روزے کے دوران ہمارے جسم کا ردعمل کیا ہوتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روزوں کے پہلے ہی دن بلڈ شگر لیول گرتا ہے یعنی خون سے چینی کے مضر اثرات کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔دل کی دھڑکن سست ہر جاتی ہے اور خون کا دباؤ کم ہو جاتا ہے یعنی بی پی گر جاتا ہے۔ اعصاب جمع شدہ کلای کوجن کو آزاد کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی کمزوری کا احساس اجاگر ہونا شروع ہوجاتاہے۔ زہریلے مادوں کی صفائی کے پہلے مرحلہ میں سر درد، چکر آنا۔ منہ کا بد بودار ہونا اور زبان پر مواد جمع ہونا شروع ہو جاتاہے۔ جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہوجاتی ہے اور پہلے ہی مرحلے میں کلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے اور بعض لوگوں کی جلد ملائم اور چکنا ہو جاتی ہے۔

جسم بھوک کا عادی ہونا شروع کرتا ہے اور اس طرح ساک بھر مصرف رہنے والا نظام ہا ضمہ رخصت مناتا ہے۔ جس کی اسے اشد ضرورت تھی اور خون کے سفید جرثومے اور قوت مدافعت میں اضافہ شروع ہوجاتا ہے۔ ہوسکتا ہے روزے دار کے پھیپڑوں میں معمولی مردتکلیف ہو اس لئے کہ زہریلے مادوں کی صفائی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انتڑیوں اور کولون کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ انتڑوں کی دیواروں پر جمع مواد ڈھیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

آپ پہلے سے توانا محسوس کرتے ہیں اور دماغی طور پر چست اور ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ پرانی چوٹ اور زخم محسوس ہونا شروع ہوجاتاہے۔ اس لئے کہ اب آپ کا جسم اپنے دفاع کے لئے پہلے سے زیادہ فعال اور مضبوط ہوچکا ہوتا ہے۔ جسم اپنے مردہ یا کینسر شدہ سیل کو کھانا شروع کر دیتا ہے اور جس سے عمومی حالات میں کیموتھراپی کے ساتھ مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے خلیات سے پرانی تکالیف اور درد کا احساس نسبتاّّ بڑھ جاتا ہے۔

اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ قوت مدافعت کے جاری عمل کی نشانی ہے اور روزانہ نمک کے غرارے اعصابی اکڑاوکا بہترین علاج ہے۔ جسم پوری طرح بھوک اور پیاس کو برادشت کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ آپ اپنے آپ کو چست، چاق و چوبند محسوس کرتے ہیں۔ ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہوجاتی ہے۔ سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے اور جسم کے سارے زہریلے مادوں کا خاتمہ ہوچکا ہوتاہے۔ نظام ہاضمہ کی مرمت ہو چکی ہوتی ہے اورآپ کے جسم سے فالتو چربی اور فاسد مادوں کا اخراج ہوچکاہوتاہے۔ بدن اپنی پوری طاقت کو ساتھ اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دیتاہے اور بیس روزوں کے بعد دماغ اور یاد داشت تیز ہو جاتی ہے۔ توجہ اور سوچ کو مرکوزکرنے کی صلاحت بڑھ جاتی ہے۔ بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کو بھر پور انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رانا علی اصغر کی دیگر تحریریں
رانا علی اصغر کی دیگر تحریریں