فطرت سے رومانس کرتے ہوئے دیہی لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ کو فطرت سے رومانس کرتے ہوئے لوگوں کو دیکھنے کی چاہت ہو، تو اپنے زندگی کی مصروف گھڑیوں سے وقت نکال کر گاؤں کی زندگی کا رخ کیا جائے۔ گاؤں کہ رہن سہن اور دیہاتی باشندوں کی زندگی پر غور فکر جائے تو فطرت اور انسان کہ باہمی تعلق کا اندازہ یقینن ہوجائے گا۔ دیہات جہاں دنیا کی مختلف تہذیبوں نے جنم لیا۔ دیہات ہی سے علم کا دروازہ کھلا ہے۔ اور آج کی ترقی یافتہ سائنس و ٹیکنالوجی کہ دؤر میں ہم داخل ہوئے ہیں ان میں دیہی زندگی کا اہم کردار رہا ہے۔

لیکن آج شہری معاشرے کہ لوگ ان کی زندگی سے الگ ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم دیہی زندگی کی حسناکی سے بالکل محروم ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا تعلق فطرت سے ٹوٹ کر صرف مصنوعی ایجادات تک محدود ہوگیا ہے۔ ا س کہ ردعمل میں ہم ڈپریشن جیسے مرض اور ذہنی الجھنوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ اگر زندگی کو محسوس کرنا ہو تو دیہی زندگی کا مشاہدہ کیا جائے۔

یہ سناٹا تب تک چھایا رہتا ہے، جب تک صبح فجر کی اذان کی آواز نہ سنائی دے۔ دیہی لوگ مذہبی عقیدت رکھتے ہوئے سب سے پہلا کام اللہ پاک کے بارگاہ الٰہی میں سجدہ ادا کر تھوڑی دیر تلاوت قرآن پاک کرکے اپنے گھروں کا رخ کرتے ہیں جہاں ان کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں، لکڑیوں کی آگ جلا کر ان کے لئے صبح کا ناشتہ تیار کرتی ہیں۔ دیہات کے ناشتے کی خاص بات کہ عورتیں باجرے، گندم کا آٹا گوندھ کر ان کی روٹیاں پکاتی ہیں۔ اور گھر میں پالتو مویشیوں سے تازہ دودھ نکال کر اس دودھ سے دہی، مکھن، لسی اور چائے بناتی ہیں۔ اس طرح وہاں کے صبح کی شروعات ہوتی ہے۔

جب آہستہ آہستہ سورج چڑھ جاتا ہے۔ تو دوپہر کا کھانا بنانے میں لگ جاتی ہیں، زیادہ تر کھانے میں روایتی ثقافت کے مطابق گندم اور باجرے کی روٹی کے ساتھ ساگ، مٹروں کی پھلی، مچھلی وغیرہ کا استعمال کرتی ہیں۔ دوپہر کے کھانے میں مکھن اور لسی کا استعمال لازمی کیا جاتا ہے۔ کھانا تیار کرکے زیادہ تر عورتیں زرعی زمینوں پر کام کرنے والے رشتیداروں کو کھاناخود دینے جاتی ہیں یا پھر چھوٹے بچوں کے ہاتھوں بھجواتی ہیں۔

جہاں ان کا بھائی، بیٹا یا باپ صبح سے لے کر دوپہر تک سخت کام کرنے کے بعد گھنے درخت کی چھاؤں کے نیچے بیٹھ کرکھانا کھاتے ہیں۔ اور ایک دوسرے سے خوشگوار موڈ میں بات چیت کرتے ہیں۔ ان کے کہلتے ہوئے چہروں اور پسینے سے نڈھال جسم کو دیکھ کر اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ گرمی ہو یا سردی یہ کسان سخت محنت کرکے زمین کے سینے سے اناج، میوے، پھل، سبزیاں ان کی دن رات کی محنت کی بدولت حاصل ہوتی ہیں۔ ان کی محنت کا دارومدار ہماری زندگی سے ہے ان کی محنت کے بدولت ہمیں کاشتکاری سے  اناج حاصل ہوتا ہے۔

اور پھر شام کو جب سورج اپنا سفر پورا کرکے اپنے آخری منزل طرف روانہ ہوتا ہے۔ تو پرند چرند اپنے اپنے گھونسلے میں روانہ ہونے لگتے ہیں تو کسان بھی اپنے مویشی واپسی لے جاکر اپنے جسم سے پسینہ پونچھتے ہوئے اپنے گھر طرف روانہ ہوتے ہیں جہاں ان کی خاندان کی عورتیں ان کی راہیں تکتی ہیں۔

دیہی لوگ سب سے بڑی خوبی ان کی مہمان نوازی ہے۔ اگر کوئی مہمان آ جائے تو وہ خوشی سے نہ سماتے ہیں۔ اس کی خاطر داری اس طرح سے کرتے ہیں گویا کوئی آسمان سے آیا ہوا فرشتہ ہو۔ ہمارے ملک کے سب سے بڑی آبادی کا حصہ آج بھی دیہاتوں میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ اور دیہات ہی ہے جن کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو چلایا جاتا ہے۔ دیہات کی وجہ سے پاکستان کو زرعی ملک کہا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم دیہی زندگی سے لا تعلق ہوتے جا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •