اپنے وطن سے رخصتی: کچھ تاثرات

لفظوں کے استعمال سے قبل ان کے معنی کا ادراک لازم ہے۔ ہم بولتے، ہیں سنتے ہیں، لکھتے ہیں مگر معنی اور مفہوم کو درگزر کرتے ہیں۔ اور جب ”سمجھ“ آتی ہے تو مادہ، مادے میں اور ہایڈروجن فضا میں دوبارہ سے کشت میں لگ جاتی ہے۔ بہر حال جب تک اس ہم ”لائف فارم“…

Read more

ہمسائے سے محبت کرنا قرض نہیں، فرض ہے

”میری مانیں تو بس اس کی سنیں جو سب کی سنتا ہے۔ بے انتہا پیار کرتا ہے مگر اس سے بھی جو اس سے نہیں کرتا مگر وہ کرتا ہے۔ تب ہی تو یہ سلسلہ خیر و شر ایک ہی دنیا میں، ایک ہی آسمان تلے، ایک ہی دربار پرحاضر ہوتے ہیں مگر عطائیں اعمال…

Read more

روحی بانو: زندگی تماشا بنی

آج صبح آنکھ کھلتے ہی فون چیک کیا، نیلم کا ”ایس ایم ایس“ تھا؛پڑھا تو چونکی کہ ”ارے لیٹ ہو رہی ہوں“۔ سو فٹا فٹ تیاری پکڑی کیونکہ اس نے مجھے اپنے گھر سے 30۔ 12 بجے پک کرنا تھا۔ اس سفر شوق جنوں سے قبل مجھے ایک دو ضروری کام نپٹانے تھے۔ ”ادیبہ زیدی“…

Read more

دم سازوں کی میزبانی

جب دوست محتشم اور محترم ہوں تو ان کو قیام گاہ میں بلانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ جب ان کی قدو قامت، شہرت اور طمطراق کو دیکھتی تو کہتی چلو کیا گھر بلانا، خود کو قربان کرنے کی بجائے باہر کسی ہو ٹل میں مرغی اور بکرے کی قربانی دے دیتی ہوں۔ مگر یہ…

Read more

جشن ریختہ اور میک گرلز!

زندگی میں انسان انسانوں کی تلاش میں رہتا ہے، مگر جب مل جائیں تو چھوڑنا مقدر ہے۔ حالات بنائے نہیں تھے بن گئے تھے، بنا دیے گئے تھے۔ میں تو ان سے ملنا چاہتی تھی۔ مگر ادھر تو ؛ ان کو تو فرصت کا لمحہ بھر نہیں ملا۔ خیر جن کو ملنا ہوتا ہے وہ مل جاتے ہیں۔ واشنگٹن ڈیلس ایرپورٹ سے اللصبح میری فلائٹ تھی۔ کراچی، لاہور، ساہیوال اور کہاں کہاں سے بلاوے آگئے تھے۔ کانفرنسیں، لیکچرز اور مشاعرے تو نبھانے تھے مگر اصل وجہ تسمیہ تو اس کو معلوم تھی۔

وہ کہاں کہاں سے لوگ ملا دیتا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ کا تعلق انڈیا سے ہے مگر جنگ ہماری زبان کو زندہ رکھنے کی کرتے ہیں۔ ہم بولنا پسند نہیں کرتے اور وہ اس کو پیٹ کروڑی کی طرح سینے سے لگا کر دنیا میں اس کے جشن سجا کر اپنائیت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ تب ہی تو وہ اور ان کے ساتھی گزشتہ 44 برسوں سے امریکہ کے شہر شہر میں علی گڑھ ایلومینائی کے تحت مشاعروں کا سلسلہ منعقد کرتے ہیں۔ میری لینڈ، ورجینیا اور واشنگٹن یعنی DMV میں ہونے والے ان کے دو مشاعرے تو ضرور ہوتے ہیں ایک قیام پاک و بھارت کے یوم کے حوالے سے اگست کے وسط میں قوی سمیلن مشاعرہ اور دوسرا موسم سرما کے آغاز میں جب چیری بلاسم کے درختوں کے خوب صورت رنگوں کے

Read more

عالم گیریت کے ادبی و ثقافتی مضمرات: عصری تقاضے

کائنات خدا کا مظہر ہے اوریہ ایک ہی نظام کی پیروی کرتی ہے، اس میں توازن اس کی بقا کی ضمانت ہے۔  تو گویا زندگی اور اس کے گرد تمام کا انحصار اس ecosystem پر ہے جس کی شرائط کی ضمانت ظہور کائنات اور تعمیر کائنات کے وقت کی گئی تھی۔ خدا کا نظام عادل…

Read more

میں نے منٹو بدل دیا ہے

کسی روایت کی عمر اس کو یاد رکھنے اور بوقت ضرورت اس کو استعمال کرنے تک ہوتی ہے جب جذبے بدلتے ہیں تو اس سے بہت پہلے ہمارے دل بدل چکے ہوتے ہیں ؛ بس موقع وار کا نہیں ملتا ورنہ ہم اظہار میں دیر کرنے والے کب ٹھرے ہیں۔ ایک کنال کے ”پوش“ علاقے…

Read more

عطر عود

آج پھر تم شیشہ دیکھنے سے گھبرا گۓ ہو، مان لو آج عکس تمہارا نظر آرہا ہے ساری دنیا کو۔کیونکہ یہ تصویر جو بظاہر کچی مٹی کی دیوار پر تم بنائ تھی، وہ تمہارے دل کی آواز ، دھڑکن کے ساز اور سانسوں کی ترتیب سے یوں وابستہ تھی کہ ایک بھی لکیر ادھر سے…

Read more

ون وے ٹکٹ

سلام تجھے جو نہ کبھی پاس تھا اور نہ ہو گا، مگر احساس یہ کہ تو ہر دم میرے ساتھ ہے، آسلو، گلاسکو، ایمسٹرڈیم کی فضاؤں کو چیرتی ہوئی پرواز سے۔ اب میری فضائی گاڑی ایک بہت بڑا بل کھاتے ہوئے ترشاون کے اوپر سے گزر رہی ہے۔ ارے کیا پانی ہی پانی اس بحرالاوقیانوس…

Read more

عکس در عکس

انسان کا سفر انفرادی نہیں اجتماعی ہے، تہذیب اور خیال یعنی فکر دونوں ملُ کر انسان کی پرورش کرتے ہیں۔ تہذیب ہر وقت ارتقا میں ہے، کہ اس کی تکمیل اس کی موت ہے ”حیات“ خاکی جسم میں ہے اور یہ ریت اور ٹیلوں، مٹی اور کیچڑکے علامتی نشانات میں ظاہر ہو کر رہتی ہے۔…

Read more