تنگ ذہنیت کے مالک صرف مرد نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں ایک دوست کے آرٹیکل کا مطالعہ کیا جس میں بیان کیا گیا تھا کہ مرد تنگ ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں جو عورت کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن آج ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں اس میں خواتین بھی اسی قسم کی ذہنیت میں مبتلا ہیں۔ مردوں سے آگے نکلنے کی جدو جہد میں وہ اپنی حقیقی اہمیت کو فراموش کر تی جا رہی ہیں ایسا سمجھا جاتا ہے کہ آج کے دور کی عورت باہر کام کرنے کے ساتھ ساتھ گھر بھی سنبھال لیتی ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر اس کا شوہر اس کی ہر ضرورت گھر میں پوری کر رہا ہے تو پھر اسے گھر کو اہمیت نہ دے کر باہر کام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

اس کا حقیقی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اپنے گھر اور بچوں کی تربیت پر توجہ دے تاکہ آگے آنے والی نسل بہتر طریقے سے پروان چڑھ سکے۔ اگر ہم ماضی کی مثالوں پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان ماؤں نے صرف اور صرف اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دی جس کی وجہ سے عظیم شخصیات نے پرورش پائی اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کیا۔ آج کی چند خواتین اپنی تمام ضروریات پوری ہونے کے باوجود صرف اپنے شوہر کو یہ بتلانے کے لئے کہ ”میں بھی کام کر سکتی ہوں“ اپنے بچوں کی تربیت کو داؤ پر لگا دیتی ہیں تو کیا یہ ان کی تنگ ذہنیت کا مظاہرہ نہیں ہے؟

اسی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں مردوں کو پیچھے نہیں چھوڑنا ہے بلکہ ان کے ساتھ قدیم سے قدم ملا کر چلنا ہے۔ انہیں اپنے فرائض انجام دینے چاہیے اور ہمیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کر کے اس قابل بننا چاہیے کہ اگر مستقبل میں مشکل حالات کا سامنا ہو تو ان کا مقابلہ کر سکیں اور بچوں کی بہتر تربیت کر سکیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقصیٰ بخاری کی دیگر تحریریں
اقصیٰ بخاری کی دیگر تحریریں
––>