وسی بابا کون ہے؟


\"husnainہم سب پر لکھنا شروع کیا تو کسی سے جان پہچان نہیں تھی۔ وجاہت بھائی سے یاد اللہ پرانی تھی، انہوں نے دنیا پاکستان شروع کیا تو دعوت دے دی کہ بھئی آئیے، لکھیے، جو دل کہے لکھیے، پابندی کوئی نہیں ہے، اس طرح باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا۔ پہلے کہانیاں، افسانے اور کچھ پرانی دلی کے بارے میں تحریریں سرزد ہوتی تھیں، کبھی مہینے بعد لکھ لیا، کبھی دو ماہ بعد، تو بس سلسلہ ٹوٹا پھوٹا چلتا رہتا تھا۔ یہاں آ کر باقاعدگی نصیب ہوئی اور معلوم ہوا کہ استاد، اپنے علاوہ دنیا میں ایک سے ایک لکھنے والا موجود ہے اور وہ زندہ بھی ہے، اور اپنی ہی عمر کا ہے، تو یہ آنکھیں کھول دینے والا ایک انکشاف تھا، کنوئیں میں رہنے والے مینڈک کے لیے، جس نے کافی کچھ سکھایا۔

سب سے دل چسپ چیز جو یہاں آ کر ہوئی وہ وسی بابا ہے۔ بابا واحد انسان ہے جس سے گفتگو پہلے دن سے آج تک تو تڑاک میں ہوتی ہے، وہ آپ جناب والا بندہ ہی نہیں ہے۔ تو اسے اس تحریر میں رسمی ادب آداب کے ساتھ یاد نہیں کیا جائے گا۔ بابا ایک خودساختہ بلکہ خودکار سپلٹ پرسنالٹی کا شکار آدمی ہے۔ اس کا اصل نام سمجھ لیجیے شفقت الہی ہے۔ چوں کہ بابا اپنا اصل نام کم کم ظاہر کرتا ہے اس لیے وہ شفقت الہی ہے۔ تو شفقت الہی اور وسی بابا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ آپ اس سے فون پر بات کریں گے تو اس کی ڈکشن بالکل مختلف ہو گی۔ باتیں بھی سلجھی ہوئی ہوں گی اور لگے گا کہ شفقت الہی کوئی انتہائی برخوردار اور سلجھا ہوا انسان ہے۔ پھر آپ میسج میسج کھیلنا شروع کریں گے یا ان باکس میں بات چیت کریں گے تو بابا ایک ایسا مکسچر پینڈو نظر آئے گا جو پنجاب، پوٹھوہار، سرحد اور علاقہ غیر کے دیہاتوں کا عجیب و غریب جم پل ہے۔ پینڈو کا لفظ تحقیر کے لیے نہیں پیار جتانے کو استعمال کیا ہے، تمام پینڈوؤں کو خبر ہو کہ سب سے بڑا پینڈو یہ تحریر لکھ رہا ہے جو ملتان شریف کا پینڈو ہے۔ بابے کی کوئی مکمل تعریف نہیں ہو سکتی۔ کوئی ڈیفی نیشن ممکن نہیں۔ شروع میں آپ اسے اجڈ جانتے ہیں، پھر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بے تکلف ہے، ایک دن اچانک سمجھ آتی ہے کہ یار سمجھ ہی نہیں آئی، بابا بس یار ہے، دوست ہے، لیکن پتہ نہیں کیا ہے۔ بابے کو جاننے کے لیے آپ کو اس کی زبان سمجھنی پڑے گی۔ اس کی تحریر یا بات چیت میں جملوں کی ترتیب خود سے کھسکانی پڑے گی، کچھ آگے ہو گا، کچھ پیچھے ہو گا اور پھر آپ کو وسی بابا سمجھ میں آ جائے گا، لیکن پھر اس کی تحریر یا بات کا مزہ غارت ہو جائے گا۔ بابا کہتا ہے وہ کچن کمانڈر کے رعب میں رہتا ہے اور ان سے بہت ڈرتا ہے۔ کچن کمانڈر وہ اپنی اہلیہ کو کہتا ہے، کبھی کبھار ایک اور خطاب بھی دیتا ہے لیکن وہ ذاتی سا ہے۔ تو کچن کمانڈر کا ڈر دکھا کر وہ کسی بھی وقت کسی کو بھی انکار کر سکتا ہے کسی بھی کام کے لیے، اور یہ وسی بابے کی طبیعت کا حصہ ہے۔ بابے کو آپ چار ہفتے پہلے فون کر کے پروگرام بنا لیجیے، کسی بھی قسم کا، بابا چار منٹ پہلے فون کر کے بتائے گا کہ یار کچن کمانڈر نے حکم دیا ہے تو وہ کہیں نہیں جائے گا اور اب وسی بابا مجبور ہے، اس کا انکار سمجھ۔

لو جی بابے کا انکار قبول کریں یا نہ کریں، بابے نے یس کرا دی ہے آپ کو۔ اس نے زندگی میں کئی کام کیے، اتنے مختلف نوعیت کے کام کہ \"wisiآپ کا دماغ بھی تصور نہیں کر سکتا، لیکن چوں کہ بابا ایک پراسرار انسان ہے اس لیے آپ کو ان کاموں کے بارے میں بھی وہ خود ہی بتائے گا، بس یوں سمجھیے کہ شفقت الہی دودھ مکھن بیچنے سے لے کر ویب سائیٹ مینیجمنٹ تک ہر قسم کے کاموں میں ہاتھ ڈال چکا ہے اور اکثر ناکامی نے اس کے قدم چٹاک پٹاک چومے ہیں۔ لکھنے میں بابا کامیاب نظر آتا ہے لیکن دیکھیے کب تک، موڈی آدمی ہے۔ بابے کی اکثر تحریروں کی تہہ میں ایک بات ہوتی ہے جو بقول ڈار صاحب، اصل میں ساری بات ہوتی ہے، لیکن اس بات کا علم صرف بابے کو ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسی کو رہے۔ اکثر تحریروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ گائے بھینسوں اور بکریوں کا ذکر کرتا ہے۔ اسے گائے بہت پسند ہے اور وہ باقاعدہ طور پر گائے کا عاشق ہے۔ بعض اوقات جنہیں ہم گائے بھینس یا کوئی اور کردار سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ ایسے نہیں ہوتے۔ بابا ان باکس آ کر بتاتا ہے کہ اوئے، تو نے نوٹ کیا کہ اس کالم میں میں نے فلاں ادارے کو کیسے کھڑکا دیا، عرض کرتے ہیں کہ یا شفقت الہی، یہ تو جانوروں کا ذکر ہے، جواب آتا ہے، اوئے نہیں، تجھے پتہ ہی نہیں، یہ اصل میں ایسے ہے، اور پھر بابا ایک لمبی کہانی سناتا ہے جس کے بعد ہم اس کالم کی تشریح کرنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن سرے پھر بھی نہیں جڑتے اور یوں بابا سٹوری چھپانے کے چکر میں پورا کالم لکھ جاتا ہے۔

بابا کہتا ہے کہ وہ پینتالیس پچاس سال کا نوجوان ہے، ہو گا، لگتا نہیں ہے۔ اس کی آنکھیں باقاعدہ طور پر کسی تیرہ چودہ سالہ فل ٹائم شرارتی بچے کی آنکھیں لگتی ہیں اور وہ ہے بھی۔ شرارتی لکھنا بابے کو انڈر ایسٹیمیٹ کرنے والی بات ہے۔ اس کی تعریف ان تمام الفاظ سے ہو سکتی ہے جو ہماری پیاری زبان پنجابی میں فتنے بچوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے ایک کا الف ہٹا دیں تو جو لفظ نکلے گا وہ بابا کی آنکھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ہو گا۔ ڈاڑھی کے بال سفید ہیں اور کافی ہیں اس لیے اکثر رگڑ کر شیو بناتا ہے۔ سر کے بال پورے ہیں، کالے تو کرتا ہو گا، پوچھا کبھی نہیں۔ قد کاٹھ کا اچھا ہے، پھیلاؤ تھوڑا زیادہ ہے لیکن اس کی بات نہ کیجیے وہ اسے جچتا ہے صاحب۔ شلوار قمیص میں نظر آتا ہے اور اکثر گہرے رنگوں کا سوٹ پہنتا ہے، وجہ اسے معلوم ہو گی۔

بابے میں ایک عدد ایسی خاتون پائی جاتی ہیں جیسی اکثر خاندانوں میں ہوتی ہیں اور جو سب کے سارے اگلوں پچھلوں کو جانتی ہوتی ہیں۔ دنیا بابے کے لیے بہت چھوٹی ہے، اتنی چھوٹی کہ ہم دونوں کی رشتہ داری بھی بابا دریافت کر چکا ہے۔ اگرچہ ہم سولہ کلومیٹر دور کے رشتہ دار ہیں لیکن ہیں اور واقعی ہیں۔ کیسے ہیں، یہ بابا جانتا ہے۔ ثابت بہرحال ہو چکا ہے۔

بابا کسی کو اس کے سیدھے نام سے نہیں پکار سکتا۔ فقیر کبھی لینن کہلایا جاتا ہے اور کبھی ڈبل حسین۔ حسنین جمال، پورا نام، حرام ہے جو بابے کی زبان پر آیا ہو۔ یہ عین ویسے ہی ہے جیسے ایک دوست نجف خان ہے۔ وہ جب بھی بلاتا نام سے نہیں پکارتا تھا، مولے ادھر آ یا اوئے ادھر آ کہہ کر بلاتا تھا، لیکن واش روم میں ہوتا تھا تو پورا نام زیر زبر کے ساتھ پکار کر آواز دیتا تھا کہ حسنین جمال، پانی کی موٹر کھول دے، یا فلاں کام کر دے۔ اور حسنین جمال دو موٹی موٹی گالیاں دے کر کہتا تھا کہ وہاں بیٹھ کر میرا پورا نام نہ لیا کر خانا!

باقی جتنے دوست یہاں مستقل لکھتے ہیں ان سب کا کوئی نہ کوئی نام بابا رکھے بیٹھا ہے۔ ایک دو کے نام تو اس طرح بگاڑے ہیں کہ شدید ترین سنجیدہ صورت حال میں بھی اب انہیں اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ بابے کا رنگ کیسا چوکھا ہے، یہاں سے اندازہ کر لیجیے کہ وجاہت بھائی بھی بابے کے آگے ہار جاتے ہیں، اس سے اسی کی لغت میں بات کرتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔

بابے سے اب تک آمنے سامنے کی صرف ایک ملاقات ہے، اور وہ عمر بھر چلی جاتی ہے۔ وسی بابا ایک کردار نہیں ہے، پوری فلم ہے۔ خدا اس فلم کو ایسا طویل اور دلچسپ بنائے کہ دیکھنے والے اور اس کے تمام اداکار ہمیشہ خوش خوشحال اور ہنستے بستے رہیں۔

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain

4 thoughts on “وسی بابا کون ہے؟

  • 20/08/2016 at 5:08 شام
    Permalink

    hahahhaha. kamal likha hai. lekin Wasi Baba hamyn ap k article ka intizar rahy ga. ap ka article bharpoor hoga. yehe umeed ki ja skti h

  • 20/08/2016 at 5:53 شام
    Permalink

    کتنی عجیب بات ہے کہ آپ نے جس شخصیت سے متعلق یہ تحریر لکھی ان کے نام ہی کے درست ہجے نہیں لکھے۔ لیکن جتنی بار بھی آپ کے کالم میں ان کا نام آیا ہے وصی کو وسی ہی لکھا گیا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ یہ غلطی غیر شعوری ہے یا شعوری۔ یہ ابہام دور کر دیجئے ورنہ دماغ میں تجسس کےکیڑے کی کھجاوٹ رہےگی۔

  • 20/08/2016 at 7:51 شام
    Permalink

    وسی بابا میرے پسندیدہ لکھاریوں میں سے ہیں.حسنین جمال صاحب نے وسی بابا کا خاکہ خوب لکھا ہے اور یہ جملہ تو کمال کا ہے
    "بابے میں ایک عدد ایسی خاتون پائی جاتی ہیں جیسی اکثر خاندانوں میں ہوتی ہیں اور جو سب کے سارے اگلوں پچھلوں کو جانتی ہوتی ہیں”-

  • 20/08/2016 at 7:57 شام
    Permalink

    وصی بابا میرے پسندیدہ لکھایوں میں ہیں.حسنین جمال نے انک” خاکہ”خوب لکھا ہےاور یہ جملہ تو کمال کا ہے
    "بابے میں ایک عدد ایسی خاتون پائی جاتی ہیں جیسی اکثر خاندانوں میں ہوتی ہیں اور جو سب کے سارے اگلوں پچھلوں کو جانتی ہوتی ہیں”.

Comments are closed.