پاکستان کو گھیرا جا رہا ہے
پاکستان کے ایٹمی اثاثے تو پہلے ہی اغیار کو کھٹکتے تھے، اور اب گزشتہ چند سالوں سے پاک چائنہ اکنامک کوریڈور ان کے لئے درد سر بنا ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں، پاکستان 5.7 فیصد شرح نمو کے ساتھ تیزی سے ترقی کرنے والے ملکوں کی فہرست میں، چین اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر موجود تھا۔ بہترین ساکھ کے حامل بین الاقوامی معاشی اور مالیاتی ادارے پاکستان کو بہترین ایمرجنگ مارکیٹ قرار دے رہے تھے۔
بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق، جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا محل وقوع بہت اہمیت کا حامل ہے۔ سویت یونین کے خاتمہ کے بعد، امریکہ کو چین سے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت، اور ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے، جو امریکہ کے لئے ناقابل قبول ہے۔ پاک چین دوستی ایک تاریخی اہمیت کی حامل رہی ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک پارٹنرشپ میں بدل چکی ہے۔
قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہا جانے لگا، اور یہ پاکستان کی وجہ شہرت بھی بنا، تمام دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر عمل میں آیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات کے پیش نظر دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن کر ابھرا، اور ایک مضبوط طاقتور اور جدید جنگی آلات سے لیس بڑی فوج کا حامل ملک ہے۔ اس وجہ سے پاکستان کو تمام اسلامی ملکوں میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اور مختلف برادر اسلامی ممالک اپنی دفاعی ضروریات کے لئے پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تھی، جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں دیگر حکمرانوں کے ساتھ ساتھ نواز شریف کا اہم کردار رہا ہے۔ بھٹو مرحوم نے امریکہ کو سفید ہاتھی قرار دیکر، تمام اسلامی ملکوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا، اور ہہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا، اور پہلے اسلامی بینک کی بنیاد رکھی، اور یہ کارنامے اغیار کے آنکھوں کی چبھن بن گئے، اس طرح بھٹو مرحوم کو بین الاقوامی سازش کے نتیجے میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
نواز شریف کے کارناموں کی فہرست بھی کافی طویل ہے، پاکستان کی معیشت کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنا نواز شریف کا بہترین کارنامہ ہے۔ لیکن شاید ایک ترقی یافتہ اور ایٹمی قوت کا حامل اسلامی ملک اغیار کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ اس لئے ایک امریکن فنڈڈ رپورٹ پناما لیکس کی بنیاد پر نواز شریف کو نشان عبرت بنانے کا کام تیزی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔
اب بدقسمتی سے پاکستان کی باگ ڈور بین الاقوامی قوتوں کے پروردہ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ جو کہ منصوبہ سازوں کی توقعات کے عین مطابق نظام مملکت چلارہے ہیں۔ معاشیات کے اساتذہ کرام بتارہے ہیں کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کھلا چھوڑنا انتہائی خطرناک عمل ہے، اور اس سلسلہ میں وہ ”وینزویلا جوکہ تیل کے ذخائر رکھنے والے پانچ بڑے ملکوں کی فہرست میں شامل ہے“ کی مثال دے رہے ہیں، جو کہ اس وقت سول وار کا شکار ہے
ہم نے جانے انجانے میں اغیار کے منصوبہ سازوں ساتھ دیا ہے۔ ایک منتخب وزیراعظم کو متنازعہ عدالتی فیصلہ کے ذریعہ اقتدار سے الگ کردیا، اور ایک ایسے شخص کو وزیراعظم بنا لیا ہے، جو کہ ملک اور ریاست چلانے کے رموزِ سے واقف نہیں ہے۔ 2019 میں پاکستان کی شرح نمو 5.7 سے گر کر 2.9 دس سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ سٹاک ایکسچینج 54 ہزار پوائنٹس سے گر کر 33 ہزار پوائنٹس پر موجود ہے۔ معیشت دان بتاریے ہیں کہ پاکستانی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، اور آئی ایم ایف کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ معیشت پر خودکش حملہ ہے۔


