یہ صحرا جنگ کا صحرا ہے


\"husnain

ہم لوگ چھوٹے ہوتے تھے تو دنیا کی ہر سہولت ہمارے ماں باپ ہم پر نچھاور کرنے کے لیے بے تاب ہوتے تھے۔ ذرا تکلیف ہوتی تو ماں ایسی بے چینی سے گلے لگاتی تھی کہ سب کچھ اسی وقت ختم ہو جاتا تھا۔ باپ رات کو تھکا ہوا دفتر سے آتا اور کسی ایک کو بھی بخار میں دیکھتا تو اسی وقت جا کر دوا لاتا، کھانا بعد میں کھاتا۔ دادی ایسی پیار کرنے والی ہوتی تھیں کہ ان کو جو پیسے اپنے جیب خرچ کے لیے ملتے ان سے بھی وہ بچوں کو قلفیاں اور لچھے کھلا دیتیں۔ دادا نے پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی جب انہیں معلوم ہوا تھا کہ ان کے یہاں پوتا پیدا ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ مزدور چلتا جاتا تھا، ٹوکرا اس کے سر پر ہوتا تھا، ہر ایک کے یہاں رک کر مٹھائی دیتے اور خوش خبری سناتے اور مبارک باد وصول کر کے آگے بڑھ جاتے۔ پھوپھی، خالہ، ماموں، کوئی ایسا رشتہ نہیں جہاں سے لاڈ پیار نہ ملا ہو اور بے تحاشا نہ ملا ہو۔

\"refugee-kid\"

اس بچے کے بھی کوئی دادا ہوں گے جنہوں نے مٹھائی بانٹی ہو گی، نہ معلوم وہ اب کہاں ہوں گے۔ کوئی دادی اس کو بھی آئسکریم کھانے کے لیے پیسے دیتی ہوں گی، کاش وہ باقی ہوں۔ ماں زندہ نہیں ہو گی، ماں ہوتی تو یہ اس کے سینے سے لپٹا باہر آتا، بہت مشکل ہے کہ اس بچے کی ماں زندہ ہو!

اس کے باپ نے کسی یورپی ملک سے پناہ مانگی ہو لیکن اب تک اسے کوئی جواب نہیں ملا ہو گا۔ وہ گھر میں لیٹے وہی فائل دیکھتا ہو گا اور اپنی اولاد پر نظر کرتا ہو گا کہ پھر کچھ بھی نہ رہا ہو گا۔ باپ بھی شاید اس ٹینشن سے آزاد ہو گیا ہو۔ کوئی پھوپھی اسے جھنجھنوں سے کھلاتی ہو گی، کوئی خالہ جو اسے رنگارنگ تحفے دیتی ہو گی، کوئی ماموں جن کے کندھوں پر چڑھ کر یہ ناچتا ہو گا، ہیں تو کس حال میں ہیں، نہیں ہیں تو کیوں نہیں ہیں؟

کوئی نہیں جانتا!
یہ جنگ ہے۔ یہ واہیات چیز کسی رشتے اور کسی پیار کو نہیں دیکھتی۔ یہ مسلط ہونا جانتی ہے۔ اس کو ٹال سکتے ہیں، اس کو روک سکتے ہیں۔ جب چھڑ جاتی ہے تو پھر کوئی بچہ بچہ اور بڑا بڑا نہیں رہتا۔ پھر دنیا کو بہت سے ایلان کردی ملتے ہیں جو سمندر کنارے مرتے ہیں تاکہ ان کی لاش پر امن کی تحریکیں چلائی جائیں۔ پھر دنیا کو حلب کے عمران کی تصویر اور ویڈیو ملتی ہے آنسو بہانے کے لیے۔ خبریں پڑھنے والی پڑھتے پڑھتے رو پڑتی ہے، کالم لکھنے والا لکھتے لکھتے رو پڑتا ہے۔ ابن انشا آگے بڑھتے ہیں اور مشکل آسان ہو جاتی ہے۔

\"syrian-kid-1\"یہ بچہ کیسے بیٹھا ہے
یہ بچہ کب سے بیٹھا ہے
یہ بچہ کِیا کچھ پوچھتا ہے
یہ بچہ کیا کچھ کہتا ہے
یہ دنیا کیسی دنیا ہے
یہ دنیا کس کی دنیا ہے

یہ صحرا کیسا صحرا ہے
نہ اس صحرا میں بادل ہے
نا اس صحرا میں برکھا ہے
نا اس صحرا میں بالی ہے
نا اس صحرا میں خوشہ ہے
نا اس صحرا میں سبزہ ہے
نا اس صحرا میں سایا ہے

یہ صحرا بھوک کا صحرا ہے
یہ صحرا موت کا صحرا ہے (یہ صحرا جنگ کا صحرا ہے)

یہ بچہ کیسا بچہ ہے
جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے
نا اس کے پیٹ میں روٹی ہے
نا اس کے تن پر کپڑا ہے
نا اس کے سر پر ٹوپی ہے
نا اس کے پیر میں جوتا ہے
نا اس کے پاس کھلونوں میں
کوئی بھالو ہے، کوئی گھوڑا ہے
نا اس کا جی بہلانے کو
کوئی لوری ہے، کوئی جھولا ہے
نا اس کی جیب میں دھیلا ہے
نا اس کے ہاتھ میں پیسا ہے
نا اس کے امی ابو ہیں
نا اس کی آپا خالہ ہے

یہ سارے جگ میں تنہا ہے

یہ بچہ کس کا بچہ ہے

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain