رمیز راجہ اور گریس لیس بھیڑ بکریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک تو کالم لکھنے کے بعد یاد نہیں رہتے۔ اپنی آواز خود سننا اور اپنا لکھا ہوا بھی خود ہی پڑھنا کم سے کم ہمارے لئے تو جوئے شیر لانا ہے۔ ہمیں قوی یقین ہے کہ کئی موضوعات بھی گڈ مڈ ہو جاتے ہوں گے۔ لیکن خدا بے ہماری اس کمزوری پر یوں پردہ ڈال دیا کہ وطن عزیز اور اس کے لوگوں کے حالات نہیں بدلتے۔ ہمارے عنوان جتنی بار مرضی گھس پٹ جائیں ہمیشہ پانی چھڑکے موتیے کے پھولوں کی طرح تازہ ہی لگتے ہیں۔ خدا کا بڑا فضل ہے۔

یقین کامل ہے کہ اس موضوع پر پہلے بھی کبھی قلم مچلا ہو گا۔ کون سی کوئی نئی بات ہے۔ شروع سے انسان ایسا ہی ہے۔ طاقت اور پیسے کے نشے میں اپنی دید کھو دینے والا۔ شاید ایک بار پہلے بھی اس موضوع پر لکھا تھا اور تب بھی جذبات اتنے ہی شدید تھے۔ ایسا ہی غم و غصہ تھا۔ اگر لکھا نہیں بھی تھا تو سہیلی کے سامنے دانت ضرور پیسے ہوں گے۔ الفاظ قلم تک نہ بھی پہنچے ہوں زبان کا راستہ ضرور پا گئے ہوں گے۔ تاثیر ہی کچھ ایسی ہے۔

معاف کیجئے گا اگر زبان کہیں کچھ بہک جائے۔ آنکھیں نیند سے مخمور ہیں۔ نیم وا ہیں۔ لیکن دل ہے کہ مانتا نہیں۔ مصر ہے کہ ابھی لکھو۔ یہیں لکھو۔ سانس لینے کا وقفہ لیے بغیر لکھو۔ ضرور لکھو۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہیں اور اسی کے حضور پیش ہیں۔

کل پرسوں کی بات ہے کہ نامی کرکٹر رمیز راجہ صاحب کی ٹویٹ نظروں سے گزری۔ جس میں انہوں نے سب بھیڑ بکریوں کو تلقین فرمائی کہ صبر سے کام لیں۔ اپنی زندگی میں ’تبدیلیاں‘ کے کر آئیں۔ ملکی ترقی شاہ بنی گالی کے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا واویلا کرنے والے کچھ ’گریس‘ سے کام لیں۔ یعنی ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا کر بیٹھ رہیں۔ عینک کو قرینے سے آنکھوں ہر جمائیں۔ ساڑھی کے پلو پر کوئی شکن نہ آنے دیں۔ کوئی بات بھی ہو تو کمان سے ابرو کے اشارے سے ہی کام لیں۔ جاہلوں کی طرح مہنگائی کا رونا نہ ڈالیں۔

بات تو ٹھیک ہے۔ اب ذرا ہمارا دماغ بھی کام کر رہا ہے۔ ہمیں بھی سمجھ آ رہی ہے کہ بڑے کرکٹرز اور عقل و دانش کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر روٹی مہنگی ہے اور عوام کی پہنچ میں نہیں ہے تو ایسا کیا طوفان آ گیا۔ کیک کھا لیں نا۔ آج کل گلوٹن فری آپشن بھی ملتی ہیں۔ ایک تو آپ بھیڑوں بکریوں میں گریس کی بہت کمی ہے۔ سب باتیں ہم ہی بتائیں کیا؟

جیسا کہ مشہور بھارتی کامیڈین ابھیشک اپمانیو نے کہا تھا
’امیروں کو لگتا ہے غریبوں کو پیسے خرچ کرنے نہیں آتے۔ ہوتے تو سب کے پاس ہیں۔ ‘

فرانس کی ملکہ میری ہوں یا پاکستان کے رمیز راجہ۔ امیروں کی ادا ہی نرالی ہے۔ سچ ہے پیسہ جچتا بھی ان ہی کے پاس ہے۔ ہم جیسوں کی نہ تو شکل نہ ہی عقل اس سے مطابقت رکھتی ہے۔ خدا نے اہل عقل کو ہی مال سے نوازا ہے۔ غریبوں کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ نہ تو انہیں پیسے خرچ کرنے کی تمیز ہے نہ ہی شور مچانے سے پرہیز۔ عجیب لوگ ہیں۔

آٹھ ہزار کمانے والا سیکورٹی گارڈ تین مہینے کی تنخواہ نہ ملنے کے بعد ہلاک ہو جائے تو اس کے گھر والوں کو چاہیے کہ ذرا صبر کریں۔ گریس کا مظاہرہ کریں۔ دہشت گردی کے ہاتھوں ان دیکھی ان چاہی موت مر جانے والوں کو چاہیے کہ چپ ہو رہیں۔ آخر گریس بھی کوئی چیز ہے۔ ڈاکٹر کو جا کر بچے کی دوائیاں کم کرانے والے غریبوں کو بھی چاہیے کہ ذرا حوصلہ کریں۔ اسپتالوں میں مفت دوائیاں ختم کرنے پر شور مچانے والوں کو بھی ایک پل چین نہیں۔ صحت اور تعلیم کے بجٹ کا بیڑہ غرق ہونے پر بولنا کہاں کی تہذیب ہے؟

ہم رمیز راجہ صاحب جتنے امیر تو نہیں لیکن یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ جو قصور ہے غریب کا ہی ہے۔ اس کم بخت کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ انسان کا روٹی کے بغیر تو گزارا ہے لیکن گریس اور اسٹائل کے بغیر نہیں۔ انسان اور جانوروں میں تہذیب کا ہی تو فرق ہوتا ہے۔ خرچہ پورا نہیں ہوتا تو زندگی میں تبدیلیاں لائیں۔ گرمی میں بل زیادہ آتا ہے تو پنکھے بند کر دیں۔ دوائیاں مہنگی ہیں تو مت کھائیں نا۔ یا باہر چلے جائیں۔ وہاں مفت ہیں۔ پٹرول مہنگا ہے تو ڈیزل والی لینڈ کروزر لے لیں۔ اسٹاک مارکیٹ کے حالات سے دل گھبراتا ہے تو ٹی وی بند کر دیں۔ روٹی نہیں مل رہی تو کیک کھا لیں نا۔ آپ سالا غلام لوگ بھی نا۔

بقول حبیب جالب کے
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں

یہاں بھی یہی حالات ہیں۔ جہالت ہی ہے تو یہ مفت کے آئیڈیاز ذہن میں نہیں آئے نا۔ واقعی ذہانت اور عقل بھی امیروں کی ہی میراث ہیں۔ ٹھیک ہے غریبوں کے حالات خراب ہیں۔ لیکن غریبوں کو بھی تو چاہیے نا کہ عقل سے کام لیں۔ پنکھے کے بل کے پیسے نہیں ہیں تو رسی لے کر اسی سے لٹک جائیں۔ آخر کار مرنا شور مچانے سے تو زیادہ گریس فل کام ہے۔ سب غریبوں کو چاہیے کہ یہی کریں۔ گریس کی موت بے صبری زندگی سے افضل ہے۔
شکریہ رمیز راجہ صاحب، آپ نے ہماری آنکھیں کھول دیں۔ آپ کی ذات ہم کم عقلوں کے لئے روشنی کا منبع ہے۔ حضور کا اقبال بلند ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •