گورنمنٹ کالج لاہور میں پنجابی کی تدریس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زبان ثقافتی تسلسل کا اھم ترین جزو ہے۔ کسی بھی خطہ میں بولی جانے والی زبان اس خطہ کے لوگوں کی شناخت کی ضامن ہوتی ہے۔ اس خطہ کے لوگ چاہے مختلف مذاہب ’رنگوں اور نسلوں میں تقسیم ہوں لیکن زبان کی یکانگت ان سب لوگوں میں نہ صرف ہم آہنگی پیدا کرتی ہے بلکہ نیشنلزم کو سائنسی بنیادیں بھی فراہم کرتی ہے۔ بات ہو اگر پنجاب کی تو بدقسمتی سے پچھلی صدی کے اوائل سے زبان جیسے سائنسی علم و عمل کو منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے عمومی طور پر مذہب کے تناطر میں دیکھا گیا۔

پنجاب میں پچھلی صدی کے اوائل سے ہی پروپیگنڈا شروع کیا گیا کہ ہندی ہندووں کی ’اردو مسلمانوں کی اور پنجابی سکھوں کی زبان ہے جس کے اثرات ابھی بھی پنجاب کی سماجی وسیاسی زندگی میں خوب دکھائی دیے جا سکتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا لسانیات کی رو سے بالکل غیر سائنسی تھا۔ لیکن اس پروپیگینڈے کے خلاف گورنمنٹ کالج لاھورجیسے علم دوست ادارے مختلف شکلوں میں علمی مزاحمت کرتے رہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں 1926 میں پنجابی مجلس کا قیام ہوا جس کا ایک مقصد یہ باور بھی کرانا تھا کہ پنجابی پنجاب میں بسنے والے تمام لوگوں کی زبان ہے چاہے ان کا تعلق جس مذہب سے بھی ہو۔

گورنمٹ کالج لاہور نے ہمیشہ پنجابی زبان کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ 1947 تک اور بعد میں اب تک مجلہ راوی میں پنجابی حصہ چھپ رہا ہے۔

1967۔ 68 سے گورنمنٹ کالج لاہور میں پنجابی بطور اختیاری مضمون انٹرمیڈیٹ میں پڑھایا جانے لگا اور 1972 میں اسے بی اے کی سطح پر بھی اختیاری مضمون کے طور پر بھی پڑھایا جانے لگا۔ 2013 میں بی اے آنرز پنجابی کا اجراء ہوا لیکن تب تک پنجابی کو علیحدہ ڈپارٹمنٹ کا درجہ حاصل نہ تھا۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں قیام پاکستان کے بعد جن اساتذہ کرام نے پنجابی زبان کی ترویج کے لیے اھم کردار ادا کیا ان میں صوفی تبسم ’ڈاکٹر نزیر‘ لئیق بابری اور سرفراز قاضی کے نام سر فہرست ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ کی بطور وائس چانسلر تعیناتی کے بعد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پنجابی میں اعلی تعلیم کے حصول میں زبردست پیش رفت ہوئی جو انتہائی قابل تحسین ہے۔ اس عرصہ کے دوران پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ کی انتھک محنت کی وجہ سے پنجابی میں اعلی تعلیم کے حصول میں مندرجہ ذیل اہم اقدامات اٹھائے گئے۔

ا) پنجابی زبان و ادب کو علیحدہ ڈپارٹمنٹ کا درجہ ملنا ( 16۔ 8۔ 017 )
ب) ایم فل کلاسز کا اجراء (ستمبر 018 )
ج) پی ایچ ڈی کلاسز کا اجراء (یکم اپریل 019 )
د) پنجابی زبان کے تحقیقی مجلہ ”سلیکھ“ کا آغاز۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے جب پروفیسر ڈاکٹر سعید خاور بھٹا کو بطور پہلا ہیڈ آف پنجابی ڈپارٹمنٹ تعینات کیا تو سعید بھٹا صاحب کے سامنے ایم۔ فل اور پی ایچ ڈی کے سلیبس کی تشکیل سب سے بڑا چیلینج تھا۔

ایم فل کے سلیبس میں لسانیات کے کورس میں جہاں محمد آصف خان ’عین الحق فرید کوٹی اور ڈاکٹر طارق رحمان جیسے ماہر لسانیات کی تصانیف کو سلیبس کا حصہ بنایا گیا وہیں ڈاکٹر پریم پرکاش سنگھ‘ سنت سنگھ سیکوں کی تصانیف بھی سلیبس کا حصہ ہیں۔ تنقیدی دبستان کے سلییبس میں جہاں نجم حسین سید جیسے مہا نقاد کو پڑھایا جاتا ہے وہیں وہیں ہربھجن سنگھ کو بھی پڑھایا جاتا ہے۔

اسی طرح ”پنجابی وچ ناری واد“ کورس میں جہاں نسرین انجم بھٹی اور سارہ شگفتہ کی شاعری پڑھائی جاتی ہے وہیں امرتا پریتم کی شاعرانہ پریت کے جلوووں سے بھی لطف اندوز ہونا ہوتا ہے۔

اس سلیبس میں پنجابی زبان کے مختلف رسم الخط ”پنجاب وچ ورتیاں گئیاں لپیاں“ جیسے کورس میں موضوع بحث ہیں۔ پنجاب کے بیشتر علمی حلقوں میں ایک عام فکری مغالطہ پایا جاتا ہے کہ پنجابی زبان دو رسم الخطوں میں لکھی جاتی ہے۔ ایک شاہ مکھی رسم الخط اور دوسرا گر مکھی۔ اس کورس میں تحقیق سے ثابت کیا گیا ہے کہ پنجابی زبان ان دو رسم الخطوں کے ساتھ ساتھ تاریخ کے مختلف ادوار میں ”دیونا گری“ ”سندھی“ ”لوہانکا“ اور ”رومن“ میں بھی لکھی گئی۔ اس کورس میں طالب علموں کے لئے گور مکھی رسم الخط کی سکھلائی لازمی قرار دی گئی ہے۔

پی ایچ ڈی کے سلیبس میں جو اھم کورسز پڑھائے جا رہے ہیں ان میں ”کھوج دے عالمی مہاڑ“ ’ ”پنجابی بارے مشترکین دی کھوج دے مہاڑ“‘ اس کورس میں آر سی ٹیمپل اور ایچ اے روز جیسے مستشرقین کی پنجابی زبان بارے تحقیق کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ ایک کورس ”پنجاب دا تہذیبی ویروا“ ہے جس میں وادی سواں ’ھاکڑا‘ ہڑپہ اور ٹیکسلا کی تہذیبوں کو مرکز بحث بنایا گیا ہے۔ ”گلوبلائزیشن تے پنجابی“ جیسے جدید کورسز کے ساتھ ساتھ پنجابی ادب کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے ”پنجابی ادب دے تذکرے“ جیسے کورسز میں موہن سنگھ دیوانہ اور مولا بخش کشتہ جیسے لکھاریوں کو بھی پڑھایا جا رہا ہے۔ ”پنجابی رسالیاں دے فکری تے ادبی مہاڑ“ جیسے کورس کے ساتھ ساتھ ”پنجابی ’لہجے تے معیاری زبان“ نامی کورس بھی پی ایچ ڈی کے سلیبس کی زینت ہیں۔

ایک کورس ”پنجابی شاعری دا ٹکراواں تول“ بھی ہے جس میں پنجابی شعراء کا عالمی شاعروں سے بھی موازنہ کیا گیا ہے۔ مولانا روم کا تقابلی جائزہ میاں محمد بخش سے کیا گیا ہے ’شیکسپیئر کا وارث شاہ سے‘ گوئٹے کا بلھے سے تو ورڈز ورتھ کا خواجہ فرید سے۔ اسی طرح کیٹس اور شو کمار بٹالوی کے مابین طالب علموں کو موازنہ کرنے کا موقع ملے گا۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ایم فل اور پی ایچ ڈی پنجابی کے سلیبس پر عمیق نگاہ ڈالیں تو یہ سلیبس نہ صرف سیکولر ایجوکیشن کا استعارہ ہے بلکہ پنجابی میں اعلی تعلیم کے معیاری حصول کے لیے دوسرے روشن خیال و قدامت پسند اداروں کے لیے بھی مشعل راہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ سلیبس اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ زبان اپنی ساخت میں ہی سیکولر ہوتی ہے اور زبانوں کا تعلق خطوں سے ہوتا ہے نہ کہ مذاھب سے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ (وائس چانسلر ) کی خصوصی دلچسپی اور ڈاکٹر سعید خاور بھٹا کی ان تھک محنت کی وجہ سے گورنمنٹ کالج یورنیورسٹی لاہور میں پنجابی زبان و ادب میں نہ صرف معیاری اعلی تعلیم ممکن ہوئی بلکہ سلیبس کے مندرجات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاھور اپنی روایات کے مطابق courage to know اور روشنیوں کے سفر جانب مسلسل گامزن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •