معقول اور مقبول قیادتوں کا فرق

ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے کہ سیاسی و سماجی علوم کے ماہرین جو لامحالہ طور پر تاریخی شعور کے حامل بھی تھے، خبردار کرتے ہوئے ملتے کہ جہاں جنگیں بنی نوع انسان کو انگنت نقصانات سے دوچار کرتی ہیں وہاں ایسے انسانی گروہوں کو پیدا کرنے اور پروان چڑھانے کا کام بھی کرتی ہیں، جنہیں بعد میں ”قیادت“ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا کے تقریباً تمام پُرآشوب ادوار کی سب سے نمایاں پہچان

Read more

جدید ٹیکنالوجی، ایران اسرائیل اور ٹرمپالوجی

ہمارے ہاں کئی بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ کسی نے دو بچے لڑا دیے اور بیٹھ گیا تماشا دیکھنے، دوران لڑائی جب تک اس کا پسندیدہ بچہ حاوی رہتا وہ خوشی سے کھیل جاری رکھتا اور جیسے ہی دوسرے بچے نے کوئی بھاری ہاتھ مارا تو کھیل ماسٹر تلملا اُٹھا اور ناپسندیدہ بچے کو خود سے ایک چپٹ جڑ کر مقابلے کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ بالکل ایسا ہی کھیل گزشتہ دو ہفتوں سے خلیج میں جاری تھا

Read more

ایران اسرائیل جنگ کو کیسے دیکھا جائے؟

دنیا کے دو علانیہ نظریاتی ممالک ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے اور پہل اگرچہ اسرائیل نے کی ہے لیکن جوابی وار میں ایران بھی اُن تمام ممالک کو حیران کر رہا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دیوتا اسرائیل کے سامنے کوئی ملک نہیں ٹھہر سکتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ تاثر تعمیر کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے زندگی کے تمام شعبوں میں معجزات کیے ہیں اور ایران نے انقلاب کے بعد ایرانی

Read more

مذاق ہی مذاق میں گزری عید

عید گزری ہے لیکن حسب معمول اپنے ساتھ کچھ نئے واقعات، تجربات اور مشاہدات بھی لیتی آئی۔ ماضی میں ہم اخبارات کی مدد سے گزری عید کے واقعات و معمولات سے آگاہ ہوتے کیوں کہ عیدین کی چھٹیوں کے بعد اخبارات ایک طرح گزری چھٹیوں کا ضمیمہ ہوا کرتے تھے۔اب یہ معمول بدل چکا ہے اور خبروں سے وقتی دوری کی نعمت سے بھی ہم محروم ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا سب کچھ ساتھ ساتھ نشر کرتا رہتا ہے اور

Read more

جنگ سے زیادہ جنگی ماحول خطرناک ہے

جنگ اور جنگی ماحول دو بالکل مختلف اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی کیفیات ہیں۔ جنگ دوطرفہ نقصان اور تباہی کی عملی تعبیر اور تصویر کا نام ہے جب کہ جنگی ماحول میں قبل از جنگ اپنے آپ کو تباہی اور نقصان کے لیے تیار کرنا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ اگر جزئیات میں جھانکنے کی کوشش کی جائے تو مذکورہ بالا دونوں موضوعات ناقابل برداشت ہی نہیں قابل نفرت بھی ہیں اور اِنہوں نے انسانوں کی مدد سے روئے زمین

Read more

دونوں ممالک اور سوشل میڈیا کی خیر ہو

حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں حب الوطنی کی دوطرفہ لہر اس قدر بلند ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی تیار کردہ اصطلاح میں اس کو بھی سونامی ہی سمجھا جائے کیونکہ یہ سونامی جس قدر منہ زور ہے، کہیں کونے کھدرے میں دبکا بیٹھا احتیاطی استدلال آج کل صرف بزدلی اور حماقت محسوس ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کی تاریخی چپقلش کے دوران ماضی کی جنگیں اطراف کے فوجیوں، سیاستدانوں، سرحدوں کے باسیوں اور گلوکاروں نے لڑی ہیں۔ ہاری ہیں

Read more

متوقع پاک بھارت جنگ: سوشل میڈیا کے سنگ

ہم جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو بالکل ایسے ہی بدل دیا ہے جیسے تین دہائیاں پہلے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی عام لوگوں تک رسائی نے بدلا تھا۔ سوشل میڈیا نے تو وہ سب کچھ وقت سے پہلے ہمارے سامنے واشگاف کر دیا ہے جو عام طور پر قوموں کی تباہی اور اُن پر مسلط ہو جانے والوں کے زوال کے بعد محققین اور مورخ سامنے لے کر آتے تھے۔ جیسے ہمیں بہت دیر کے بعد معلوم

Read more

بگاڑ بہت ہو چکا، بناؤ کی کوئی صورت نکالیں

پاکستان کے مختلف شہروں میں اچانک شروع ہو جانے والی ٹارگٹ کلنگ پاکستان میں طالبان اور داعش کے گروہوں کے مستقبل کے متشدد عزائم کے ابتدائی خاکے کی رونمائی ہے جو آگے چل کر خطے میں نئی کشیدگی اور شدت پسندی کی داغ بیل ڈالے گی۔ ابتدائی طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ داعش اور ٹی ٹی پی اس قسم کے حربوں کو اس لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں کہ خوف کی فضا قائم کر کے ریاست کو

Read more

مہلک غلطی کی جانب سفر

پاکستان میں جاری سیاسی کش مکش اور خاص طور پر 9 مئی کے واقعات اور مقدمات میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں اور سزاؤں کے بعد قومی اُفق پر پھیل جانے والی سیاسی کڑواہٹ کے اثرات کو محدود کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی۔ اِس صورت حال کو معمول پر لانا اس لیے بھی فوری طور پر ممکن نہیں کہ ملک میں سیاسی ڈائیلاگ کی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔ شاید کوئی بھی پارٹی اپنے

Read more

نا اہلی اور ترجیحات کا گرداب

پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی کے واقعات تیزی کے ساتھ شروع ہوچکے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وہی روایتی راگ الاپ رہے ہیں کہ ملک کے اندرونی و بیرونی دشمن اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ سیاسی حالات کے پیش نظر اسٹیبلشمنٹ کو پہلے سے کہیں زیادہ تنقید کا سامنا ہے۔ جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے سرکاری موقف سامنے آنے سے پہلے سوشل میڈیا پر حکومت اور اداروں کو لفظی

Read more

پوچھتے ہیں وہ کہ خالد (احمد) کون ہے؟

خالد احمد پر لکھنے سے پہلے اُن کے مشہور زمانہ کزنوں کا تذکرہ ضروری ہے کیونکہ ایک پھوپھی زاد عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہے اور اُس کی رہائی کے لیے ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ دوسرا چچا زاد ماجد خان دنیائے کرکٹ میں مائٹی خان کے نام سے جانا جاتا ہے، اور سیاسی یا کسی دوسرے حوالے سے غیر متحرک ہے۔ خالد احمد رواں سال اٹھارہ نومبر کو اکیاسی برس کی بھرپور

Read more

کیا عمران خان تنہا رہ گئے ہیں؟

فیصل آباد جلسے میں شدت جذبات یا کثرت خدشات کے زیر اثر سابق کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے پاکستانی فوج کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے بارے میں جو گفتگو کی اس کو اکثریت نے پسند نہیں کیا۔ سوائے سابق وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد اورسابق وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور کسی حد تک سابق وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل

Read more

طالبان کی فتح میں پنہاں ہماری دائمی شکست

امکان یہی ہے کہ جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے کابل طالبان کی آغوش میں پہنچنے والا ہوگا۔ ابھی ہم اپنی آزادی کی خوشی منا کر فارغ ہوئے ہیں کہ ایک مزید خوشی ہمارے انتظار میں ہے۔ طالبان مجاہدین نے دوعشروں پر محیط جنگ جیت لی ہے اوراب افغانستان میں اسلام کا بول بالا ہوگا اور دشمنوں کا منہ کالا ہوگا۔ ہمارے ہاں طالبان پرستوں کو یقین ہے کہ اگر کابل میں طالبان ہوں گے تو نہ صرف

Read more

عمران خان کی ایمانداری اور نااہلی کے درمیان ڈولتی ریاست

اگرچہ سوشل میڈیا کی نوکدار موجودگی اور عام تاثرات و اظہار کے برق رفتار ذریعہ ترسیل کے بعد کہنے کو بہت کچھ باقی نہیں رہتا اور لکھنے پڑھنے والوں کو گویا ایک چین سا آجاتا ہے لیکن پھر بھی شاید کچھ موضوعات ایسے ضرور بچ رہتے ہیں جن پر خامہ فرسائی کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جب یہ طے کرلیا گیا کہ جناب عمران خان اور اُن کے جانثار ساتھی جیسے ہی اقتدار کی راہداریوں میں داخل

Read more

انسداد دہشت گردی کا بیانیہ (آخری قسط)

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دوسال پہلے اٹلی کے شہر میلان میں ایک اٹالین صحافی کی پاکستان، ہندوستان اور افغانستان پر لکھی کتاب کی تقریب رونمائی میں اپنے وطن اور اس کے سماج کے بارے میں ایسے جملے سننے کو ملے، جو مجھے اپنے ہم وطن صحافیوں اور مبصروں کے ہاں نہیں ملتے۔شاید اس کی وجہ ایک غیر پاکستانی کی زبان سے اپنا گریبان چاک ہونے کا دکھ تھا یا اپنی کم نظری کا ملال۔ بہرحال میرے لیے یہ

Read more