اور وقت آگے چلا جاتا ہے۔ میری ماں گر چہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی علالت میں میرے پاس رہیں۔ اور ہم ماں بیٹی نے ان دنوں میں ایک دوسرے سے جو شیئر کیا، شاید ساری زندگی کی شیئرنگ اس کا عشرِ عشیر بھی نہ تھی۔ مگر افسوس۔ میں ماں سے ان قربت کے آخری دنوں میں بھی اظہار نہ کر سکی۔ حالانکہ میں جانتی تھی یہ دنیا کی سب سے مہر بان اور حسین عورت بس اب پل گھڑی کی مہمان ہے۔ نقارہ بول چکا۔ کینسر نے اس کی رگ و ریشے پر قبضہ جما لیا ہے۔ دردوں نے اس کا وجود کھو کھلا کر دیا ہے۔ یہ چہرہ جو دنیا میں نایاب ہے، انوکھا ہے۔ دوبارہ نظر نہیں آنے والا۔ یہ گھڑی جس میں۔ یہ دنیا کی سب سے قیمتی انسان زندہ ہے میرے پاس ہے، پھر نہیں آنے والی۔ فنا کے ہاتھ بڑھ رہے ہیں اس محبت کی جانب، جس پر میرا بلا شرکتِ غیرے قبضہ ہے۔ میں نے بڑ ی کوشش کی۔ کئی دفعہ ہمت باندھی۔ مگر وہ چھوٹا سالفظ ادا نہ ہو پایا۔ جو مجھ پر بھاری تھا۔ مگر میں اسے اٹھائے ہوئے تھی۔

ماں چلی گئی مور بولتا رہا۔ میں اس کے گھر جب جب گئی مور میرے کانوں میں سر گوشیوں سے کہتا رہا۔ آئی لو یو۔ پھر ماں کے بعد ابا جی بھی چلے گئے اور ان کے بعد وہ گھر جہاں مور بولتا تھا، وہ بھی ہاتھو ں سے نکل گیا۔ ہاں اس دوران مدرز ڈے کو کارپوریٹ کلچر ہمارے گھروں۔ ہمارے معاشرے تک کھنچ لایا۔ گھر گھر سال میں ماں کا ایک دن منایا جانے لگا۔ سارے بچے مشینی انداز میں۔ ایک دن کی محبت ماں سے جتانے لگے۔ ماں دیکھتے ہی دیکھتے ایک دن کے لئے اہم ہو گئی۔ میرے بچے بھی چونکہ اس بولنے والی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان کے بچے تو ہیں ہی کمپیوٹر ایج کے بچے، سو ہر مدرز ڈے پر میرا دن میرے بچے دھوم دھام سے مناتے ہیں۔

میں اس دھوم دھام پر اپنے بچوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں، ان کا اظہار مجھے اچھا لگتا ہے، بہت اچھا۔ حالانکہ میں اس قسم کے اظہار کو کچھ زیادہ با معنی نہیں سمجھتی۔ مگر کئی دفعہ بے معنی چیزیں بھی بڑے بڑے معانی دے جاتی ہیں۔ بڑے بڑے نتائج کی طرف لے جاتی ہیں۔ چنانچہ ہر مدرز ڈے پرمجھے یہی پچھتادا گھیر لیتا ہے، میں اپنی ماں اور ماں کی ماں سے وہ چھوٹا سا لفظ کیوں نہ کہہ سکی؟ جو آج کل کے بچے چلتے پھرتے مکینیکل انداز میں کہہ اٹھتے ہیں۔ خصوصاً مدرز ڈے پر۔ مجھے مدرز ڈے کے کونسیپٹ پر چاہے جتنا بھی اعتراض ہو، مگر اس کا یہ پہلو اظہار کے حوالے سے مجھے اچھا لگتا ہے، کہ چاہے جتنا بھی مکینیکل ہو، جتنا بھی فرمائشی ہو، جتنا بھی جذبوں سے عاری ہو، اظہار تو ہے۔ ماں سے بچے کی محبت کا۔ ماں کی عظمت کا اعتراف، کہ چاہے ایک دن کے لئے ہی ہو، اظہار ضروری ہے۔ محبت کا اظہار، کہ اظہار سے محبت کا درخت پھلتا پھولتا ہے۔ اگر اظہار نہ ہو تو یہ درخت سوکھ جاتا ہے۔ اس کی جڑیں مٹی میں دب جاتی ہیں۔ ان کی قبر بن جاتی ہے۔

ماں۔ اے ماں کی ماں۔ آئی لو یو۔ سارے دن تمہارے۔ تم میرے لئے آج بھی اتنی ہی زندہ ہو جتنی کہ آج سے چوبیس برس پہلے۔ میں آج بھی تمہیں اتنا ہی یاد کرتی ہوں، جتنا اس وقت جب سیٹلائٹ ٹاؤن کا گھر تمہارے وجود سے زندہ تھا۔ جہاں صبح کاذب کے وقت مور بولتا تھا۔ اور تم انگور کی بیل تلے اپنے وجود کی ہمہ گیریت کے ساتھ موجود ہوتی تھیں۔ میری ماں میں تمہیں دنیا کی سا ری ماؤں میں دیکھتی ہوں، اور اظہار کی پوری شدت سے کہتی ہوں، ماں میں تم سے پیار کرتی ہوں۔ ہمیشہ ہمیشہ کرتی رہوں گی۔ کاش میں یہ اظہار پہلے سیکھ لیتی۔ کاش۔ کاش۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •