پنجابی جاگیرداروں کی 1857 میں انگریز کی حمایت کی ایک وجہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاہ محمود قریشی اور دوسرے پنجابی پیروں اور جاگیرداروں کے اجداد پر نفرت بھرے انداز میں الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے 1857 میں انگریز کا ساتھ دیا تھا۔ الزام تو درست ہے مگر اس کا تناظر کیا ہے؟

یہ بات بتاتے وقت ہم ایک حقیقت بھول جاتے ہیں۔ پنجاب پر سکھوں کی حکومت تھی۔ کئی علاقوں مثلاً شاہ محمود قریشی کے ملتان وغیرہ پر انہوں نے کافی ظالمانہ انداز میں فتح حاصل کی تھی۔ کئی مسلمان حکومتوں کو پنجاب سے لے کر کشمیر اور ملتان تک سکھوں نے شکست دے کر ان کا خاتمہ کیا تھا۔ بہت سے مسلمان سکھا شاہی سے نالاں تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں مسلمان عمائدین بھی موجود تھے اور رائے احمد خان کھرل جیسے سردار بھی مہاراجہ کے ساتھی تھے جو بعد میں انگریزوں کے خلاف جنگ میں اساطیری حیثیت حاصل کر گئے، مگر یہ بھی حققیت ہے کہ سکھوں کے دور میں مسلمانوں کے حالات اتنے اچھے نہیں تھے۔ روایت کے مطابق بادشاہی مسجد لاہور کو رنجیت سنگھ کی سپاہ اصطبل کے طور پر استعمال کیا کرتی تھی۔ یہی حال کچھ دوسری مساجد کا بھی بتایا جاتا ہے۔

ان حالات میں جب انگریزوں نے سکھوں کو شکست دی تو وہ بہت سے مسلمانوں کے لیے نجات دہندہ کا درجہ اختیار کر گئے تھے۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے ایرانی شہنشاہ کوروش اعظم کو یہودی نہ ہونے کے باوجود عہد نامہ قدیم میں مسیح قرار دیا گیا ہے۔ (Isaiah 45 : 1 ) ۔ نجات دہندہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کے عقیدے یا قوم سے تعلق رکھتا ہو۔

اس تناظر میں انگریزوں کی حمایت کرنے کی اور ان کا ساتھ دینے کی پنجابی مسلمانوں کے پاس معقول وجہ تھی۔ پنجاب سے سکھ اقتدار کا خاتمہ 1849 میں دوسری انگریز سکھ جنگ کے نتیجے میں ہو چکا تھا۔ جب 1857 کی جنگ کے شعلے بھڑکے تو بہت سے مسلمانوں کے پاس انگریزوں کو محسن مان کر ان کا ساتھ دینے کی معقول وجہ موجود تھی۔ دوسرے شاید یہ خوف بھی ہو کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ان کو دوبارہ سکھا شاہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جہاں تک اس دلیل کا تعلق ہے کہ انگریز غیر ملکی تھے اور اس ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے اس لئے ان کی مخالفت کرنی چاہیے تھی، تو خاص طور پر پنجاب میں پچھلے ہزار سال میں کون سا ایسا حکمران گزرا ہے جو ”غیر ملکی حملہ آور“ نہیں تھا؟ سرزمین ہندوستان ایک سلطنت صرف اشوک اور انگریزوں کے زمانے میں رہی ہے۔ ورنہ اکبر جیسا بادشاہ بھی پورے ہندوستان پر قبضہ نہیں کر پایا تھا۔ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی والا یہ خطہ ایک براعظم ہی کی سی حیثیت رکھتا ہے جس میں ہمیشہ بہت سی سلطنتیں موجود رہی ہیں۔ ملتان پر قبضہ کرنے والے مرہٹے بھی غیر ملکی تھے، ابدالی بھِی، سکھ بھی اور انگریز بھی۔

پنجابیوں کے لئے تو برصغیر کے مسلمانوں کا نجات دہندہ قرار دیے جانے والا احمد شاہ ابدالی بھی جو حیثیت رکھتا تھا، وہ اس مشہور ضرب المثل سے ظاہر ہے کہ ”کھادا پیدا لاہے دا، باقی احمد شاہے دا“۔ یعنی جو کھا پی لیا وہی بچت ہے باقی سب احمد شاہ لے جائے گا۔ پنجاب ویسے بھی بنگال اور گنگا جمنی میدان سے دور رہا ہے۔ ادھر انگریز جو بھی کر رہے تھے، پنجابیوں کو اس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ پنجابی ایک وقت میں مرہٹوں اور پھر ابدالیوں کے غلام رہے تھے۔ سکھوں کی شکل میں ایک مقامی حکمران ملا لیکن ان کی حکومت میں بھی مساجد اور درگاہوں کا تقدس پائمال ہوا۔ جبکہ ان کو ہٹا کر اقتدار سنبھالنے والے انگریزوں کی پالیسی مذہب کے بارے میں رواداری کی تھی۔ پنجابیوں کو وہ زیادہ بہتر لگتے تھے۔

یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ انہی انگریزوں کی فوج میں بھرتی ہو کر مغلوں کے دہلی پر حملہ کرنے والوں میں خود سکھ بھی شامل تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تمام تر طاقت ہونے کے باوجود دہلی پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی تو شاید اس کی وجہ دہلی پر انگریزوں کی حکومت بھی تھی۔ رنجیت سنگھ اور انگریزوں کی طاقتور سلطنتوں نے باہمی ٹکراؤ سے گریز کیا تھا۔ جب 1857 میں انگریزوں نے دہلی پر دوبارہ قبضے کے لئے چڑھائی کی تو سکھوں کو بھی مغلوں سے بدلہ لینے کا موقع مل گیا۔

جاگیرداروں اور پیروں کی موقع پرستی کا عنصر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کچھ خاندان ہوتے ہیں جو ہمیشہ چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ دور نہیں جائیں آج کے الیکٹ ایبل ہی دیکھ لیں جو مشرف کے ساتھ تھے، اس کا اقتدار ختم ہوتے دیکھ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے، اس کی حکومت جانے کے آثار ہوئے تو ن لیگ میں آ گئے اور اب تحریک انصاف میں ہیں۔ وہی الیکٹ ایبل 1857 میں بھی موجود تھے لیکن بہرحال یہ بھی ایک پہلو ہے کہ پنجابی مسلمانوں کے لئے انگریز، سکھوں سے بہتر آپشن تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1150 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar