پاکستان میں ملی نغموں کی سیاست


\"Monaپاکستانی میڈیا کے پاس 69 برس کے تاریخی سفر کے دوران ہر اعصاب شکن واقعے اور ریاستی اداروں کی ناکامی کے بعد ملی نغموں کا ایک خزانہ موجود ہے۔ اس خزانے میں تازہ ترین اضافہ مشہور پروگرام کوک سٹوڈیو کی جانب سے کیا گیا ہے جو موسیقی اور جزبہ حب الوطنی کے بیچ پیچیدہ مگر خوبصورت رشتہ پیدا کر رہا ہے۔

لوگ ایسے ملی نغموں کو سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں، رونگٹے کھڑے کر دینے والے احساسات کی تحسین حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ہو کر کرتے ہیں۔ مگر پاکستانی جزبہ حب الوطنی، جسے زیادہ تر ہمارے میڈیا کے ذریعے جگایا جاتا ہے، نتیجہ خیز بحث و مباحثہ کے لئے روک کا کام کرتا ہے۔ پاکستان اپنی ناقص طور پر تشکیل دی گئی پالیسیوں اور میڈیا کے زہریلی اور اندھی قومیت پرستی کو مسلسل بڑھاوا دینے کے کردار کے جنجال میں الجھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے لئے کوک سٹوڈیو کے اس ملی نغمے کو سننا ایسا ہی ہے کہ میں ہیرا پھیری اور جذباتی خطابت کو موسیقی کے بہانے سن رہی ہوں۔

آرمی پبلک اسکول میں دہشتگردی کے واقعے کے  بعد ہم نے دیکھا کہ ایسے ہی ملی نغمے پاکستانی میڈیا چینلوں پر مسلسل چلوائے گئے اور ان معصوم بچوں کو زبردستی شہید قرار دے کر ہم نے ان گانوں کے ذریعے اس المناک نقصان پر کسی بھی قسم کے بحث و مباحثے کا باب بند کر دیا۔ مذہبی علامتوں کا برمحل استعمال کسی بھی قسم کے اختلاف، تنقید و تنقیص بلکہ زیادہ اہم یہ کہ سوال اور جرح کرتی آوازوں کو خاموش کرنے کے کام آتا ہے۔

مجھے ذاتی طور پر کسی کے بچوں، مردوں اور عورتوں کو خطابات دینے پر سخت اعتراض ہے در حالانکہ وہ انہیں اپنی ذات کے لئے حاصل کرنا ہی نہ چاہتے ہوں۔ (کتنے ہم میں سے اسکول، دفاتر و بازاروں میں شہید ہونے جاتے ہیں؟)

ہم ان بچوں، مردوں اور عورتوں کی تشہیر اور ناموری میں اپنی شرمندگی اور خفت کو ان خود ساختہ ملی نغموں سے چھپاتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ملی نغمے ان المیوں سے لگے دلدوز زخموں پر مرہم کا کام دیں گے۔ کیا فریب دینے سے درد کم ہوجاتا ہے؟ کیا خوشنما نغمے ایسا کرنے پر قادر ہیں؟

ایک تعمیری اور ایماندارانہ بحث، کمیشن، ذمہ داروں کا تعین، احتساب کے سوالات اور تعین و تخمینہ کے مواقعے سب خوشنما ملی نغموں کے فریب لاحاصل میں کھو جاتے ہیں اور ہم ان سے لطف اٹھاتے ہوئے اسی تاریخ کے مقام میں دوبارہ کھو جاتے ہیں۔

__________________

یہ مضمون پشتون ٹائمز پر شایع ہوا اور ہم سب کے لئے ملک عمید نے ترجمہ کیا۔

Facebook Comments HS