امریکا کو مشورے اور حبس بے جا میں رکھا وزیر اعظم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں ملکوں کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکہ جیسی بڑی طاقت کا حکمران جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسا عاقبت نااندیش اور خود کو سپر ہیرو سمجھنے والا شخص ہو تو اسے کسی بھی ملک کے کسی قسم کے مشورہ کی حاجت نہیں ہوتی۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے احتیاط سے دیے گئے مشورہ سے قبل یورپین یونین اور نیٹو کے لیڈر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو سے دو بدو ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں کسی نئی جنگ کے بارے میں متنبہ کرچکے ہیں۔ لیکن بظاہر اس انتباہ کا امریکی حکومت یا صدر ٹرمپ کے ارادوں پر کوئی اثر مرتب نہیں ہؤا۔ پاکستان کو اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرنے سے زیادہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایران کے خلاف جارحانہ جنگ جوئی کے موجودہ امریکی رویہ سے پاکستان کو کیا سبق سیکھنے کی ضرورت ہے؟

امریکہ نے خلیج فارس میں طیارہ بردار بیڑا روانہ کیا ہے اور قطر میں امریکی فضائی اڈے کو بی ۔ 52 بمبار طیاروں سے لیس کرنے کے بعد اب عراق سے تمام امریکی شہریوں کو نکلنے کا حکم دیا ہے۔ ان حالات میں اس سے کسی بہتری کی امید وابستہ نہیں کی جاسکتی۔ یوں لگتا ہے کہ امریکہ ہر قسم کی صورت حال کے لئے تیار ہے اور کوئی اچانک سانحہ یا غیر متوقع واقعہ صدر ٹرمپ کے غصے کو مہمیز دے گا اور ایران پر حملہ کے ذریعے وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے دوست ملکوں کی بالادستی مستحکم کرنے کا حتمی اقدام کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ امریکہ ، ایران کے خلاف طاقت کا جو مظاہر ہ کررہا ہے وہ صرف یہ واضح کرتا ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور اور بے شمار وسائل پر دسترس رکھنے والا امریکہ کسی بھی ملک کے خلاف، کسی بھی وقت، کوئی بھی انتہائی اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ایسا ارادہ کرنے کے بعد وہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کسی عالمی ادارے یا دوست ملکوں کی حمایت کا محتاج نہیں ۔

ماضی میں افغانستان اور پھر عراق پر حملوں کی صورت میں امریکہ اپنی اس یک طرفہ ہٹ دھرمی اور کوتاہ نظری کا ثبوت فراہم کرچکا ہے۔ عراق میں صدر صدام حسین کے خلاف فوجی کارروائی کے لئے جو جھوٹ دنیا کو بتایا گیا تھا، اس کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد بھی امریکی حکومت نے کسی قسم کی شرمساری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان جنگوں میں لاکھوں لوگ جان سے گئے۔ دہشت گردی میں ملوث گروہوں نے مشرق وسطیٰ کے علاوہ پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں میں تخریبی سرگرمیاں کیں جن سے یہ ممالک تصادم کے راستے پر گامزن ہوگئے۔ شام کی خانہ جنگی میں کئی لاکھ شہری ہلاک ہوئے اور نصف سے زیادہ آبادی در بدر ہوگئی ۔ شام کے بیشتر شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے لیکن امریکہ نے کبھی اس غلطی کو تسلیم نہیں کیا کہ اس نے ناجائز طور سے طاقت کا استعمال کرکے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی تباہی کو عام کیا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب نے امریکہ ہی کی شہ پر خلیجی ملکوں کے ساتھ مل کر یمن پر جنگ مسلط کی لیکن وہ بھی امریکہ ہی کی طرح اس جنگ کی تباہ کاریوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے مسلسل اسے جاری رکھنے پر اصرار کررہا ہے۔

اس لئے امریکہ نے اگر کسی وقتی فائدے یا کسی سانحہ کی وجہ سے ایران پر حملہ کرنے کا قصد کیا تو دنیا کا کوئی ادارہ یا اخلاقیات کا کوئی اصول اسے اس جبر و ظلم سے باز نہیں رکھ سکے گا۔ یہ صورت حال پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے سب ملکوں کے لئے باعث تشویش ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی ملک عسکری مزاحمت تو درکنار سفارتی سطح پر بھی امریکہ کے خلاف سرگرم ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سے زیر و بم کا شکار رہے ہیں ۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے اور بھارت کے ساتھ تعاون کو وسعت دی ہے۔

 صدر ٹرمپ پاکستان پر انتہائی غیر سفارتی انداز میں اشتعال انگیز الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ وہ پاکستانی لیڈروں کو جھوٹا اور مکار کہہ چکے ہیں جنہوں نے مالی امداد کے لئے امریکی لیڈروں کو دھوکہ دیا اور انہیں بے وقوف بناتے رہے۔ یہ الزام لگاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پاکستان کو ملنے والی ہر قسم کی امداد بھی بند کی ہے۔ گزشتہ برس کے دوران افغان طالبان کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی معاونت کی وجہ سے صدر ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے۔ لیکن ان کی حکومت نے دہشت گردوں سے پاکستان کے تعلق کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا ہے۔ ۔ اگر پاکستان، طالبان کو براہ راست امریکہ سے مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کامیاب نہ ہوتا تو ٹرمپ کی حکمت عملی کے تحت امریکہ پاکستان کے بارے میں بھی ویسا ہی جارحانہ اور جنگ جویانہ رویہ اختیار کرسکتا تھا جو اس وقت ایران کے خلاف دیکھنے میں آرہا ہے۔ پاکستانی لیڈروں کو سوچنا چاہئے کہ کیا انہوں نے ایسی کسی انہونی کے لئے تیاری کی ہے؟

موجودہ عالمی منظر نامہ میں یہ تاثر درست نہیں ہوگا کہ چین کی دوستی پاکستان کی حفاظت کا مضبوط سہارا ہے۔ یا امریکہ جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے براہ راست پاکستان کو نشانے پر لینے کا حوصلہ نہیں کرے گا۔ امریکہ اگر کسی وجہ سے پاکستان پر براہ راست حملہ کرنے سے گریز بھی کرے تو بھی بھارت اور اسرائیل کی صورت میں اس کے ہاتھ میں دو زہریلے ہتھیار موجود ہیں جنہیں وہ کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ کرسکتا ہے۔ خاص طور سے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی نہ ملنے کی صورت میں ٹرمپ حکومت طالبان سے پہلے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرائے گی۔ یہ سوچنا بے حد اہم ہے کہ کیا پاکستان اس قسم کے الزام اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی امریکی جارحیت سے نمٹنے کے لئے تیار ہے؟

صدر ٹرمپ نے جس طرح شمالی کوریا کو دشمن سے دوست بنایا ہے اور ایک عالمی معاہدہ کا حصہ ہونے کے باوجود ایران کو تنہا کرنے، اقتصادی لحاظ سے تباہ کرنے اور اب عسکری دباؤ میں لانے کی جس پالیسی کا مظاہرہ کیا ہے ، اس کی روشنی میں پاکستانی حکومت اور عوام کو ہر انہونی کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ جنگی حالات میں بھارت جیسے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کو پاک فوج سے محبت پر تیا رکرنا، قومی وقار اور صلاحیت کے نغمے الاپنا اور فوجی ترجمان سے ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے کا اعلان کروانا ، اپنی جگہ پر درست طریقہ ہوسکتا ہے لیکن کیا یہ حکمت عملی واقعی دنیا کی سپر پاور کی ناراضگی کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ یا حکومتی و عسکری قیادت کی کسی بھی سطح پر یہ سوچنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جو کارروائی ٹرمپ کی حجت پر امریکہ ، ایران کے خلاف کرنا چاہتا ہے، کیا ذرا مختلف حالات میں اس غصہ و عتاب کا نشانہ پاکستان نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کو آئی ایم ایف سے لے کر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور اقوام متحدہ و دیگر عالمی اداروں میں امریکہ کی مزاحمت اور مخالفت کا سامنا ہے۔ یہ تبدیلی گزشتہ چند برسوں میں بتدریج واقع ہوئی ہے۔ لیکن پاکستانی قیادت نے کبھی اس امکان پر غور نہیں کیا کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی کوئی دوری اس کے لئے کن مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔اب جبکہ جنگ اس کے ہمسایہ ملک ایران کے دہانے تک پہنچ چکی ہے تو اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس سے بچنے کی تدبیر کرنے کا وقت آگیا ہے۔

پاکستان کو فروری میں پلوامہ سانحہ کے بعد جن حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اسے صرف مودی فیکٹر قرار دے کر نظرانداز کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ اس کے بعد بلوچستان میں یکے بعد دیگرے دہشت گرد حملے اور سی پیک کے حوالے سے امریکی اور بھارتی مہم جوئی ، ان چند عوامل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان امریکہ کو اپنے راستے کا پتھر سمجھ سکتا ہے۔ پاکستان ہر اندرونی اور بیرونی خطرے کا مقابلہ کرنے کا حل مضبوط فوج اور اپنی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو سمجھتا ہے۔ ملک میں فوجی حکومت نہ بھی ہو تو بھی دنیا کے سب دارالحکومت یہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ معاملہ کرنے کے لئے جی ایچ کیو کو راضی کرنا ضروری ہے۔ گویا ملک کی منتخب پارلیمنٹ کی حیثیت کسی کورے کاغذ پر ربر اسٹیمپ جتنی بھی نہیں ہے۔ یہی حال ملک کے منتخب وزیر اعظم کے اختیار اور سفارتی حیثیت کا بھی ہے۔

واضح ہونا چاہئے کہ امریکہ اگر پاکستان کے خلاف جارحیت پر اترتا ہے خواہ اس کی کوئی بھی نوعیت ہو تو پاکستان اس کا مقابلہ عسکری صلاحیت کی وجہ سے نہیں بلکہ ماہرانہ سفارت کاری اور منتخب پارلیمنٹ کی قوت کی بنیاد پر ہی کرسکتا ہے۔ پاکستانی قیادت کو امریکی خطرے کو حقیقی سمجھتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے ایٹم بم اس حوالے سے پاکستان کی حفاظت کی بجائے اس کے لئے مشکل پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ جوہری صلاحیت کوئی جنگ جیتنے یا کسی مخالف قوت کا مقابلہ کرنے کے لئے استعمال کرنا محال ہے۔ امریکہ پہلے بھی پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ اندیشہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ یہ کسی وقت بھی دہشت گردوں کے قبضے میں جاسکتے ہیں۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ جس طرح جوہری معاہدہ ختم کیا ہے ،اس کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ امریکہ کسی بھی وقت پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں اپنی پالیسی میں تبدیلی کرلے۔

کوئی بھی ایسا ملک ان حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتا جہاں جمہوری ادارے کمزور اور بے وقعت بنادیے گئے ہوں اور وزیر اعظم عسکری اداروں کے ترجمان سے بھی کم تر پوزیشن پر فائز ہو۔ امریکی دباؤ کا سامنا کرنے، بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے اور دنیا میں وقار بحال کرنے کے لئے مختصراً یہی کہا جاسکتا ہے کہ جتنی جلدی ملک کے وزیر اعظم کو سیاسی و انتظامی ’حبس بے جا ‘ سے آزاد کیا جائے اتنا ہی ملک و قوم کے لئے بہتر ہوگا۔

اس وقت فوج نہیں، باتدبیر اور طاقت ور جمہوری لیڈر ہی قومی سلامتی اور یک جہتی کا ضامن ہو سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali