سو جوتے، سو پیاز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سو پیاز اور سو جوتے والی کہاوت سنی ہو گی۔ ہر کہاوت یا محاورے کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہو گا، گزرے زمانے میں بادشاہوں کا دور تھا وہ عجب شاہانہ مزاج رکھتے تھے۔ پل میں توشہ تو کبھی پل میں ماشہ، ان کی سزائیں بھی عجیب و غریب ہوا کرتی تھیں۔ بادشاہ سزا سنانے سے قبل یہ نہیں سوچتے تھے کہ ملزم کی مجھ سے وابستگی کتنی قدیم ہے یا اس کا جرم کیا ہے۔ بس جو منہ سے کہہ دیا وہ حرف آخر۔ چوں چراں، اگر مگر کی گنجائش کے بغیر۔

ایسے ہی مزاج کا حامل ایک بادشاہ اپنے ایک وزیر سے ناراض ہو گیا، اور اسے سزا دینے پر تل گیا۔ کسی نے اس کی دیرینہ وفاداری یاد کراتے ہوئے معافی کی درخواست کی۔ بادشاہ نے کمال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی وفاداری کے صلے میں اس کے سامنے دو چوائس رکھ دیں، جو چاہے خود انتخاب کر لے۔ یعنی یا تو سر عام سو جوتے کھائے یا پھر سو پیاز کھائے۔ سر عام جوتے کھانے میں وزیر صاحب کو سبکی محسوس ہوئی، ترنت کہا میں سو پیاز کھانے کو تیار ہوں۔

چنانچہ اس کے آگے پیاز کا ٹوکرا رکھ دیا گیا۔ اب جناب نے پیاز کھانا شروع کر دیے۔ ابھی چند ایک پیاز ہی کھائے ہوں گے۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے بلکہ دم گھٹتا محسوس ہونے لگا۔ مزید پیاز کھانا جان نکلنے کے مترادف ہو گیا۔ چیخنے لگا میں سو جوتے کھانے کو تیار ہوں۔ پھر وزیر صاحب کو جوتے لگنا شروع ہوئے۔ ابھی گنتی درجن تک پہنچی ہو گی کہ مر گیا، مر گیا کی دہائیاں دینے لگا۔ سزا دینے والا ہاتھ رکوایا اور گڑگڑا کر فریاد کی۔

میں پیاز کھانے کو تیار ہوں۔ دوبارہ سے پیاز اس کے سامنے لائے گئے۔ ابھی دو چار پیاز ہی کھائے، پھر واویلا شروع کر دیا۔ کہ یہ نا ممکن میں جوتے کھانے کو تیار ہوں۔ سارا دربار تماشا ملاحظہ کرتا رہا۔ وزیر گھڑی بھر پیاز اور گاہے جوتے کھاتا رہا۔ آخر کار جب سزا مکمل ہوئی تو موصوف سو پیاز کے ساتھ سو جوتے بھی کھا چکے تھے۔

ملک عزیز میں نئی حکومت آئی اس کے پاس بھی دو آپشن تھے۔ یا ملک کی دگرگوں معاشی حالت کے پیش نظر فورا پیشروؤں کی طرح آئی ایم ایف کے در پر کاسہ گدائی لے کر جا بیٹھتی۔ یا پہلے سے غربت کی چکی میں پستے عوام کی کمر پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ لاد کر الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتی۔ دوسرا آپشن منطقی اعتبار سے کسی طرح معیشیت کی ناؤ پار لگانے کے قابل نہ تھا۔ عاقبت نا اندیش حکومتی کار پردازان کا مگر اصرار تھا کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط سے عوام کی زندکی اجیرن ہو جائے گی، لہذا حکومت دوست ممالک کی معاونت اور کچھ کڑے فیصلوں کی بدولت مالیاتی ادارے کی بلیک میلنگ سے بچ جائے گی۔

اسی عزم کے تحت چین کے ترلے ہوئے، سعودیہ کا دروازہ کھٹکٹایا گیا، یو اے ای کی منتیں ہوئیں۔ گیس کی قیمت میں ایک سو چالیس فیصد اضافہ ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی ایک سے زائد بار بڑھائی گئیں۔ روپے کی قدر اس عرصے میں چالیس فیصد کے قریب کم ہوئی۔ جی ڈی پی گروتھ تین فیصد کے لگ بھگ گر کر دو اعشاریہ آٹھ فیصد پر آ پہنچی۔ افراط زر اور شرح سود ڈبل ہندسے کو چھونے لگیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں مستقل بنیادوں پر تاریخی مندی نظر آنے لگی۔ پندرہ لاکھ افراد اسی دورانیے میں بیروزگار ہو گئے۔

یہ سب ہونے کے بعد بھی اقتصادی حالت جوں کی توں رہی۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان گزشتہ تیس برسوں میں سے بائیس برس آئی ایم ایف کے ”زیر کفالت“ رہا ہے۔ جانے کیوں پہلے حکومت کہتی رہی کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اقتصادی بحران سے نکلنے کے لئے بہت رقم آ رہی ہے۔ بعد ازاں بیان آیا کہ آئی ایم ایف میں جانا پڑے گا۔ گویا کہ کسی کو ادراک ہی نہیں تھا کہ اقتصادی صورتحال کتنی پتلی ہے اور آئی ایم ایف کے پاس پاکستان پہلے بھی کئی مرتبہ جا چکا ہے۔

حالانکہ ہر کوئی جانتا تھا کہ اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کیونکہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بعد ہی ہمیں دیگر مالیاتی اداروں سے فنڈز اور امداد مل سکتی تھی۔ آئِی ایم ایف کی قرض سے متعلق شرائط کیا ہوتی ہیں۔ یہی کہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔ ہر طرح کی سبسڈی ختم کی جائے۔ توانائی کی قیمت اس کی پیداواری قیمت کے لحاظ سے مقرر کی جائے۔ کرنسی کی قدر پر مصنوعی کنٹرول ختم کر کے اسے کا تعین مارکیٹ کے حوالے ہو۔ غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کی جائے۔ ماسوائے اللوں تللوں میں کمی کے تمام شرائط پیشگی تسلیم کرنے کے بعد بھی قرض حاصل کرنے میں اس قدر تاخیر ہوئی۔

اب جو تین سال کی مدت کے لیے چھ ارب ڈالرز کی فراہمی کا معاہدہ ہوا، اس کی تفصیل سامنے ہے۔ اس کی شرائط سے لگتا ہے کہ سو جوتے کھانے کے بعد اب سو پیاز کھانے کی تیاری ہے۔ یعنی بجلی اور گیس کی قیمتیں مزید دو بار بڑھائی جائیں گی۔ ٹیکس کا ہدف 5300 سو ارب مقرر کیا گیا ہے۔ یہاں اشرافیہ سے ٹیکس کا حصول کتنا دشوار ہے، یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ لہذا ٹارگٹ لامحالہ ضروریات زندگی کی اشیاء پر ٹیکس ریٹ بڑھا کر ہی پورا ہوگا۔

اس کے علاوہ بھی سات سو ارب کے مزید ٹیکس لگانے کا پروگرام ہے۔ یہ کہاں سے پورے ہوں گے ہر کسی کو خبر ہے۔ شرح سود بڑھا کر بارہ فیصد تک کی جائے گی۔ توانائی سمیت تقریبا تمام شعبہ جات کی سبسڈی ختم کرنے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔ حکومت نے کرنسی کی قدر پر اپنا کنٹرول بھی سرینڈر کر دیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس سے روپے کی قدر مزید تیس سے چالیس فیصد تک گھٹ جائے گی۔ آسان الفاظ میں کہیں تو کچھ عرصہ بعد، وہ شخص جس کے پاس یہ حکومت بننے سے قبل ایک لاکھ روپیہ تھا عملا صرف بیس ہزار روپے باقی بچیں گے۔

بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا اور ماہرین معیشیت کے مطابق نئے بیروزگار افراد کی تعداد اسی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا دیگر آپشن موجود نہیں تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کرنا تھا تو تذبذب کی کیا ضرورت تھی۔ اس معاہدے کی شرائط اور ٹائمنگ سے حکومت کی سمجھ بوجھ اور معاملہ فہمی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس حکومت اگر دوست ممالک کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے قبل جاتی اور ساتھ اس پیکج کے لیے بھی کوشاں رہتی تو شاید اتنے برے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>