والد سے آخری ملاقات۔۔۔ اور شباب روٹھ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

والدین انسان کا ایسا سرمایہ ہے جس کی موجودگی میں اس کی قدر کم ہی لوگوں کو ہوتی ہے مگر جب یہ سرمایہ چھین جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اس کے پاؤں کے نچے سے زمین نکل گئی ہو۔ اگر یہ سرمایہ آپ سے بچپن میں چھین جائے تو اس وقت شایداتنا نہیں ہو مگر جوں جوں وقت گزرتا ہے آپ کو رکھ رکھ کر تکلیف دیتی ہے جب کوئی شخص اپنے بچے کو پیار کر تا ہوا دیکھیں دل ہی دل میں یہ ضرور سوچتا ہے اگر میرے بھی والدین ہوتے تو مجھے بھی ایسا ہی پیار ملتا وغیروغیرہ۔ لیکن ایک انتہائی تکلیف دہ بات یہ بھی ہے پھر انسان پر جوانی کیا لڑکپن کا بھی پتہ نہیں ہوتا ہے گویا اس سے یہ دونوں روٹھ ہی جاتے ہیں۔

کچھ ایسی ہی صورت حال سے میں گزرا ہوں اور گزر رہا ہوں آج سے ٹھیک 24 سال پہلے 17 مئی 1995 کو بدھ کا دن تھا اس گاؤں میں بکریوں کی ریوڑ چرانے کی باری ہماری تھی اور والدصاحب کا نام اس وقت کے چیرمین محمد علی (حاجی تلی) اللہ انہیں صحت و تندرستی دے نے بیت المال میں شامل کیا تھا اس کے بعد انہیں کارڈ لینے کے لئے خپلو جانا تھا سو انہوں نے وہ بکریوں کے ریوڑ میرے حوالے کر کے خود خپلو چلے گے۔ ویسے عمومی طور پر گاؤں میں ضروری کام درپیش ہونے پر ریوڑ چرانے کی باری ایک دوسرے کے ساتھ تبادلے بھی ہوتے تھے مگر اس میں بھی دوسرے گھرانے والے اپنی آسانی دیکھتے ہیں وہ آسانی انہیں بچوں سکول سے چھٹی کے دن میسر آجاتی ہے اس لئے شاید میرے والد نے بھی ضرور سوچا ہوگا اس دن کوئی اور یہ ریوڑ چرانے کی باری لے مگر اس دن شاہی پولو گرونڈ خپلو میں جشن گانچھے کا فائنل میچ تھا اس لئے ان کے پاس وہ ریوڑ میرے حوالے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہ آیا ہو گا مگر ہمارا بھی دل مچل گیا تو ہم نے بھی ان بکریوں کے ریوڑ کو میدان میں چھوڑ کر پولو گراونڈ پہنچنے کا فیصلہ کیا۔

میں اس وقت ساتوں جماعت کا طالب علم تھا اس میدان سے خپلو تک کیسے گیا کچھ خاص یاد نہیں شاید کوئی ٹریکٹر میسر آیا تھا مگر آج سوچتا ہوں تو قدرت نے مجھے والد سے آخری ملاقات کے لئے بلایا تھا اس لئے پولو گراونڈ کے جاتے ہوئے آنکھ میں کوئی پتہ لگ گیا اس لئے وہاں پہنچ کر آنکھ کی تکلیف کی وجہ سے زیادہ دیر بیٹھنا مشکل ہو گیا اور دل ہی سوچ رہا تھا کہ ریوڑ کو کھلے میدان چھوڑ آیا ہوں وہ اگر لوگوں کی کھیتوں میں چلے گئے تو پھر شامت آئے گی یہ سوچ کر واپس آیا۔ مین بازار میں والد صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے فورا ریوڑ سے متعلق سوال کیا مگر انہیں یقین ہو گیا کہ میں اس ریوڑ کو کھلے میدان میں چھوڑ آیا ہوں۔ تب انہوں نے فورا واپس جا کر وہ ریوڑ کو سنبھالنے کی ہدایت کی اور میں واپس آگیا۔

اس سے پہلے جب بھی وہ ریوڑ چرانے جاتے، مجھے اپنے ساتھ لیتے تھے، کبھی کھانے کے خشک روٹی ہوتی جس ہم اپنے پیٹ کی آگ بجھاتے۔ وہ مجھے بکریاں خاص طور پر ریوڑ چرانے کا طریقہ بتایا کرتے تھے جس سے ایک چرواہا کو آرام بھی ہو اور بکریوں کے پیٹ بھی بھر سکیں۔ واپس جانے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں غصہ کے ساتھ افسوس بھی تھا۔ آج جب آنکھیں بند کر سوچتا ہوں کہ اس دن کس طرح میرے والد مجھے غصے اور افسوس سے دیکھ رہے تھے

تو یہی لگتا ہے کہ اس نے انتہائی حسرت بھری نگاہ سے دیکھا ہوگا کیونکہ شاید ان کو پتہ چل گیا تھا شاید کہیں سے کوئی اشارہ مل گیا ہو گا کہ آج کے بعد وہ اپنے بچے کو کبھی بھی ڈانٹ نہیں سکے گا اور یہ بھی سوچا ہو گا کہ آج کے بعد اس کے بچے کی حالت کیا ہوگی جس اس کو پیا ر سے گلے سے لگانے والا ملنا والا تو دور کی بات، ڈانٹنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا کیونکہ وہ میرے لئے والد کے ساتھ ساتھ والدہ بھی وہی تھے۔ میری والدہ کی وفات کے بعد دوسری سے شادی سے اس لئے گریزاں رہے کہ مبادا کہیں وہ سوتیلی ماں اس کے بچے کو تکلیف پہنچائے۔ حاجی تلی بتاتے ہیں کہ جب انہیں گاڑی سے گرنے کے بعد ہسپتال پہنچایا گیا تو انہوں نے ہشاس بشاش ہونے کے باوجود کہا تھا کہ میرے بیٹے کو سلام پہنچا دینا کیونکہ بچ نہیں پاؤں گا۔

میں اپنا وہ بچپنا ہرگز نہیں بھولتا کہ شب عاشورہ کو مسجد میں علم و تعزیے برآمد ہوتے تو وہ مجھے اپنی گود میں اٹھائے یوں بلک بلک کرروتے تھے جیسے بچے اپنے والدیں سے کسی چیز کے لئے ضد کرتے ہوئے روتے ہیں میں باپ کے گود میں حیران کہ میرا باپ کیوں رو رہا ہے۔ نہیں معلوم وہ اللہ سے میرے لیا کیا کیا مانگ لیا کرتے تھے۔ لیکن وہ خود کہا کرتے تھے اگر مجھے تمہاری پڑھائی کے لئے اپنی ایک ٹانگ فروخت کرنی پڑے تو بھی فروخت کر دوں گا۔

ا س کی تمنا نے اس کو قبر میں بھی ستایا ہوگا لہذا اس نے وہاں پر بھی اللہ کے حضور اسی طرح روتے بلکتے ہوئے کہا ہو گا کہ مالک تو میرے بچے کو علم کی دولت سے مالا مال فرما تاکہ اس کے بچے کو صحیح اور غلط کے درمیاں پہچان ہونے کے ساتھ اپنی زندگی کو باوقار طریقے سے گزار سکے۔ اور اب قلم کا مزدور بن گیا تاہم بعض اواقات شکستہ دل کے ساتھ یہ سوچتا ہوں کہ کاش کوئی اور کام کر لیتا تو شاید اسے اچھی مزدوری ملتی۔ ساتھ میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ شاید اپنے والد کی باوقار زندگی گزارنے کی خواہش نے شاید ہمیں قلم کا ہی مزدور بنایا ہوگا کہ کیونکہ اس رب کائنات نے اس قلم اور اسی قلم سے لکھے جانے والے الفاظ کی قسم کھا رکھی ہے۔

بظاہر غصیلا نظر آنے والے میرے باپ کا رب تعالیٰ پر ایمان ایسا کہ وہ جس یقین سے ساتھ میرے لیے دعا کرتے تھے اس کو یاد کرنا بھی میرے لئے سرمایہ سے کم نہیں ہوگا۔ جب کبھی میں بیمار پڑ جاتا قرآن پاک کی بعض سورتیں اور مسنون دعائیں پڑھ کر دم کیا تو بیماری ایسی غائب کہ کبھی بیمار ہی نہ ہوا ہو۔ جب اس رب ذوالجلال نے اس شفقت پدری کا سایہ جب سر سے اٹھایا تو اندازہ نہیں تھا کہ کس قسم کی تکلیفوں سے واسطہ پڑے گا مگر جب آج سوچتا ہوں تو اپنے آپ کو رب ذوالجلال کا شکر بھی بجا لانے کے لئے نا اہل قرار پاتا ہوں کیونکہ میرا باپ میرا رہنما اور استاد بھی تھا اس کی عدم موجودگی میں بھی تن تنہا ہر قسم کے موسم کے تھپیڑوں سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیا جو یقینا ان شب عاشور میں بلکتے ہوئے مانگی ہوئی دعاؤں کا ہی نتیجہ ہی ہو سکتا ہے۔

بظاہر اپنا نام تک نہ لکھ سکنے والا میرا والد میرا ایسا رہنما تھا کہ اس نے علم کے موتی ایسے میرے اندر ڈال دیے جیسے ایک پرندہ اپنے بچہ کو دانا کھلاتا ہے۔ جب میں اس کو سکول میں ہونے والے معلومات عامہ کے حوالے سے مقابلوں کا ذکر کرتا تو مجھے کچھ ایسی باتیں بتاتے جو اگلے دن یا اگلے ہفتے میں پیش کرنے کے بعد میری جیت یقینی تھی۔

تاہم اس مدبر کل اور علیم و خبیر ذات نے جب یہ نعمت اٹھا لی تو بعد کے زمانے میں پیار تو نصیب نہیں ہوا مگر دو دفعہ کسی نے سینے سے لگایا تھا وہ میرے چیچا مرحوم اور پھوپھی مرحومہ تھے باقی اب زمانے کے تھپیڑوں کی زد میں ایسا ہوں کہ ہمیں شباب کے آنے کا پتہ بھی نہ چل سکتا۔ اور یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ والد اسے آخر ی ملاقات کے بعد شباب روٹھ گیا تھا۔ کیونکہ اوئل عمری میں ہی فکر معاش ستانے لگی۔ اسی فکر معاش میں سکول چھوڑنا چاہا تو میرے چچا جنہیں اللہ تعالیٰ جنت نصب کرے ایسے حملہ آور ہوئے کہ دوبارہ سکول چھوڑکر مزدوری کے لئے جانے کی ہمت نہیں ہوئی مگر چھٹی کے دنوں میں مزدوری جاری رہی۔

مگر رب تعالیٰ کا شکر مزدوری چلنے کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ کہیں بھی جا کر مکمل رک نہیں گیا اگرچہ اس کوشش کی رفتار حد درجہ سست رہا۔ مزدوری کے لئے بجری اتارنے اور پتھر لوڈ، ان لوڈ کرنے سے لے کر غیر ملکی سیاحوں کے لئے مال برداری تک سب کچھ کرنا پڑا مگر ان ساری مشکلات اپنی جگہ مگر اس مسبب الاسباب نے یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرنے لئے راہیں یوں ہموار کی کہ بظاہر ہر قسم کی سہولت رکھنے والے دنگ بھی رہ گئے اور داد بھی دی۔

اب رب تعالیٰ دو پھول بھی ایک بیٹی اور بیٹے کی صورت میں عطا کیے ہیں تو رب تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ پرور دگار صحت کے ساتھ اتنی زندگی ضرور عطا کرنا کہ میں ان پھولوں کی آبیاری کر سکوں اور اسی یقین کے ساتھ جتنا یقین آج سے 24 سال ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر جانے میرے والد بزرگوار کا تھا اور اپنے ان پھول حسین اور علمبردار حسین کے علم و تعزیوں کا واسطہ دے رو کر گڑگڑا کر ان کے لئے کچھ مانگنے کی توفیق عطاء فرماء اور خالق کائنات یہ دعا بھی ہے کہ جب تیری طرف آنا ہو تیرے اور تیرے محبوب کا کلمہ زبان پر جاری رکھتے ہوئے تیرے پاس پہنچا دے۔ اور آخر میں یہ دعا پروردگار میرے مرحوم والد کو اپنے جوار رحمت جگہ عطا فرماء اور تمام بچوں پر والدین کا سایہ قائم رکھیے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •