سفید فام بالادستی کا طاغوت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے بھی ہر دم یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں نے بھی اپنے دونوں بچوں علی اور عمر کو پردیس کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے۔ جیسا کہ میری فیملی ایک عرصہ باہر رہنے کے بعد چند برسوں سے اپنے وطن کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ ہم دونوں میاں بیوی تو ذہنی اور جسمانی طور پر چند برسوں سے اپنے وطن کو واپس لوٹ رہے ہیں لیکن ہمارے دونوں بچے ابھی وہاں پر زیر تعلیم ہیں۔ یہ بھی انوکھا کرب ہے کہ میرے گرد سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔

ہم تو اعلی تعلیم کے لئے ادھر گئے مگر کس کو معلوم تھا کہ زندگی کا پانسا یوں بدلے گا۔ اس کا اندازہ تب ہوا جب ناگہانی تلاطم میں گھر جانے کی صورت میں ساحل عافیت کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ مگر ہم آسمان سمجھ کر اسے چھونے کے شوق میں ہاتھ بڑھاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے اس خلا میں جو ترتیب ہے اسے بے ترتیب کرنے سے تباہی کے در کھولنے کے برابر ہے۔

میرا بیٹا عمر کیتھولک یونیورسٹی میں سافمور یعنی یونیورسٹی کے پہلے سال میں ہے

ہوا یوں کہ گزشتہ ماہ اس کے بچپن کے دوست عشیش کو ایک گورے کلاس فیلو نے معمولی تکرار پر یونیورسٹی کمپاؤنڈ میں گولی مار کر ہلاک کردیا۔ عمر تو جس کرب اور ذہنی کیفیت سے گزر رہا ہے وہ تو الگ، مگر عشیش کے والد ین اپنے اکلوتا بیٹے کے بہیمانا قتل کی وجہ سے شدت غم سے نڈھال اور بے بسی نے ان آنکھیں پتھر اور ہونٹ سی دیے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں سے امریکہ میں ہیٹ کرائم میں اضافے کی وجہ سے ادھر ماحول میں بے یقینی کی فضا بن گئی ہے۔

سیاہ فام، چینیوں، ہسپانوی باشندوں اورمسلمانوں کے علاوہ تمام ایشیائی باشندے اس کا براہ راست شکار ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار واقعات اب یورپ اور امریکہ میں بہت عام ہونے لگے ہیں۔ جبکہ میں خود گواہ ہوں کہ پندرہ برس قبل وہاں کے حالات اب سے یکسر مختلف تھے، میں نے اپنے بچوں کی نگہداشت کے لئے سفید فام مس ڈورس کو اس لئے منتخب کیا کہ ان میں پیار ایثار اور انصاف زیادہ محسوس ہوتا تھا۔ دنیا میں اور بالخصوص امریکہ میں اس دور میں سیاہ فام لوگوں کو عمومی طور پر امریکیوں نے منفی، تخریبی اور کم تر ی کے ٹیگ سے منسوب کر رکھا تھا۔

دنیا اس وقت ایک طرف گلوبل ولیج یعنی مساوات اور ”سب ایک ہے“ کی بات کررہی ہے تو یہ رنگ و نسل پرستی اور مذہبی عقیدوں کو بنیاد بنا کر بالا دستی کی مثالیں آئے دن نظر کیوں آ رہی ہیں۔ کبھی اسلامک سینٹر آف کیوبک پر حملہ، تو کبھی ورجینیا کے ایک چرچ پر حملے کے علاوہ سفید فام لوگوں کے شدت آمیز بے شمار واقعات جو سامنے آرہے ہیں۔ آخر یہ آگ کس نے لگائی ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں۔ اب تو سیاسی ایوانوں سے لے کر اس چمکتے رنگ کی بالا دستی کو اسکولوں کالجوں اور دیگر اداروں میں کسی ٹیکے کی مانند انجیکٹ کیا جا رہا ہے۔

پندرہ مارچ 2019 کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں موجود جمعہ کے وقت مسجد میں داخل ہو کر سینکڑوں بے قصور نمازیوں کو ایک سفید فام آسٹریلوی دہشت گرد برنٹن ٹرینٹ نے پچاس سے زائد مسلمانوں کو شہید اور بے شمار کو زخمی کردیا۔ اس واقعے نے واضح طور پر سفید فام کے اس طبقے جو ”وائٹ سپر میسی“ کے خیالات رکھتے ہیں کوپیش کیا۔

المیہ یہ ہے کہ یہ سنگین واقعہ اور اس طرح کے بے شمار واقعات سوچی سمجھی پلاننگ کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ نفرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برنٹن جو ہتھیار حملے کے لئے استعمال کر رہا تھا ان پر اسلام دشمن الفاظ اور نشانات مختلف زبانوں میں موجود تھے۔ اور پھر اس سارے بہیمانہ واقعے کو لائیو انٹر نیٹ پر نشر بھی کیا گیا۔ اس دہشت گردی کی بنیاد متعصب سفید فام اکثریت ہے، جنہوں نے امریکہ، یورپ اور بے شمار خطوں میں مسلمانوں، سیاہ فاموں اور دیگر قوموں کے خلاف نفرت وعباد کا ایک محاذ کھول دیا ہے۔

اس عفریت ذدہ رویوں کی پشت پناہی ”کے کے کے“، نیوکنفیڈریٹ، مسانیک، ”سکل اینڈ بونز“ کے علاوہ سو سے زائد تنظیمیں کر رہی ہیں۔ پہل یہ تنظیمیں خاموشی سے نفرت کی اس جڑ کو مضبوط کر رہی تھیں مگر دنیا کی موجودہ صورت حال میں جہاں امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نسل انسانی کو جوڑنے کے نہیں بلکہ نسل پرستی کو ہوا دینے کے ہوں اور اس پر ظلم یہ کہ دنیا میں اسلامک فوبیا کو ٹارگٹ بنا کر پیش کیا جا رہا ہو۔

ایسے ماحول میں ایک خاص ذہن کے گورے جب اپنی وطن پرستی اور تہذیب کو دوسری قوموں میں مدفن ہوتا دیکھتے ہیں تو ان کو اپنی شناخت کے گم جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ اور پھر وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی ثقافت اور تہذیب کو دوسری قوموں کے اثرات سے محفوظ رکھیں۔ ان کے اس ردعمل کے نتیجے میں چند برسوں سے امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک میں امیگریشن کے قوانین کے خلاف ایک بلند آواز اٹھ رہی ہے۔ نتیجتاً متعصب سفید فام لوگ دوسری قوموں کو کھلے عام“ گو بیک ٹو یور کنٹری ”کہہ کر للکارتے ہیں۔ جس سے حتی کہ وہ امیگرنٹس جو دو یا تین نسلوں سے ادھر رہ رہے ہیں اور ان خطوں کے قانونی شہری ہونے کی وجہ سے ان خطوں کو اپنا وطن تصور کرتے ہیں، وہ ایک کشمکش کے ساتھ ساتھ بے اعتمادی اور کم تر ہونے کے احساس میں مبتلا ہیں۔

سفید فام نسل پرستوں کے مطابق ”انسانی تہذ یب و ثقافت کی تاریخ کی ورق گردانی کریں یا عمرانیات کے شواہد کے علاوہ ارتقا کی سائنسی بنیادوں پر بھی“ سفید فام ”کی شکل میں انسان اپنی ظاہری بہترین مثال ہے۔ اور اس ضمن میں سیاہ فام یا“ نیگرو ”لوگوں کی ظاہری شکل و صورت کے متعلق کہتے ہیں کہ ابھی ان کا کالا رنگ، موٹے ہونٹ اور دیگر جسمانی ساخت کے تبدیل ہونے کے امکانات کے لئے سات سو ملین برس درکار ہیں۔

نفسیاتی طور پر انسان روشنی اور سفیدی کو اندھیرے اور سیاہی سے برتر سمجھتا رہا ہے۔ تب ہی تو ”رام“ بھگوان گورا اور شیطان ”راون“ کالا ٹھہرا۔ دنیا جہان میں ہم اجالے سے خوشی اور برکت تعبیر کرتے آرہے ہیں مگر سیاہی کی طاقت، توانائی اس قدر ہے کہ وہ اجالوں، روشنیوں اور سفیدیوں کو اپنے اندر جذب کر کے بھی اپنی مستحکم شناخت قائم رکھتی ہے۔ البتہ سائنسی ریسرچ نے میلانن پگمنٹ کی زیادہ مقدار کو گورا ہونے کا سبب ثابت کر دیا ہے۔

بظاہر ان فلسفیانہ اور سائنسی نقطوں سے انسانی رویوں اور اخلاقی روایات میں تبدیلی ہوتی نظر آ نہیں رہی۔ دیکھنے میں یہ بھی آیا کہ چین سے لے کر ہندوستان اور پھریونان اور امریکہ تک نو آبادیاتی معاشروں کے جھنڈے غلامی کے سینوں پر ہی میخیں ٹھوک کر لگائے گئے ہیں۔ ہم جن معاشروں کو آئیڈیل بنا کر ترقی یافتہ اور ہیومن رائٹس کے علمبردار مانتے ہیں، دراصل وہاں پر ہی racism نسل پرستی عروج پر ہوتی ہے۔ پیٹرک بشنن نے 2001 میں Death of the west کتاب لکھ کر اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ جس طرح ہم اپنی سفید فام روایات اور اخلاقی قدروں کو ختم کر رہے ہیں تو عین ممکن ہے کہ ہمارا خطہ 2050 تک تھرڈ ورلڈ third world میں تبدیل ہو جائے۔ اس طرح کی سوچ رکھنے والے دانشور اور لکھاری مسلسل ان معاشروں میں تفریق بازی اور نسل پرستی کی سوچ کو مستحکم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا ایک ”گلوبل ولیج“ کے تصور میں آگے بڑھ رہی ہے۔ مگر اس ولیج میں ہٹلر، مسولینی، لینن، سٹالن، چنگیز خان جیسے ظالموں کے علاوہ ان تمام مذہبی انتہا پسندی کے رجحانات، انسان کی معاشرتی اور معاشی ترقی کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی آواز کو بندھک کرنے میں ”ورلڈ آرڈر“ آڑے آ رہا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ دنیا اب جس ماحول میں آگے بڑھ رہی ہے اس میں پیش گوئی یہ بھی ہے کہ انسان آئندہ برسوں میں حاکم و محکوم بن کر زندگی نہیں گزار سکیں گے۔

معاشروں کو اگر اپنی قدروں اور روایات کو قائم رکھنا ہو گا تو ان کو ”ورلڈ آرڈر“ سے بڑھ کر ”گلوبل آرڈر“ کے حکم کو ماننا پڑے گا۔ موجودہ ترقی کی اس ”ارتقائی تھیوری“ کو مضبوط کرنے میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے منصف کا وہ درجہ لے لیا ہے، جو ”انسان کو انسان بننے پر مجبور کر رہی ہے“۔ اس کی مثال نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ”جیسنڈرا آرڈرن“ کی ہے جنہوں نے کرائسٹ چرچ مساجد میں مسلمانوں پر حملوں کی شدید مذمت کی اور مثالی کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو ”گلوبلُ یکجہتی“ کا پیغام دیا۔ اس میں ان کے لباس اور زبان سے نکلے حدیث نبوی ”کہ ایمان والے ایک جسم کی مانند ہیں“ کے الفاظ ان کے ظاہر اور باطن کو ظاہر کر رہی تھیں۔ گویا وہ ”وائٹ سپر میسی“ کو ”طاغوت“ اور انسان کو انسان کا پیغام دے گئیں۔

ابھی چند روز قبل ہماری پیاری دوست یاسمین طاہر جو ایک عرصہ تک ریڈیو پاکستان سے منسلک رہیں، ایک اعلی براڈکاسٹرہونے کی وجہ ان کا ماحول تھا اور جدید علوم وفنون کا مطالعہ بھی تھا جس کی وجہ سے ان کی سوچ میں گہرائی اور گیرائی یوں آئی کہ وہ گردو پیش کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر ان پر رائے قائم کرتی تھیں۔ اسی وجہ سے فوجی بھائیوں کا پروگرام اور سات رنگ کے نقوش ابھی تک سب کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ ان کی آواز میں سے سر اور دانش ریڈیو کی ویو لینگتھ کے ذریعے سامعین کے ذہن و قلب سے تار ملاتی تھی۔

ان کا ایک مضبوط حوالہ ان کے شوہر نعیم طاہر تو ہیں۔ مگر ان کی شناخت کا تن آور درخت ان کے والدین سے منسوب ہے۔ جو ان کی جینز میں والدہ حجاب امتیاز علی اور والد سید امتیاز علی تاج سے منتقل ہوا ہے محترمہ حجاب امتیاز علی کا نام اردو ادب کی منفرد نسائی آوازوں میں شامل ہے۔ وہ رومانیت، ترقی پسندی اور جدید لحجے کی کیفیات کو شاعری، نثر اور دیگر اصناف میں بیان کرتیں۔ ان کا ناول ”پاگل خانہ“ جہاں ان کی پہچان بنی وہاں ترقی پسندی کی تحریک میں عملی طور پر خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا کی پہلی مسلمان خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز بھی ان ہی کو حاصل ہے۔ ان کے شوہر سید امتیاز علی تاج نے ڈرامہ انار کلی لکھ کر کلاسیکل اور تاریخی اعتبار سے آغا حشر کے بعد بہت نام پیدا کیا۔ اس تہذیبی اور فکری تخلیق کو سینکڑوں مرتبہ اسٹیج کیا گیا۔ علاوہ ازیں انڈیا اور پاکستان میں اس پر سیریل اور فلمیں بھی بن چکی ہیں۔

بات ہو رہی تھی یاسمین طاہر کی، ان سے میری پرانی شناسائی ہے۔ ایک دن ان ہی کے گھر میں نعیم طاہر سمیت ہم تینوں ان کے ہاتھوں کی بنی ہینڈ کرشڈ کافی پی رہے تھے، باتیں کرتے کرتے وہ یک دم کہیں کھو گئیں ؛ پوچھنے پر ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولیں ”نعیم نے میرے ساتھ بہت ظلم کیا کہ میرے دو نوں بڑے بچوں کو نوعمری میں ہی باہر پڑھنے کے لئے بھیج کر مجھ سے وہ دور کر دیے۔ اب صرف علی ہمارے ساتھ ہے اور وہ دونوں وہیں کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ وہ آگے کیا بتاتیں، میرے دل کی بات ان کی زبان پرتھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •