جانب منزل چلا چل قسط نمبر 1

سفر امریکہ کا اولین مقصد حصول علم تھا سو جس دن سے امریکہ کے سفر کی تیاریوں کا آغاز ہوا تب سے میرا ذہن امریکہ تو کم کہیں اور جانے کی طرف مصروف تھا۔ ادھر ڈیفنس میں نئے تعمیر کردہ خوبصورت گھر کو بند کرنا میرے لئے بہت مشکل مرحلہ تھا کیونکہ ابھی تو نئے گھر کی میٹھی مٹیالی سوندھ بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ بلاوا آ گیا تھا۔ کیا رکھتی کیا بانٹتی کیا کیا لے کر جاتی شادی

Read more

صاحب منزل

کسی کو خراج تحسین پیش کرنا بھی عدل کے زمرے میں آتا ہے، اور ہم اس بات کے بھی قائل ہیں کہ ملزم کو مجرم کہنا ظلم ہے۔ اسی طرح خراج تحسین میں بھی حسن معاملہ تب ہی ممکن ہے جب تک ہم وسیع تناظر میں کسی شخص کو سمجھیں، پڑھیں اور اس سے تعلق قائم کریں۔ یہ بھی شرط نہیں کہ اس میں معانقہ ہو یا نا ہو۔ بے شک دنیا کے بہترین تعلق کی امثال میں ہم ان

Read more

سرب کا تیر

آج گاڑی گورنر رچی ہائی وے پر چڑھی، میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ”اس“ نے فون کے ساتھ گاڑی کی تار کو کنکٹ کر دیا۔ دل تو کھلی ہوا میں پتنگ کی طرح اڑنے کو تیار ہو گیا۔ اس نگوڑی وبا نے تو زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے۔ کچھ بھی نہیں ہو رہا، نا زندگی کا مزہ نا موت کا دھڑکا۔ ایک عرصے سے سن رہے تھے کہ آبادی میں کثیر اضافے کے سبب زمین ہر

Read more

سفر جاری ہے

میرے پیارے جدا کیا ہوئے زندگی بدل گئی۔ جب اندر جھانک کر دیکھا تو وہ وہیں بازو پھیلا کر استقبال کر رہی تھی۔ دراصل بدل میں ہی گئی ، اندر سے باہر سے چہرہ چہرہ دھلنے لگا۔ معصوم ہم سب لوگ اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے اس قدر بوجھ اکٹھا کر لیتے ہیں کہ طاقت کا قلی اس کو اٹھانے سے انکار کرنے لگتا ہے۔ ہم سفر اپنی اپنی باریوں پر بے رنگ ٹکٹ سے بھی چڑھتے دیکھے۔ وہ جو ایک

Read more

اعتراف!

اس نے فون پر یہ ہی کہا تھا کہ اتنا زاروقطار کیوں رو رہی ہو۔ تم تو کبھی نہ روئی نہ پریشان ہوئی ہو۔ وہ بار بارٹوٹے دل کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور کہنے لگی ؛ کیا کسی نے کچھ کہا ہے۔ میں نے کہا۔ بات تو یہ ہے کہ مجھے کسی نے کچھ کہا ہی نہیں۔ دل میں رہتا بھی نہیں دل سے نکلتا بھی نہیں غم ہی کچھ ایسا ہے کہ آنکھوں سے

Read more

سچل سر مست سائیں خیر پور بھٹو

پودا لگائیں تو پھل، سایہ، بیج، لکڑی اور کوئلے سے لے کر ہیر ے تک حاصل ہوتا ہے ؛ پودا علم کا ہو یا کسی بھی قسم کا ہو اس کی نمو اور ہیروں کی پہچان کے تمام مراحل اگر عالم کے ہاتھوں سے گزریں تو پھر یہ سلسلۂ علم اور وسیلۂ ملاقات دراصل نوید چشمۂ حیات بنتا ہے۔ منزل مراد تک پہنچنے کی کوششوں میں اگر علم ہی وسیلۂ محبت بنے تو پہاڑ، دریا، سمندر اور کسی بھی قسم

Read more

میرا پہلا قاری

میں نے جو لکھنا ہے وہ کوئی بیٹی یا بیٹا لکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہمہ وقت ایک ہی حال میں رہنے کا خواہش مند انسان بھول جاتا ہے کہ حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان بھی مسلسل ادھر سے ادھر جاتے رہتے ہیں۔ کائنات کی ہر شے تبدیلی کے اندر رہتی ہے۔ شہر بھی وہ ہی ہے مگر ”وہ“ انتقال کر گیا ہے۔ کیسے بتاؤں، کیسے چھپاؤں اپنے اس نئے نویلے ”غم“ کو اپنی چادر میں۔ اس نئے غم کی نویلی عمر کے ساتھ کس طرح بقیہ زندگی گزارنی ہے۔ اس کا تجربہ ہی نا تھا۔ جب شدید تعلق سے رابطہ یوں ٹوٹتا ہے تو ایک باپ نہیں مرتا، ایک انسان مرتا ہے۔ فادر ڈے سے ایک روز قبل

پہاڑوں کا باپ مر گیا۔

Read more

چشم بینا کا سفر

ہم ماں، باپ اور بہن بھائی کے علاوہ بھی بہت کچھ ہیں؛ اس کا احساس گواہیوں کے زمانے سے قبل ہو جائے تو تمام گواہیاں سچ ہوں اور گناہ کی جھولی خالی برتن جیسی پڑی رہے گی۔ بس ایسی صورت میں مالک جو چاہے اپنی freewill سے اس کی بھرائی کر لے۔ ہم جو شکل اختیار کرتے ہیں، ہمارا ضمیر اور خیال بھی ان ہی کے سانچے میں ڈھلنے لگتا ہے۔ موجودہ دور ”کورونا دور“ کے نام سے تاریخ کے

Read more

مابعد وبا۔ کشف صدا

یوں تو وبائیں ہر دور میں ہی انسانی زندگیوں کے ساتھ ساتھ مختلف شکلوں میں حملہ آور ہوتی رہیں ہیں، سو ان کو ماحول کے مطابق دیکھا، سمجھا اور treat کیا گیا ؛ مگر کروناوائرس وبا کا سب سے مختلف پہلو یہ ہے کہ اس نے آج کی اس گلوبل دنیا کو یکساں انداز (uniform) میں دنیا کے 192 ممالک میں پھیل کر گلوبل ولیج کے مصدر اطلاق کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اب اگر مجموعی زمینی ماحول کا احاطہ

Read more

آقا و غلام: کرونا اور انسان‎

اچھا انسان اچھائی اور برا انسان برائی سے دور نہیں رہ سکتا۔ ایمان ‎والا ایمان قائم رکھتا ہے اور میرا یہ ایمان ہے کہ زندگی اس کی عطا کردہ ہے سو جس نے عطا کی ہے اس کو واپس لینے کا حق ہے، جو بر حق ہے۔ مگر انسان تو اپنے ادھر مختصر دررانیئے میں کبھی مالک بن بیٹھتا ہے تو کبھی propagation کے سبب خالق کے منصب کا حق بھی مانگتا ہے۔ تماشا لگاتا ہے، ہر طرح کی منڈیوں

Read more

دھوکے باز جوانی

وقت جوان اور میں بھی جوان تھی۔ امنگوں کے سفر پر امیدیں وسیع وبسیط خلا میں بہت تیزی سے ماضی کے سینے پر چڑھ کر مستقبل کی سیڑھی پر قدم جما کے کیا کیا نظارے دیکھ رہیں تھیں۔ ان خوابوں کے ذرے ذرے سے پھوٹنے والی توانائی کی طاقت میں اپنے اندر محسوس کرنے لگی تھی۔ میں بہت عجلت میں تھی اور زمانہ بھی میرے ساتھ بدل رہا تھا۔ سفر یقیناً بڑے تھے اور ان کی ایک ایک رات آنکھ

Read more

”لفظ“ کے بلیک ہولز

انسان کا اس دنیا میں لائے جانے کا یا ادھر آنے کا مقصد خود انسان کے لئے بے شمار صورتوں میں ایک معمہ بن جاتا ہے۔ سوال اٹھتے ہیں اور ذہن اپنی اپنی بساط کے مطابق جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر وہ عمل ہمارے لئے قابل تحسین ہے جس کو ہم کر رہے ہیں یا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ باقی ماندہ کا درجہ مستعار ہے۔ یعنی ہم ”وہ ہیں“ جو ”ہیں“ اور جو نہیں وہ ہم نہیں۔

Read more

تعلیم، استاد اور طالب

ہم سب طالب ہیں، ہر اس شے کے جس کو ہم پر مکمل واضح نہیں کیا گیا۔ پہلے زبان نہیں تھی تو اس کو بنایا، اصول زبان کے فہم کی ترسیل کو سمجھا اور سمجھایا۔ زندگی گزارنے اور زندہ رہنے کے لئے ہر ممکن انتظامات کے راستے استوار کیے۔ مرتے ہوئے لوگوں کو طب کی ترقی نے بچایا مگر وہ پھر بھی مر گئے۔ زمین، آسمان اور ان کے موجودات کو سمجھا، نصاب اور استاد کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے

Read more

سُہر ریکیں نوشکے (قسط نمبر 1)۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ نباتیات ایم ایس سی کے ریسرچ تھیسز میں میرا ٹاپکpalentology یعنی علم رکا ز کا تھا۔ جس میں مجھے بلوچستان کے ان پہاڑوں کے کوئلے پر سٹڈی کرنا تھی جو کوئٹہ کے مشرق یعنی ”سور رینج“ Sor range of Quetta کا علاقہ کہلاتا ہے۔ کوئلے کا مقدر بھی عجیب ہے ہر صورت اس کو جلنا ہی ہے۔ یعنی یہ وہ درخت ہیں جو ہزاروں سال پہلے دنیا میں موجود تھے، جب وہ زمین میں دھنس جائیں تو فوسلز کی تہیں بن کر آخر کار کوئلے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

Read more

اور ڈاکٹر انور سجاد بھی آزاد ہو گئے

”انا للہ و انا الیہ راجعون“ اور ڈاکٹر انور سجاد بھی آزاد ہو گئے۔ ہم سب آزادی کے متوالے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے یہ 1989۔90 کی بات ہے، ہم نوجوان اور یہ منجھے ہوئے لکھاری تھے۔ لیکن بہت حیران ہوتے کہ تم کوُسے موضوعات کو چن کر اس پر کام کرتی ہو۔

Read more

لاہور اپنا اپنا!

زمانے بدل گئے، لوگ وقت کی قید سے باہر نکل کر زمین میں شامل ہو کر ابد میں قید ہوگئے، مگر رہ گیا ہزاروں سال پرانا شہر ”لاہور“۔ انسان بھی کلاسیکی ادب کی مانند زندہ رہنا پسند کرتا ہے، وہ زندگی میں تاریخ اور مستقبل کی تصویر بناتا ہے۔ وہ اپنی فہم وفراست کو مستقبل کے آئینے میں دیکھنا پسند کرتا ہے جس کے لئے وہ اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے احتیاط اور جرات کے امتزاج سے

Read more

سفید فام بالادستی کا طاغوت

مجھے بھی ہر دم یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں نے بھی اپنے دونوں بچوں علی اور عمر کو پردیس کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے۔ جیسا کہ میری فیملی ایک عرصہ باہر رہنے کے بعد چند برسوں سے اپنے وطن کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ ہم دونوں میاں بیوی تو ذہنی اور جسمانی طور پر چند برسوں سے اپنے وطن کو واپس لوٹ رہے ہیں لیکن ہمارے دونوں بچے ابھی وہاں پر زیر تعلیم ہیں۔ یہ بھی انوکھا کرب

Read more

اپنے وطن سے رخصتی: کچھ تاثرات

لفظوں کے استعمال سے قبل ان کے معنی کا ادراک لازم ہے۔ ہم بولتے، ہیں سنتے ہیں، لکھتے ہیں مگر معنی اور مفہوم کو درگزر کرتے ہیں۔ اور جب ”سمجھ“ آتی ہے تو مادہ، مادے میں اور ہایڈروجن فضا میں دوبارہ سے کشت میں لگ جاتی ہے۔ بہر حال جب تک اس ہم ”لائف فارم“ میں ہیں، ہمارے پاس کچھ استحقاقی اختیارات ہیں۔ مبادا ان کا اختیار اس حالت جمال تک ہی ہو؛ جیسا کہ ”لا آف دی لینڈ“ ہوتا

Read more

ہمسائے سے محبت کرنا قرض نہیں، فرض ہے

”میری مانیں تو بس اس کی سنیں جو سب کی سنتا ہے۔ بے انتہا پیار کرتا ہے مگر اس سے بھی جو اس سے نہیں کرتا مگر وہ کرتا ہے۔ تب ہی تو یہ سلسلہ خیر و شر ایک ہی دنیا میں، ایک ہی آسمان تلے، ایک ہی دربار پرحاضر ہوتے ہیں مگر عطائیں اعمال کے سانچے سے گزار کر رحم وکرم کے دریچے کھول دیتا ہے۔ “ یونس وفا ” نے ایم اے کے سٹوڈینٹس کو ایک پر مغز“

Read more

روحی بانو: زندگی تماشا بنی

آج صبح آنکھ کھلتے ہی فون چیک کیا، نیلم کا ”ایس ایم ایس“ تھا؛پڑھا تو چونکی کہ ”ارے لیٹ ہو رہی ہوں“۔ سو فٹا فٹ تیاری پکڑی کیونکہ اس نے مجھے اپنے گھر سے 30۔ 12 بجے پک کرنا تھا۔ اس سفر شوق جنوں سے قبل مجھے ایک دو ضروری کام نپٹانے تھے۔ ”ادیبہ زیدی“ جو اپنے ناگزیر حالات کو بڑی خوش اسلوبی سے سمیٹے ہوئے اپنے گھر کو قرینے سے سجا کر اس میں اپنا بوتیک بھی چلا رہی

Read more

دم سازوں کی میزبانی

جب دوست محتشم اور محترم ہوں تو ان کو قیام گاہ میں بلانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ جب ان کی قدو قامت، شہرت اور طمطراق کو دیکھتی تو کہتی چلو کیا گھر بلانا، خود کو قربان کرنے کی بجائے باہر کسی ہو ٹل میں مرغی اور بکرے کی قربانی دے دیتی ہوں۔ مگر یہ یار دوست میرے ہیں اس لیے دانا اور عقل فتور کے درمیاں ہی رہتے ہیں۔ اس لیے اس مقدمے کا فیصلہ میرا نہیں، ان ہی

Read more

جشن ریختہ اور میک گرلز!

زندگی میں انسان انسانوں کی تلاش میں رہتا ہے، مگر جب مل جائیں تو چھوڑنا مقدر ہے۔ حالات بنائے نہیں تھے بن گئے تھے، بنا دیے گئے تھے۔ میں تو ان سے ملنا چاہتی تھی۔ مگر ادھر تو ؛ ان کو تو فرصت کا لمحہ بھر نہیں ملا۔ خیر جن کو ملنا ہوتا ہے وہ مل جاتے ہیں۔ واشنگٹن ڈیلس ایرپورٹ سے اللصبح میری فلائٹ تھی۔ کراچی، لاہور، ساہیوال اور کہاں کہاں سے بلاوے آگئے تھے۔ کانفرنسیں، لیکچرز اور مشاعرے تو نبھانے تھے مگر اصل وجہ تسمیہ تو اس کو معلوم تھی۔

وہ کہاں کہاں سے لوگ ملا دیتا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ کا تعلق انڈیا سے ہے مگر جنگ ہماری زبان کو زندہ رکھنے کی کرتے ہیں۔ ہم بولنا پسند نہیں کرتے اور وہ اس کو پیٹ کروڑی کی طرح سینے سے لگا کر دنیا میں اس کے جشن سجا کر اپنائیت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ تب ہی تو وہ اور ان کے ساتھی گزشتہ 44 برسوں سے امریکہ کے شہر شہر میں علی گڑھ ایلومینائی کے تحت مشاعروں کا سلسلہ منعقد کرتے ہیں۔ میری لینڈ، ورجینیا اور واشنگٹن یعنی DMV میں ہونے والے ان کے دو مشاعرے تو ضرور ہوتے ہیں ایک قیام پاک و بھارت کے یوم کے حوالے سے اگست کے وسط میں قوی سمیلن مشاعرہ اور دوسرا موسم سرما کے آغاز میں جب چیری بلاسم کے درختوں کے خوب صورت رنگوں کے

Read more

عالم گیریت کے ادبی و ثقافتی مضمرات: عصری تقاضے

کائنات خدا کا مظہر ہے اوریہ ایک ہی نظام کی پیروی کرتی ہے، اس میں توازن اس کی بقا کی ضمانت ہے۔  تو گویا زندگی اور اس کے گرد تمام کا انحصار اس ecosystem پر ہے جس کی شرائط کی ضمانت ظہور کائنات اور تعمیر کائنات کے وقت کی گئی تھی۔ خدا کا نظام عادل اور منصفانہ ہے۔  تب ہی تو ہمارے لئے  کھلا آسمان اور اس پر چاند ستارے، سورج اور کہکشاؤں کی بارات کی تصویر سجا دی گئی

Read more

میں نے منٹو بدل دیا ہے

کسی روایت کی عمر اس کو یاد رکھنے اور بوقت ضرورت اس کو استعمال کرنے تک ہوتی ہے جب جذبے بدلتے ہیں تو اس سے بہت پہلے ہمارے دل بدل چکے ہوتے ہیں ؛ بس موقع وار کا نہیں ملتا ورنہ ہم اظہار میں دیر کرنے والے کب ٹھرے ہیں۔ ایک کنال کے ”پوش“ علاقے کے گھر میں ہمارے ہمسائے جو اپنی دیوار پر رومال ڈالے تو نظر کو بھلا نہیں لگتا اور اس کے گھر میں لگے پودے کی

Read more

عطر عود

آج پھر تم شیشہ دیکھنے سے گھبرا گۓ ہو، مان لو آج عکس تمہارا نظر آرہا ہے ساری دنیا کو۔کیونکہ یہ تصویر جو بظاہر کچی مٹی کی دیوار پر تم بنائ تھی، وہ تمہارے دل کی آواز ، دھڑکن کے ساز اور سانسوں کی ترتیب سے یوں وابستہ تھی کہ ایک بھی لکیر ادھر سے ادھر لگ جاتی تو تم بھوکے بھیڑیۓ کی طرح چیخنے چلانے لگ جاتے۔ میری کیا مجال کہ میں اس تصویر کی مالک بن سکوں؛ ہاں

Read more

ون وے ٹکٹ

سلام تجھے جو نہ کبھی پاس تھا اور نہ ہو گا، مگر احساس یہ کہ تو ہر دم میرے ساتھ ہے، آسلو، گلاسکو، ایمسٹرڈیم کی فضاؤں کو چیرتی ہوئی پرواز سے۔ اب میری فضائی گاڑی ایک بہت بڑا بل کھاتے ہوئے ترشاون کے اوپر سے گزر رہی ہے۔ ارے کیا پانی ہی پانی اس بحرالاوقیانوس کا نیلا پانی اور اوپر آسمان پر آڑتا ہوا کثافت سے پاک پانی جسے کشش ثقل کی طاقت اور انرجی بھی نہیں روک پاتی۔ یہ

Read more

عکس در عکس

انسان کا سفر انفرادی نہیں اجتماعی ہے، تہذیب اور خیال یعنی فکر دونوں ملُ کر انسان کی پرورش کرتے ہیں۔ تہذیب ہر وقت ارتقا میں ہے، کہ اس کی تکمیل اس کی موت ہے ”حیات“ خاکی جسم میں ہے اور یہ ریت اور ٹیلوں، مٹی اور کیچڑکے علامتی نشانات میں ظاہر ہو کر رہتی ہے۔ لیکن اس کے باوصف ہمارے خیالات جن کےوجود کی رفتار تیز بھی ہے اور وہ ارتقائی منازل سے بھی گزرتی ہے مگر رہتی اپنی اصل

Read more

چہرہ کتاب

وہ بولا! آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں یہ محبت کی کہانیاں لکھنی بند کرو۔ کون پڑھے گا تمہاری سیف الملوک کی کہانی، ”شہزادہ اور پری محبت کے پروانے“۔ اب تو انسان آغاز سے ہی انجام کو فلم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ گھر گھر محبتوں، نفرتوں، جذبوں اور روز بدلتے سسی پنوؤں کے انبار لگے پڑے ہیں۔ تمہاری کتاب کے عنوان میں لکھا تھا کہ تم بھی دیکھ لو اور سب جو بھی دکھا دو۔ جو ہو رہا ہے

Read more