فاروق حیدر لیکس اور سردار عتیق کی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راجہ فاروق حیدر کی لیک کی گئی آڈیوز پر اخلاقی حوالوں سے بے شمار سوالات اٹھائے جا چکے۔ اُن کے سیاسی حامیوں میں سے بھی بہت سوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کے الفاظ کا انتخاب کافی ’آزادانہ ‘ تھا، عہدے سے جڑی حساسیت کو دیکھا جائے تو یہ اور بھی غیر محتاط تھا ۔ خودفاروق حیدر نے بھی ان الفاظ سے انکار نہیں کیا ۔ان کے اِرد گرد رہنے والوں نے البتہ تاویلیں کرکے صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن جس قدر غبار اٹھنا تھا ، اسے روکا نہ جا سکا۔
فاروق حیدر کے ناقدین کافی عرصے سے کسی ایسے ’بلنڈر‘ کے منتظر تھے کہ جس کو بنیاد بنا کر فاروق حیدر کی فصیل اقتدار میں نقب لگائی جائے۔ پاکستان کے زیر انتظا م جموں کشمیر میں ایسی سیاسی نقب زنی کی تاریخی روایت موجود ہے۔ حکومتوں کے کمزور دنوں میں یہاں کے سیاسی خانہ بدوش ’تحریک عدم اعتماد‘ اور ’فاروڈ بلاک‘ کی آپشن استعمال کر تے رہے ہیں ۔ ماضی قریب اور آج کے اکثر سیاست کار اس کھیل کا حصہ رہے ہیں۔ اب کی بار معاملہ البتہ مختلف ہے۔ فاروق حیدر کی صدارت میں مسلم لیگ نواز نے آزادکشمیر کے 2016کے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی اور پھرمسلم لیگ نواز 49کے ایوان میں 35نشستوں کی حامل ٹھہری۔ اپوزیشن کا حجم ناصرف یہ کہ بہت معمولی تھا بلکہ وہاں کسی مو¿ثر اتحاد کی توقع بھی نہیںتھی۔ اس صورت حال میں فاروق حیدر آزادکشمیر کی حالیہ تاریخ کے مضبوط ترین وزیراعظم قرار پائے ۔یہی وجہ کہ شروع ہی سے اُن کے لب ولہجے میںاعتمادکی جھلک برابر نظر آتی رہی ہے۔ حد سے بڑھے ہوئے اس اعتماد کی ایک قیمت بھی ہے ، جو وہ چُکا رہے ہیں۔
فاروق حیدر کے خلاف اٹھائے گئے حالیہ طوفان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ان کی سابق جماعت مسلم کانفرنس کی قیادت کافی سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ مسلم کانفرنس کافی عرصے سے آزادکشمیر کی سیاست میں مسلسل پسپائیوں کا شکار ہے ۔ پانچ نشستوں والی پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر محتاط قسم کی’مفاہمانہ‘ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ تیرھویں آئینی ترمیم کے معاملے میں بھی پیپلز پارٹی نے فاروق حیدر کو بوجوہ ٹف ٹائم دینے سے گریز کیا تھا۔مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان کی اس وقت بھی خواہش تھی کہ طوفان برپا کر دیا جائے لیکن کمزور سیاسی نمائندگی ، حکومتی صفوں میں اتحاداور اپوزیشن کا عدم التفات اُن کے اقدام کی راہ میں مزاحم ہوا۔پھرعتیق احمد خان کی سیاست ملاقاتوں ، تعزیتوں اور عشائیوں کی تصویرو ں تک محددو ہو کر ان کے فیس بک پیج پر سمٹ چکی تھی ۔ ایسے میں فاروق حیدر کی اپنے ایک وزیر کو فون کال اور نجی محفل میں کیے گئے کچھ تبصرے’سیاسی آکسیجن ‘بن کر عتیق احمد خان کو میسر آئے۔
ردعمل میں سردار عتیق احمد خان نے پہلے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں کے سامنے فاروق حیدر کی ’فوج دشمنی ‘ ثابت کرنے کی کوشش کی اور پھر یہ کہا کہ” فاروق حیدر خان کی گفتگو نے کشمیری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اب اُن کے پاس وزیراعظم کے عہدے پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں“ ۔ انہوں نے فاروق حیدرسے استعفا کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست بھر میں” عزت بچاو¿ تحریک “چلانے کا اعلان بھی کیا ۔
دوسری پریس کانفرنس مظفرآباد کے سینٹر ل پریس کلب میں ہوئی ،جہاں انہوں نے اپنے مطالبے کو دہرایا اور وزیراعظم فاروق حیدر کو ریاست کی عزت کے لیے ”خطرہ“ قرار دیا۔ جب سینئر صحافی عارف عرفی نے اُن سے پوچھا کہ ریاست کے وزیراعظم کے فون اگر ریکارڈ اور لیک ہونے لگیں تو کیا یہ سنگین صورت حال نہیں؟ سردار عتیق خان نے جو جواب دیا، وہ کسی جمہوری رہنما کے شایان شان نہیںتھا ۔ انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا کہ ”اگر کسی خفیہ ایجنسی نے یہ فون کال یا گفتگو ریکارڈ کی ہے تو وہ لائق تحسین ہے۔ اس ایجنسی کو تعریفی سرٹیفیکٹ دینا چاہیے۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”پاکستان کی ایجنسیوں کو آزادکشمیر کے معاملات پر خصوصی نگاہ رکھنی چاہیے۔“
سردار عتیق احمد خان کے ان جملوں سے ان کی سیاسی سوچ اور ’بصیرت‘ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ وہ مطلق جمہوریت کے کبھی حامی نہیں رہے ، وہ اپنی گفتگو میں ”ملٹری ڈیموکریسی“ کی اصطلاح ہمیشہ استعمال کرتے ہیں اور اس کا دفاع کرتے ہیں، چند سال قبل ایک انٹرویو میں انہوں کہا تھا کہ ”سیاست دان اَن پڑھ لوگ ہیں جبکہ فوج پڑھے لکھے لوگوں کا ادارہ ہے“ ۔ اب سردار عتیق احمد خان کو طویل عرصے بعد ایک ’ایشو‘ میسرآیا ہے جسے وہ استعمال کر کے ”مقتدر لوگوں“ سے یہ توقع کر رہے ہیں کہ آزادکشمیر میں کوئی ”چمتکار“ ہو جائے اور ان کےے سیاسی زوال کا دور ختم ہو۔ انہوں نے اس سلسلے میں مختلف اضلاع میں اپنے بچے کھچے کارکنوں کو بھی متحرک کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی ایسا بڑا شو کرنے میں وہ ناکام رہے جس کو دکھا کر کہا جا سکے کہ ”ریاست کے عوام فاروق حیدر سے نجات چاہتے ہیںلہذا ہماری داد رسی (بصورت انجینئرنگ) کی جائے“۔
سوشل میڈیا پر البتہ اب یہ افواہیں مسلسل چلائی جا رہی ہیں کہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ نواز تین دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔ وزراء کا ایک گروہ فاروڈ بلاک بنانے والا ہے ۔ سکندر حیات کسی بڑی تبدیلی کا محرک بننے والے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن فاروق حیدر نے مسلم لیگ نواز پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو ایک افطار ڈنر میں اکھٹا کر کے کافی سمارٹ کارڈ کھیلا ہے، جس کے پارٹی کی داخلی سطح پر کافی گہرے اثرات پڑے ہیں۔ یہ درست ہے کہ فاروق حیدر کے اسپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر اور سینئر وزیر طارق فاروق کے ساتھ تعلقات اُتار چڑھاو¿ کا شکار ہیں۔ وفاقی حکومت کے ساتھ بھی بہت مثالی مراسم نہیں لیکن کچھ اور چیزوں کے علاوہ ’وہاں‘ سے کرائی گئی ایک ’یقین دہانی‘ بھی اُن کے کام آ رہی ہے۔آزادکشمیر میں حکومتیں تبدیل کرانے والوں کو بھی اب کی بار ذرا الگ قسم کی صورت حال کا سامنا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اسمبلی میں ہوتے تو شاید یہ ”چمتکار“کب کا ہو گیا ہوتا کیوں کہ عتیق احمد و دیگر کی نسبت وہ اب ’ہارٹ فیورٹ ‘ ہیں۔
جہاں تک سوال ریاست کی ’عزت‘ کا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی ماضی کی طرف ذہن چلا جاتا ہے۔ سردار عتیق احمد خان کے دورِحکومت میں ان کے بڑے صاحبزادے کے ایک غیر ملکی دورے کو لے کر کافی چہ میگوئیاں ہوئی تھیں۔ ان کی ایک وزیر کے بیٹے سے منسوب اسکینڈل کی خبریں بھی گرم رہی ہیں۔ کچھ نجی نوعیت کے الزامات بھی لگتے رہے۔’ریاستی تشخص‘ کا عَلَم اٹھانے والوں کو اس وقت ”ریاستی عزت“ کا خیال آیااور نہ ہی اس وقت کوئی ایسا بیان دیا گیا۔ روحانی حوالے رکھنے والے عتیق احمد خان اس وقت ”خود احتسابی“ کی مثال قائم کر سکتے تھے لیکن انہوں نے خاموشی ہی میں عافیت جانی۔ اس عملی تضاد کودیکھتے ہوئے ان کے حالیہ اُبال پرسوال تو اُٹھائے جا سکتے ہیں۔
کیا فاروق حیدر کے خلاف آڈیوز کی بنیاد پر اٹھائے گئی یہ دھول چھٹنے پر کوئی نیا منظر طلوع ہو گا؟ اس کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ فاروق حیدر کے اقتدار کو ڈیڑھ سال کا عرصہ باقی ہے۔ ابھی کارڈز کی پوزیشن ویسی نہیں کہ ان کی حکومت گرائے جانے کا رسک لیا جائے۔ سو ایسا نہیں ہو گا ، ہاں یہ امکان ہے کہ اِس طرح کے شور و غوغا کے ذریعے اگلے الیکشن کے لیے پیش بندی کی جا رہی ہو ، ماحول اور میدان بنایا جا رہا ہو ۔ فاروق حیدر اپنے تئیں جن اقدامات کو ”کارنامے“ سمجھتے ہیں ، انہیں دھندلا دیا جائے اور وہ الیکشن میں انہیں کیش نہ کروا سکیں ، اوراس طرح کسی حد تک من پسند نتائج حاصل کر لیے جائیں ۔کہانی ابھی یہیں تک ہے ۔’چمتکار‘ کے منتظر لوگوں کے لئے صبر کی رات ابھی باقی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>