ہائے میرا کنٹینر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جی جناب۔ وہ بھی کیا وقت تھا کہ کنٹینر پر کھڑے ہیں، جو من میں آئے کہتے ہیں۔ کچھ بھی سناتے ہیں۔ ان گنت اقسام کے خیالی پلاو پکا کر کھلاتے ہیں۔ کبھی کہنا کہ یہ کر دوں گا، میں وہ کر دوں گا۔ تو کبھی کہنا کہ تین سو ڈیم بنا دوں گا۔ پھر ان گنت من مرضی کے بھاشن کہ جن میں حقائق کو من چاہے انداز میں یوں بیان کرنا کہ آسمان نیلا نہیں سفید ہے۔ اور انداز بیان اتنا باوثوق ہوتا تھا کہ نیچے کھڑا مجمع ماننے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ جگہ جگہ تذکرے تھے، کہ یہ الگ ہے، یہ سچ بات کرتا ہے یہ الگ بات کرتا ہے۔ دیکھو اس کی قمیض میں سوراخ بھی ہے یہ واقعی انوکھا ہے۔ اور بس پھر ”پیر تبدیلی والی سرکار“ کے مریدین کی لائن لگ چکی تھی۔

جیسے میلے میں ایک جگہ لگا دلچسپ تماشا مجمِع کو اپنی طرف گھیر لیتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں کی تعداد، تماشے سے محظوظ ہونے لگتی ہے۔ ”پیر تبدیلی والی سرکار“ کا بھی یوں ہی مجمع بڑھتا گیا تھا۔ ہاتھ کی صفائی کے کرتب پر تماشائیوں کو واہ وا کرتے تو دیکھا تھا۔ ”حقائق کی صفائی“ پر بھی واہ وا دیکھنے کو ملنے لگی تھی۔ مجمِع کی حالت بھی ایسی تھی کہ بس:

اے کاش کہ اب ہوش میں ہم آنے نہ پائیں

صفائی یقنینا بہت تھی۔ جو بات نکلتی تھی دل کو لگتی تھی۔ بات کا تعلق حقائق سے دور دور تک نہ بھی ہو مگر مریدین اش اش کر اٹھتے، یہاں تک کہ سر کاٹنے کو تیار تھے۔ (کٹوانے مت پڑھیے گا)۔ خون خوار نگاہ قاتل ادا۔ زبان خنجر۔ بس پیر کو چوں جو کرے تو اس کی خیر نہیں ہوتی تھی۔ مریدین کی طرف سے بوچھاڑ شروع ہو جاتی تھی۔ جی جی بالکل۔ گالیوں کی بوچھاڑ۔

ہائے کیا دن تھے وہ بھی ”پیر تبدیلی والی سرکار“ کے۔ اب تو موصوف کنٹینر کو یاد کر کے راتوں کو بس یہی گنگناتے ہوں گے۔

؎ وہ معصوم چاہت کی تصویر اپنی
وہ خوابوں خیالوں کی جاگیر اپنی

اب وہ دن کہاں۔ اب ”حقائق کی صفائی“ کام نہیں آ رہی۔ جو جو کہا پلٹ کر منہ کو آ رہا ہے۔ جیسے جیسے کہا گھوم کر منہ چڑا رہا ہے۔ جو جو لغویات بکیں، رات بھر اب کانوں کو پڑتی ہیں۔ جو جو تھوکا، آسمان کے بل واپس آ رہا ہے۔

مہنگی بجلی گیس پر حکمراں کا چور ہونا
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ان سب باتوں میں مبالغہ بالکل نہیں۔ اب تو مثال بھی دینے کی ضرورت نہیں۔ سب انکھوں دیکھا، کانوں سنا ماجرا ہے۔ جو ایک تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔ ”خود کشی کر لوں گا“ والی کہانی تو آپ سبھی کو معلوم ہی ہے۔ یہ سلسلہ اب نجانے کب تھمے گا، کہاں رکے گا۔ کیا کیا غرق کر کے رکے گا۔ امید ہے کہ جلد رکے گا۔ خدا سے دعا ہے کہ سزا کا وقت اب ختم ہو جائے۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ ”حقائق کی صفائی“ کے سحر میں مبتلا مریدین بھی آنکھیں جھٹکتے ہوئے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ:

میں ہوش میں تھا، تو پھر اس پہ مر گیا کیسے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سلمان طارق کی دیگر تحریریں
سلمان طارق کی دیگر تحریریں
––>