ہمارا ٹیلنٹ کدھر گیا؟


\"zeffer05\"ممبئے سے ہمارے دوست ہیں بھائی سرفراز فیضی؛ پوچھنے لگے، \’پاکستان میں اتنا ٹیلنٹ ہے، پر یہ ٹیلنٹ ان کی فلموں میں‌ کیوں نہیں دِکھتا؟۔۔ کچھ ایسی فلمیں، جو آپ کے حساب سے پاکستان کے ٹیلنٹ کی نمایندگی کرتی ہوں؟\’ مزید کہا، کہ \’یو ٹیوب پہ ایک پاکستانی فلم دیکھی؛ دیکھنے کے بعد پتا چلا کہ ایکٹنگ، ڈائریکشن، اسکرپٹ ہر چیز میں ہندستان کی نقالی ہے وہ بھی بھونڈی۔\’۔۔۔ سرفراز فیضی نے اپنی حسرت کا اظہار یوں کیا، \’اصل میں پاکستان دیکھنے کی بہت شدید خواہش ہے۔ وہ تو پوری ہونی ممکن نہیں دکھتی۔ سوچا فلموں میں ہی دیکھ لوں۔\’

سرفراز فیضی مکتبہ دیوبند کے علما کی نمایندگی کرتے ہیں؛ میرا ایک پاکستانی ہونے کے ناتے سے اچنبھا ہونا فطری تھا، کہ یہاں اکثر علمائے دین زاہدِ خشک کی مثال ہیں۔ اس موضوع سے اجتناب کرتے ہم آگے بڑھتے ہیں۔ میں نے انھیں جواب دیا، بھائی فیضی، اس سوال کا جواب سیدھا سادہ تو ہے، نہیں؛ بہ ہر حال اختصار سے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ٹیلنٹ برصغیر پاک و ہند میں ایک جیسا ہے؛ لتا ہیں، تو نور جہاں بھی ہیں؛ راجیش کھنا ہیں، تو وحید مراد بھی ہیں؛ رفیع ہیں، تو اخلاق احمد ہیں، مہدی حسن ہیں۔ وہاں ٹنڈولکر ہیں، تو یہاں وسیم اکرم ہیں؛ اسی طرح ہر شعبے سے مثال دی جا سکتی ہے۔

چوں کہ سوال پاکستانی فلم کے حوالے سے ہے، تو میں محدود رہ کر جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔ فرق ہے، تو بڑی اور چھوٹی مارکِٹ کا۔۔۔۔ پینسٹھ کی جنگ کے بعد، پاکستان نے دو قومی نظریہ کا سہارا لیتے ہوئے ہندستانی فلم کی نمایش پر پابندی لگا دی۔ ہندستان نے جواباً پاکستانی فلم کی نمایش پر پابندی عائد کر دی۔ اب پاکستانی فلم کی منڈی سکڑ کر مشرقی اور مغربی پاکستان کے نمایاں شہر رہ گئے۔ بنگلا دیش کا بننا ہماری اردو فلم کے لیے دوسرا جھٹکا ثابت ہوا۔ یاد کیجیے تو ڈھاکا میں بننے والی اردو زبان کی کئی یادگار فلمیں ہیں۔ اب اردو فلم کے لیے لاہور، کراچی کا بڑا سرکٹ، اور باقی چھوٹے چھوٹے اسٹیشن رہ گئے۔ اردو فلم کے خاتمے کی نوبت بج چکی تھی۔

پنجابی اور پشتو زبان میں پہلے سے فلمیں بنتی تھیں، \’سرکٹ\’ کے اس خلا کو پنجابی زبان کی فلموں نے پر کیا۔ ستم یہ ہوا، کہ یہ پنجابی فلموں کا وہ دور تھا، جب بشیرا اور مولا جٹ جیسی مار دھاڑ والی فلمیں سپر ہٹ ہوئیں، مستثنیات کو چھوڑ کر پنجابی فلموں کے پروڈیوسر انھی فلموں کی نقالی کرتے چلے گئے۔ یہ فلمیں خواتین کے مزاج سے مطابقت نہ رکھتیں تھیں۔ یوں سینما ہال عورتوں سے خالی ہونے لگے۔ مغربی پاکستان کے پاس جو فلم بین بچے تھے، ان میں سے بھی \’نصف\’ کو کھو دیا۔ اس نصف کو وی سی آر کا سہارا ہوا؛ ہم نے سامنے کا دروازہ بند کر کے، پچھلے دروازے سے مال لانا شروع کر دیا۔ ریاست یہ کہے، وہ اس واردات سے بے خبر رہی، تو یہ جھوٹ ہے۔ اسمگلنگ کے مال پہ محصول کیا ملنا تھا، سفید ہاتھی ہی پلے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کو پڑھے لکھے افراد کی ضرورت تھی، تو مارکیٹنگ کے شعبے میں۔۔۔ کوئی ایسا ہوتا، جو نئی منڈیاں تلاش کرتا؛ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ یہاں پھر ریاست کو کچھ نہ کچھ دوش دوں گا، انڈسٹری کی بحالی کے لیے کوئی پالیسی نہ بنائی گئی۔ جب کہ ہندستان نے اسی کی دہائی میں مشرق وسطیٰ، اور نوے کی دہائی میں امریکا اور یوروپ میں نئی منڈیاں تلاش کیں۔ ریاست ہندستان فلم بنانے کے لیے قرض فراہم کرتی آئی، حتا کہ فلم انشورنس ہو جاتی ہے۔ نوے کی دہائی وہ دہائی تھی، جب ہندستانی فلم کا بجٹ بڑھتا چلا گیا، اور پاکستانی فلم ماضی کا حصہ بن گئی۔۔۔ اب پاکستانی فلم کا نیا دور ہے؛ کچھ ٹیلے ویژن پروڈیوسرز فلم بنانے لگے ہیں. ٹیلے ویژن اسکرین، اور سینما کے پردے کی مثال زمیں اور آسمان کی سی ہے؛ سینما ہال میں لوگ پیسا خرچ کر کے آتے ہیں؛ انھیں لگے کہ پیسا وصول نہیں ہوا، تو وہ روٹھ جاتے ہیں؛ ٹیلے ویژن مفت کا مال ہے، مفت میں لوگ کچھ بھی ہضم کر لیتے ہیں۔ مجھے امید ہے، کہ دھیرے دھیرے ٹیلے ویژن والے فلم بنانا سیکھ جائیں گے۔ ابھی یہ فلمیں کم بجٹ کی ہیں؛ تقریبا چار پانچ کروڑ کی فلم جو کراچی لاہور اور اسلام آباد / راول پنڈی کے مخصوص سینما ہال میں ریلیز ہوتی ہے۔ یہ فلم، اگر اٹھارہ بیس کروڑ کا بزنس کر جاے تو پروڈیوسر خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ جب کہ ہندستانی فلم اربوں کے سرماے سے بنتی ہیں۔

بھائی سرفراز فیضی، پاکستانی فلموں میں پاکستان کیوں نہیں ہے۔۔۔ فلمی صنعت میں چربہ سازی کا رواج۔۔ ریاست کا فنون لطیفہ کے فروغ میں تعاون نہ کرنا۔۔۔ مذہبی انتہا پسندی کے فنون لطیفہ پہ اثرات۔۔۔ اس طرح کے کئی موضوعات ہیں، جن پہ مضامین لکھے جائیں، تو آپ کو اندازہ ہو، پاکستان میں کیوں کر پرفارمنگ آرٹ کے ادارے تنزلی کا شکار ہیں۔ انفرادی طور پہ تو عابدہ پروین ہوں، یا ریشماں؛ استاد غلام علی ہوں، یا نصرت فتح علی، راحت فتح علی؛ حتا کہ عدنان سمیع، عاطف اسلم ہوں؛ ہندستان کے لال قلعے پر نہ سہی، ہندستانیوں کے دِلوں پہ اپنے علم گاڑ چکے ہیں۔

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran