لوگ سڑکوں پر کیوں نہیں آئیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیصل واڈا نے جب یہ کہا کہ لوگ پٹرول دو سو روپے لیٹر بھی خریدیں گے تو وہ شاید یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ عمران خان کی محبت میں لوگ اتنا مہنگا پٹرول بھی خریدیں گے اور اف تک بھی نہیں کریں گے لیکن وہ نادانستہ طور پر قوم کو ایک بہت بڑا طعنہ دے گئے کہ لوگ مہنگائی کے جوتے کھاتے رہیں گے، روتے رہیں گے، کوسنے دیتے رہیں گے، رشوت اور چور بازاری بڑھا دیں گے، ایک دوسرے کی کھال اتارنا شروع کر دیں گے لیکن باہر نہیں نکلیں گے اور انجانے میں فیصل واڈا بہت شرمناک حقیقت سے پردہ اٹھا گئے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی ذلت اور مجبوری کیوں برداشت کرتے ہیں ہم لوگ؟ اس کی بہت سے نفسیاتی اور سماجی وجوہات ہیں جو فیصل کے پیش نظر یقیناً نہیں ہونگی۔

یونگ کی نفسیات میں ایک اصطلاح ہے، اجتماعی لاشعور، جس کے مطابق ہمارے آبا و اجداد کے تجربات ہمارے لاشعور میں کہیں پوشیدہ ہوتے ہیں اور ہمارے بظاہر شعوری رویوں کو تحریک دیتے ہیں۔ ایک شیر خوار بچہ اونچی جگہ پر بیٹھنے سے ڈرتا ہے حالانکہ وہ اس کی کوئی منطق نہیں جانتا۔ یہ اجتماعی لاشعور جانوروں میں بھی ہے اسی لئے ایک طاقتور گھوڑا دریا اور پہاڑ عبور کرنے کے بعد ایک کمزور سے پل کو پار کرنے سے گھبرانے لگتا ہے۔ ایک ایسے کمزور پل پر جہاں وہ کبھی گیا ہی نہیں ہوتا ہے۔ یہ خوف اس کے اجتماعی لاشعور کا حصہ ہے جو کبھی اس کے آباؤ اجداد نے سہا ہے۔

اس پوری رام کتھا سے خدارا یہ نتیجہ نہ نکال لیجئے گا کہ ہمارے اور گھوڑوں کے آباؤ اجداد بھائی بھائی تھے۔ برصغیر کے لوگوں نے آ ریاؤں، ایرانیوں، عربوں، ترکوں، سلجوقوں، مغلوں اور انگریزوں کے مظالم کو سہا ہے۔ طاقتور کے سامنے کبھی اجتماعی بغاوت نہیں کی اور اگر کسی نے اپنے راجواڑوں، ریاست یا حکمرانی بچانے کے لئے جدو جہد کی بھی تو بیچ سے ہی ایسے غدار مل گئے جنہوں نے ذاتی رنجش اور منفعت پر ایک غیر قوم کی غلامی کو ترجیح دی مثلاً میر جعفر کی سراج الدولہ کے ساتھ ذاتی مخاصمت تھی جس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا راستہ ہموار کیا۔

حریت اور آزادی کی چند انفرادی مثالیں ضرور مل جائیں گی لیکن جہاں کہیں گروپس کی جدو جہد دیکھیں گے وہاں راجوں مہاراجوں کا ذاتی مفاد نظر آ ہے گا۔ ایک سرائیکی لطیفہ ہے کہ زمیندار نے مزارے کو مارا پیٹا اور کہا کہ جاؤ اس خشک کھالے میں کھڑے ہو جاؤ تو مزارعہ نے پوچھا، ” سئیں اگر پانی آ ئے تو کھڑے رہیں یا رڑ روڑ (بہہ) جائیں “۔

طاقتور کا حق ہے کہ ہم پر مظالم ڈھائے اور ہمارا فرض ہے کہ بس ” نیویں پا کے وقت نوں دھکا لائی جاؤ” ( سر جھکا کر زندگی گذارتے جاؤ). آج نواز شریف یا زرداری بھی سڑکوں پر آنے کی باتیں کرتے ہیں تو مخلوق کے لئے حشر اٹھانے نہیں آ رہے اپنے راجواڑے اور پچھواڑے ( جو کچھ ماضی میں کیا ہے) بچانے آ رہے ہیں۔ آپ مجھے بتائیے یہی زرداری ہے جس نے رضا ربانی کو کھڈے لائین لگا کر کسی کی مرضی کا چیئرمین سینیٹ لگوایا اور وزارت عظمیٰ کے لئے ووٹ سنبھال کر رکھ لیا تاکہ خان صاحب کو مشکل ہی پیش نہ آ ئے۔ اب خوامخواہ نیاز نہیں بٹنے لگی۔

یہ اور بات ہے کہ نواز شریف اور زرداری کو وچ ہنٹ کیا جا رہا ہے اور مقصد صرف مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہیں کیونکہ اربوں ڈالرز کی مبینہ منی لانڈرنگ میں سے اب تک حکومت کے بسکٹوں کے پیسے بھی پورے نہیں ہوئے۔ نواز اور زرداری مل کر بھی تحریک نہیں چلا سکتے کیونکہ عوام کے مسائل پر اکٹھے نہیں ہو رہے اور اخلاقی بنیادوں پر بہت کمزور ہیں۔ پنجاب میں جیالا بھاگ گیا یا سو گیا ہے اور سندھ میں جیالے سائیں کی چوکھٹ پر تو بیٹھ سکتے ہیں، مار تو کھا سکتے ہیں لیکن پردیسی نہیں بن سکتے ( پردیسی بننے کے لئے اسلام آباد تک مارچ کرنا ہو گا) اور دوسری طرف تو ویسے ہی اک طرفہ تماشا چل رہا ہے اور وہ ہے نواز شریف کا پیچیدہ سا بیانیہ کہ ادارے اپنی حدود میں رہیں۔

اصولی طور پر تو یہ درست ہے لیکن عوام سمجھتے ہیں کہ نواز شریف آئندہ نکالے جانا نہیں چاہتے۔ اگر عوام کی محبت سے معمور ہوتے تو ڈالر بڑھنے پر، مہنگائی ہونے پر اپوزیشن لیڈر پراسرار سی خاموشی اختیار کرتے؟ جب تک آپ خود کو عوام کے مسائل سے نہیں جوڑیں گے کوئی آپ کے لئے باہر نہیں آ ئے گا۔ ذرا خان صاحب کو اپوزیشن میں آنے دیں پھر دیکھتے کتنے لاک ڈاؤن کرواتے ہیں۔ وہ بھی اپوزیشن کو چور چور کہتے اور معاشی بوجھ عوام پر ڈالتے نہیں تھک رہے۔ قوم ان سے دس مہنیوں میں بہرحال تھک گئی ہے اور اس کا اظہار آپ کو خان صاحب کی پرانے فاٹا کے لئے چار سیٹوں والی چالاکی کی صورت میں نظر آ جائے گا جہاں بلدیاتی الیکشن موخر کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن سینیٹ سے چار سیٹیں بڑھانے کا بل منظور نہ ہونے کی صورت میں منہ کہ کھانی پڑے گی۔ الیکشن چھ مہینے کے لئے موخر کرنا اس لئے ضروری ہے کہ سو ارب کا وعدہ کر کے بیس ارب بھی نہیں دیے۔

ایک اور وجہ جو فیصل واڈا کی انجانے میں بیان کی گئی سچائی کی غماز ہے وہ ہے طبقاتی تقسیم جو حکمرانوں کےبہت کام آتی ہے۔ سفید پوش یعنی مڈل کلاس طبقہ خود ترحمی کا شکار بھی رہتا ہے اور اچھا وقت آنے کا منتظر بھی۔ بس اسی اچھے وقت کے انتظار میں مہنگائی کی مار کھاتا چکا جاتا ہے جبکہ مفلوک الحال ہر معاشی ظلم کو مشیت ایزدی سمجھ کر گھسٹتے رہتے ہیں۔ ان کے لئے مولانا طارق جمیل کے بیان و حور و قصور دنیا میں معاشی غم کا مداوا بن جاتی ہیں اور یہاں کی محرومی اگلے جہان میں عیش و عشرت کا سامان بن جاتی ہے۔ سوچتے ہیں یہاں کی حوروں سے بھی خلد میں انتقام لیں گے اگر قسمت سے یہ وہاں مل گئیں۔

بالائی طبقہ تو ویسے ہی دھوپ میں نکلنے سے گھبراتا ہے کہ جلد خراب ہو جاتی ہے۔ گو کہ عوام جلد سڑکوں پر نہیں آتے کیونکہ وہ زیادہ بڑا ظم دیکھ کر ارسطو کے نظریہ ٹریجڈی کے مطابق کتھارسس کر لیتے ہیں۔ جب ہزارہ کمیونٹی ان کے سامنے لاشیں زمیں پر رکھ کے انصاف کی طلبگار ہو گی، سانحہ ساہیوال کے لواحقین جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے دھرنے دیں گے، عاصمہ کو سات ہزار روپے کے لئے ذلت اور موت قبول کرنی پڑے گی، شاہ رخ جتوئی جیسے غنڈے دیت کے نام پر پیسہ پھینک کر وکٹری کا نشان بنائیں گے، لوگ تین تین مہینے کی تنخواہوں کے لئے ہڑتالیں کریں گے، ڈاکٹرز اپنے حق کے لئے ڈنڈے کھائیں گے تو پٹرول کی قیمت بڑھنے پر کون اٹھے گا یا ڈالر کے بڑھنے پر کون گریبان پکڑے گا؟

یہاں تو ایک ساڑھے چار فٹ کا فرعون ڈیم کے نام پر پوری قوم کو بیوقوف بنا کر، گردے اور جگر کے ہسپتال کو تباہ کر کے، سستی شہرت کے لئے ہر طرح کا شغل لگا کے چلا گیا لیکن مجال ہے میڈیا سمیت کسی طبقہ کو ملال ہوا ہو۔ بس اسی بات کے پیش نظر فیصل واڈا نے درست کہا تھا کہ لوگ دو سو روپے لیٹر بھی پٹرول خریدیں گے۔ سڑکوں پر نہیں آ ئیں گے لیکن ایک بات طے ہے ووٹ دینے کا وقت آ ئے گا تو بیلٹ سے فیصلہ کریں گے۔ یہ اور بات ہے کہ آر ٹی ایس سسٹم کبھی بھی بیٹھ سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •