عمران خان کی ایمانداری اور نااہلی کے درمیان ڈولتی ریاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگرچہ سوشل میڈیا کی نوکدار موجودگی اور عام تاثرات و اظہار کے برق رفتار ذریعہ ترسیل کے بعد کہنے کو بہت کچھ باقی نہیں رہتا اور لکھنے پڑھنے والوں کو گویا ایک چین سا آجاتا ہے لیکن پھر بھی شاید کچھ موضوعات ایسے ضرور بچ رہتے ہیں جن پر خامہ فرسائی کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جب یہ طے کرلیا گیا کہ جناب عمران خان اور اُن کے جانثار ساتھی جیسے ہی اقتدار کی راہداریوں میں داخل ہوں گے، مملکت خداداد پر نعمتوں اور آسانیوں کی بارش شروع ہو جائے گی۔ پوری دنیا للچائی ہوئی نظروں سے پاکستان اور اس کی چمکدار سیاسی قیادت کی طرف دیکھنا شروع کردے گی، عرب برادران جب الباکستان آئیں گے تو جاتے ہوئے اتنے نہال ہوں گے کہ خوشی میں اپنے اونٹ تک ہمارے کھونٹوں سے باندھ جائیں گے۔

ترکی جو ہمارا دائمی دوست ملک ہے وہ اگر پچھلی حکومت میں ہمارے گندگی سے اَٹے شہروں میں مشینی صفائی کی خدمات تک محدود تھا اب ترک عوام اپنی مہارت اور تجربے کی تمام تر پوٹلیاں ہمارے سامنے اُلٹی کردیں گے۔ ایسی ہی تصوراتی صورت حال مغربی ممالک کی قیادتوں اور خاص طور پر ہمارے عظیم لیڈر کے ممدوح ملائیشیا کے جادوئی حکمران مہاتیر محمد سے جوڑ دی گئی تھی۔ یوں کہیے کہ دنیا ہمارے لیے اُمڈی پڑی تھی اور اس کی وجہ صرف ایک تھی، اہل، ایماندار، نوجوان، تعلیم یافتہ اور سب سے بڑھ کر ماضی کی کامیابیوں سے مالا مال نئی قیادت اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی تھی۔

سوشل میڈیا پر اکثرو بیشتر ہمارے نوجوان قائد مراد سعید کو تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ ملکی معیشت کی دگرگوں صورت حال کو اچانک پلٹ دینے اور معاشی انقلاب کی تفصیلات قوم کو بتا رہے تھے تو اُنہوں ”جنون“ کی تابعداری کے اپنے جماعتی نقطہ نظر کی وضاحت کے دوران یہ کہہ دیا تھا کہ جس دن عمران خان اقتدار میں آئے گا، اُسی دن دو سو ارب ڈالر پاکستان پہنچ جائیں گے، ایک سو ارب ڈالر سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی اور باقی بچ رہنے والے سو ارب ڈالر ہم آئی ایم ایف کے منہ پر دے ماریں گے۔

پھر ہمارے عظیم قائد جناب عمران خان وقتاً فوقتاً قوم سے مخاطب ہوتے وقت آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، بین الاقوامی دنیا، کرپشن، بھیک، قرضوں، پٹرول کی قیمتوں، ڈالر کے مقابلے میں گرتی ہوئی پاکستانی کرنسی کی حالت زار، تعلیمی انقلاب، احتساب، بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے، پاکستان کرکٹ بورڈ، شوکت خانم ہسپتال کی شاندار کارکردگی، نمل کے تعلیمی انقلاب، اسٹاک ایکس چینج کی غیر متوازن صورت حال، نریندر مودی کی دوستی غرض ہر وہ موضوع جس پر پاکستان میں ہوائی سیاست کامیابی کے ساتھ کی جاسکتی ہے، اس پر اتنا زیادہ بول رہے تھے کہ کچھ اور سنائی نہیں دے رہا تھا۔

کبھی کبھار نوجوان فیصل ووڈا بھی گل افشانی کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ ان سب آوازوں میں محترمہ فردوس عاشق اعوان کی آواز بھی شامل ہوچکی ہے جبکہ تواتر کے ساتھ قوم کو خوشخبریاں سنانے والوں میں شیخ رشید، فواد چوہدری، حماد اظہراور کئی دوسرے رہنما بھی شامل ہیں۔ حفیظ شیخ اور شبر زیدی جیسے نئے عہدیدار ابھی معاشی اٹکل میں پھنسے ہوئے ہیں اور اُن سے یہی اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ خوشخبریوں اور دعوﺅں میں سابق وزیرخزانہ اسد عمر کی کمی کو پورا کرتے رہیں گے۔

اس منظر نامے کی خشک جزیات کو بیان کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ ہماری موجودہ حکومت اور اس کی عظیم قیادت ایسے پُرجوش اور تحریکی جنون کے زیراثر سیاسی تربیت حاصل کرنے والوں کی ہے جنہیںحقائق اور اعدادوشمار سے کوئی خاص لگاﺅ نہیں۔ ہونا بھی شاید یہی چاہیے تھا کہ حقائق اور اعدادوشمار ہمارے ہاں کبھی بھی حوصلہ افزا نہیں رہے اور اگر اِن کی مدد سے کوئی خاکہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی تو ہمیشہ نااُمیدی اور غصے کی فصل پروان چڑھی۔

بعض دور کی کوڑی لانے والوں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کو چونکہ ’متبادل‘ قیادت کے طور پر سامنے لانا مقصود تھا اس لیے اِنہیں یہ ’چھوٹ‘ دی گئی کہ وہ جو چاہیں کہیں، جس قسم کا دعوی اُن کے دماغ میں آتا ہے داغ دیں کیوں کہ مقصد نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے چنگل سے قوم و ملک کو آزاد کروانا تھا۔ بعض نکتہ چیں یہ بھی کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ مقتدر حلقوں میں یہ بات بہت حد تک یقین کے ساتھ کہی جا رہی تھی کہ عمران خان کے بین الاقوامی پروفائل کو سامنے رکھا جائے اور اندرون ملک اُن کی قیادت پر بھروسہ کرنے والوں کے تیقن کو دیکھا جائے تو ایسا ممکن نظر آتا ہے کہ وہ ملک و قوم کو لاحق شدید مسائل کا تدارک کرنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اُن میں دیانتداری اور ایمانداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس میں شک بھی نہیں کہ معلوم حقائق کے مطابق جناب عمران خان میں دیانتداری اور ایمانداری کے تمام ضروری اجزا پائے جاتے ہیں اورکچھ کر گزرنے کے جذبے کے ساتھ ساتھ اُن میں اس جنون کی رمق بھی نظر آتی ہے کہ وہ ملک میں کرپشن، ناانصافی، انتظامی نااہلیت اور دیگر خرابیوں کے خاتمہ چاہتے ہیں۔

پھر مسئلہ کیا ہے کہ ابھی تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آٹھ ماہ ہی مکمل کرپائی ہے کہ لوگ اُوبھنا شروع ہوگئے ہیں، دعوئے زمین پر آگرے ہیں، معاشی سقراط گھروں میں واپس جاچکے ہیں، اطلاعاتی بزرجمہر کونے کھدروں میں ڈال دئیے گئے ہیں۔ معاشی بدحالی سر چڑھ کر بول رہی ہے اور امکان یہی نظر آرہا ہے تحریک انصاف کی حکومت بدترین حالات کا شکار ہونے جارہی ہے۔ وزیراعظم جو کبھی بجلی، گیس، پٹرول اور عام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اُتار چڑھاﺅ جیسے معاملات پر ایک بے رحم ناقد کے طور پر جانے جاتے تھے آج خود اُن کی حکومت کا گھیراﺅ جاری ہے اور یہ سلسلہ مزید آگے بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔

ایسا اس لیے ہوا ہے کہ عمران خان اور اُن کی’تاریخی‘ ٹیم اُن زمینی حقائق سے آگاہ نہیں تھی، جو ریاست کے ہر شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، عمران خان نے معاشی حالات کو اسد عمر کی نظر سے دیکھا اور جہانگیر خان ترین کی ’معاملہ فہمی‘ کی مدد سے حل کرنے کا سوچا۔ ذاتی وابستگیوں کی بنیاد پر یا جماعت کھڑی کرتے وقت ساتھ دینے والوں کے ساتھ پیدا ہوجانے والی فطری قربت کو معروضی حالات پر فوقیت دی گئی اور ایسے افراد کو بھاری ذمہ داریاں سونپ دی گئیں جو تحریک انصاف کو بحیثیت ایک سیاسی پارٹی مدد تو فراہم کرسکتے تھے ، ریاست کے مختلف شعبوں کو وقت کی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کا نہ تو تجربہ رکھتے تھے اور نہ ہی اہلیت۔ پاکستان کی گہری ہوتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کے تدارک کے لیے ’بزم ادب‘ کے سکول و کالج کی سطح کے تقریری مقابلوں سے کہیں زیادہ اور مزید سنجیدہ تصورات و تجربات کے حامل سفارتی قائد کی ضرورت تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا اور وزیرخارجہ صوبائی سطح کے پارٹی تنازعات کو حل کرتے ہوئے یا اُن میں اُلجھے ہوئے نظر آئے۔

ایف اے ٹی ایف کی لہراتی ہوئی تادیبی تلوار کے سامنے جس قسم کی سفارتی ڈھال کی ضرورت ہے، وہ ابھی تک کہیں نظر نہیں آتی۔ ایسی ہی صورت حال کئی دوسرے ریاستی شعبوں کے ساتھ بھی چسپاں ہے اور مستقبل قریب میں حالات ٹھیک ہوتے نظر نہیں آتے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس ایمنیسٹی اسکیم ڈولتی ہوئی معیشت کی ٹھیک کرنے سے زیادہ اگلے ماہ پیش کیے جانے والے بجٹ کی ایمنیسٹی کوشش ہے تاکہ عام لوگوں میں بڑھتی ہوئی شدید بے چینی کو کچھ عرصے کے لیے روکا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •