جوان اولاد کے جنازے سے بڑھ کر بھلا اور کیا بھاری ہو سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

داغستانی شاعر رسول حمزہ توف کی ایک مشہور نظم ہے۔ اس کا مستنصر حسین تارڑ سے منسوب ترجمہ کچھ یوں ہے۔
اے عورت !
اگر ایک ہزار لوگ تمھیں پیار کرتے ہیں تو رسول حمزہ بھی ان میں ایک ہوگا
اگر سو لوگ تمھیں پیار کرتے ہیں تو ان میں رسول کو بھی شامل کرلو
اگر دس لوگ تمھیں پیار کرتے ہیں، تو ان دس میں رسول حمزہ ضرور ہوگا
اے عورت ! اگر پوری دنیا میں صرف ایک شخص تمھیں پیار کرتا ہے تو وہ مرے سوا کون ہوسکتا ہے
اور اگر تم تنہا اور اداس ہو اور کوئی تمھیں پیار نہیں کرتا تو سمجھ لینا کہیں بلند پہاڑوں میں رسول حمزہ مر چکا ہے

پاکستانی سیاست بھی عجیب ہے۔ اس میں بعض سیاست دان اتنے لباس نہیں بدلتے جتنی پارٹیاں بدل لیتے ہیں۔ بہت سے اپنی بدمعاشی پر سیاست کا پردہ ڈال کر اسے چھپاتے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جو اپنی سیاست کو بدمعاشی سے چلاتے ہیں۔ یہ ان کے لئے کاروبار ہے۔ ایسے میں جب بھی قمر زمان کائرہ کا نام سامنے آتا ہے تو رسول حمزہ توف کی یہی نظم کچھ بدل کر سامنے آتی ہے۔

اے سیاست !
اگر ایک ہزار لوگ تمہیں توقیر بخشتے ہیں تو قمر زمان کائرہ بھی ان میں ایک ہوگا
اگر سو لوگ تمہیں توقیر بخشتے ہیں تو ان میں کائرہ کو بھی شامل کرلو
اگر دس لوگ تمہیں توقیر بخشتے ہیں، تو ان دس میں قمر زمان کائرہ ضرور ہوگا
اے سیاست ! اگر پوری دنیا میں صرف ایک شخص تمہیں توقیر بخشتا ہے تو وہ کائرہ کے سوا کون ہوسکتا ہے
اور اگر تم تنہا اور اداس ہو اور کوئی تمہیں توقیر نہیں بخشتا تو سمجھ لینا کہیں بلند پہاڑوں میں قمر زمان کائرہ مر چکا ہے

سیاست میں ایسے لوگ کم ہیں جن کی عزت پارٹی لائن سے بالاتر ہو کر کی جاتی ہے۔ ان میں قمر زمان کائرہ، پرویز رشید، رضا ربانی اور افراسیاب خٹک سرفہرست ہیں۔ بات کرتے وقت ان کی زبان برے الفاظ سے آلودہ نہیں ہوتی۔ وہ بدترین مخالفین کا ذکر مہذب انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اپنی پارٹی کا برے بھلے ہر طرح کے حالات میں ساتھ دیا۔ وہ کبھی اقتدار کے لالچ میں لوٹے نہیں بنے۔ ان کی باتوں سے علم چھلکتا ہے۔ ان کی گفتگو سن کر پتہ چلتا ہے کہ مدبر کیسے بات کرتے ہیں۔ مہذب انداز میں اختلاف کیسے کیا جاتا ہے۔ نظریات پر کس استقامت سے قائم رہا جاتا ہے۔ جمہوریت سے ہٹنے کے لئے اقتدار کا لالچ دیا جاتا ہے تو اس لالچ کو کیسے ٹھکرایا جاتا ہے۔

میں ٹاک شو نہیں دیکھتا۔ نری ٹینشن ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ بندہ مینڈھے لڑانے کی فلم یوٹیوب پر دیکھ لے۔ وہ کم از کم نتیجہ خیز اور بامعنی تو ہوتی ہے۔ لیکن ٹاک شو میں قمر زمان کائرہ موجود ہوں تو وہیں رکنا پڑتا ہے کہ اس عالم اور جہاندیدہ شخص سے کچھ سیکھنے کو مل جائے گا۔ کائرہ صاحب سے جتنی ذاتی ملاقاتیں ہوئیں خوشی ہوئی کہ ایسا شخص بھی ہمارے سیاسی منظر نامے میں موجود ہے۔ انہیں دیکھ کر یہی یقین ہوتا ہے کہ سیاست میں وقار نہ رہے تو سمجھ لینا کہ کائرہ مر چکا ہے۔ ان کے جیتے جی سیاست بے توقیر نہیں ہو گی۔

کل ان کے بیٹے کے حادثے کی خبر ملی تو یہ ہمارے لئے ایک ذاتی صدمے کی سی کیفیت تھی۔ چھوٹے بچوں کے جنازوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان سے بھاری کچھ دوسرا نہیں ہوتا۔ لیکن ہوتا ہے۔ جوان اولاد کے جنازے سے بڑھ کر بھلا اور کیا بھاری ہو سکتا ہے۔ یہ ماں باپ کی کمر توڑ دیتا ہے۔

جس انداز سے کائرہ صاحب کو ایک رپورٹر نے خبر دی اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ پھر ایک دوسرے رپورٹر نے معاملے کو کچھ سنبھالنے کی کوشش کی مگر نقصان تو ہو چکا تھا۔ اس پر بھی جس وقار سے کائرہ صاحب تھینک یو کہہ کر نکلے اس پر رشک ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہاں ضبط کے سارے بندھن اس تصویر میں ٹوٹے نظر آتے ہیں جب وہ اپنوں کے درمیان پہنچ چکے تھے۔ ایک باپ آخر کتنا مضبوط ہو سکتا ہے؟ جوان اولاد کے جنازے سے بڑھ کر بھلا اور کیا بھاری ہو سکتا ہے؟ اولاد اور جوان بہن بھائیوں کے صدمے دیکھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ کائرہ صاحب کی فیملی پر یہ کتنا کٹھن وقت ہے۔ دعا ہے اللہ کائرہ صاحب اور ان کے اہل خانہ کو یہ بھاری صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1198 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar