باز محمد کاکڑ کا بہادر بیٹا


\"abdul-hai-kakar\"باپ اور بیٹے نے ایک دوسرے سے وعدے کیے تھے۔
بیٹے نے آئندہ جھوٹ نہ بولنے اور باپ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے انتخابات کے بعد بیٹے کو سوات کی سیر کرانے کا وعدہ کیا تھا۔
مگر ادھر موت کے کسی سوداگر نے ایک نوجوان کو جنت کا وعدہ بارودی جیکٹ میں لپیٹ کر سول ہسپتال کوئٹہ روانہ کردیا جس نے باپ بیٹے کے ان وعدوں کو کفن پہنا دیا۔
سات سالہ آرین خان سے اس کے والد کی موت پر بات کرنا میرے لئے مشکل تھا لہذا براہ راست پوچھنے کے بجائے سوال کیا،
آرین کتنے دنوں سے سکول نہیں گئے ہو؟
جواب دیا، ایک ہفتے سے۔
\"baz-muhammad-kakar-2\"\"baz-muhammad-kakar-3\"کیوں؟
میرا بابا شہید ہوگیا ہے۔
کس نے شہید کیا؟
طالبان نے۔
وہ کیوں؟

کیونکہ میرے والد فیمس ( شہرت یافتہ) وکیل تھے۔
سیاستدان، وزراء اور عزیز و اقارب فاتحہ پڑھنے آرین کے گھر گئے۔
صوبے کے وزیراعلی ثناواللہ زہری نے بھی حاضری دی۔ انہوں نے آرین کو گود میں بٹھایا اور اگلی صبح اخبار میں ایک تصویر شائع ہوئی جس کا کیپشن بھی ڈی جی پی آر نے کچھ یوں تجویز کیا تھا،
\”وزیراعلی نواب ثنا اللہ خان زہری باز محمد کاکڑ ایڈوکیٹ شہید کے بیٹے کو پیار کر رہے ہیں۔ ( ڈی جی پی آر)\”۔
تصویر اب آرین خان نے جیب میں رکھی ہے اور اپنے ہم عمر کزنز کو دکھا دکھا کر کہتے ہیں، یہ دیکھو میری تصویر اخبار میں چھپی ہے۔
آرین کو گھر میں مچے کُہرام کا گہرا ادراک ہے۔ ایک دن والد کے کمرے گیا اور اس کی پھوپھی نے دیکھا کہ اس نے اپنے باپ کا تکیہ سینے \"baz-muhammad-kakar-4\"سے لگایا ہے اور پھوپھی کو وہاں دیکھ اس نے جلدی سے واپس رکھ دیا۔
کبھی والدہ کا فون اٹھا کر اپنے والد کا نمبر ڈائل کرتا ہے جب اگلی جانب سے فون کے بند ہونے کی ریکارڈنگ سن کر پوچھتا ہے، میرے بابا کا فون کس کے پاس ہے؟
آرین کی والدہ کو اس کی چاچی نے مشورہ دیا کہ بیڈ روم سے شوہر کی تصویر ہٹادیں تاکہ آپ کی نظریں ہر وقت اس پر نہ پڑیں۔
آرین نے یہ بات سن لی اور جاکر والد کی تصویر کے عین سامنے اپنی پورٹریٹ رکھ دی اور یوں تصویر ماں کی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
باپ اور بیٹے کی آخری ملاقات بھی عجیب حالت میں ہوئی۔ بیٹا گہری نیند میں تھا اور باپ جاگا ہوا۔
باپ نے سوئے ہوئے آرین کو بوسہ دیا اور گھر سے نکل کر عدالت کی طرف چل
پڑے مگر تقریباً پینتالیس منٹ بات ان کی موت کی خبر گھر پہنچی۔
آرین نیند سے جاگ اٹھا اور اس کا والد ابدی نیند سو گیا۔

( یہ تحریر پہلے مشال ریڈیو کی ویب سائٹ پر پشتو زبان میں شائع ہوئی تھی)

Facebook Comments HS

عبدالحئی کاکڑ

عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور مشال ریڈیو کے ساتھ وابستہ ہیں

abdul-hai-kakar has 42 posts and counting.See all posts by abdul-hai-kakar

One thought on “باز محمد کاکڑ کا بہادر بیٹا”

  • 22/08/2016 at 12:57 شام
    Permalink

    یہ ایک دردناک واقعہ تھا ایک المیہ ! ایک ایسا المیہ جو دوسرے ایسے ہی المیوں کی طرح متعلقہ خاندانوں کے لیئے قیامت سے کم نہیں تا حیات نہ ختم ہونے والا درد آخر ان خُون آشام وقعات کا ذمہ دار کون کیا صرف دہشت گرد گرہ کیا صرف حکمران یا کیا صرف ان گرہوں کو پالنے والے اگر ہم ایمانداری سے (جو کہ نا پید ہو چکی ہے اور ہر کوئی اس کو اپنے معنی دیتا ہے ) اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو اس کے ذمہ داروں میں ہمیں اپنے اپنے چہرے نظر آییںگے ہم سب کہیں نہ کہیں اس کے ذمہ دار ہیں جب تک ہم اپنی اپنی ذمہ داری ﷺقبُول نہیں کریں گے ایسے خوُنی
    المیئے ظہوُر پزیر ہوتے رہیں گے لکھنے والے لھکتے رہیں گے مذمت کرنے والے مذمت کرتے رہیں گے فوٹو بنوانے والے فوٹو بنواتے رہیں گے ان واقعات کا جواز پیش کرنے والے پیش کرتے رہیں گے۔

Comments are closed.