سیاستدان کی جنسی کمزوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خبر بریک ہوئی۔ پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹی کے رہنما کا دو سال سے لندن کے مہنگے کلینک میں جنسی علاج جاری ہے۔ ہیمرسمتھ کلینک دنیا بھر کے رئیسوں میں جنسی علاج کے لیے شہرت رکھتا ہے اور پاکستانی سیاستدان نے دورہ امریکا سے واپسی پر کلینک سے علاج کروایا۔ خبر کے مطابق پاکستانی سیاستدان نے ڈاکٹر سے ادویات کے باعث وزن میں غیرمعمولی اضافے کا شکوہ بھی کیا۔

یہ خبردیر تک ایک چینل کی زینت بنی رہی بعدازاں اسے رات نو بجے کے خبرنامے میں بھی شامل کیا گیا۔ خبر کے نشر ہوتے ہی میں صحافی دوستوں سے رابطہ کرنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ کس سیاستدان کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔ میری طرح وہ بھی لاعلم تھے۔ اندازوں اور قیاس آرائیوں پر ہی گزارا رہا۔ کسی بھی خبر کے چند لوازمات ہوا کرتے ہیں۔ چند سوال جن کا جواب درکار ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہاں؟ کیوں؟ کب؟ کیسے؟ وغیرہ۔ اس خبر میں کسی بھی سوال کا جواب دیا گیا تھا نہ ہی اشارہ واضح تھا۔ کسی دوست نے آج کل لندن میں موجود سیاستدان کی جانب اشارہ کیا تو کسی نے ایک پارٹی کے نوجوان چیئرمین کا نام لیا۔ خبر میں کس کو نشانہ بنایا گیا میں سو فیصد یقین سے نام لینے سے قاصر ہوں۔

اب ہم آتے ہیں خبر کی طرف۔ آخر اس خبر کا مقصد کیا ہوسکتا ہے؟ کہنے والے کہنا کیا چاہ رہے تھے؟ آخر سوچ کیا تھی؟ اول تو مرض اور علاج کسی بھی شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ کوئی شخص دل کا علاج کروائے یا جنس کا یہ اس کا حق ہے۔ خوشگوار زندگی کے لیے انسان کا جنسی طور پر صحت مند ہونا انتہائی اہم ہے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہے اور علاج کرواتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ پھر خبر کیوں چلائی گئی؟ اور وہ بھی بغیر نام لیے۔

ہمارے یہاں ایک طبقہ ہے، جس کا ایک نظریہ ہے۔ یہ نظریہ عورت کو، خواجہ سرا کو کمزوری کی علامت سمجھتا ہے۔ ان ہی کی جانب سے مردوں کو چوڑیاں پہن لینے، عورت ہونے، مرد بنو جیسے طعنے دیے جاتے ہیں۔ جہاں گالی دینی ہو وہاں عورت کا استعمال لازمی قرار پاتا ہے۔ اس ہی کی ایک مثال گزشتہ دنوں شیخ رشید اور پھر وزیراعظم کی جانب سے بلاول بھٹو کو صاحبہ کہہ کر پکارنا تھا۔ گویا وہ ایسا کہہ کر ان کو کمزور، بے وقوف یا پھر بے بس ثابت کرنا چاہتے تھے۔

ہماری سیاست میں نام نہاد مردانگی کی خاصی اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی گاڑیاں، شکاری کتے، درجنوں گارڈ، اسلحے کی نمائش، ڈیرے، بڑی مونچھیں، یہ سب عام ہیں۔ ان تمام حربوں کو خود کو طاقتور دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ متعدد مرد سیاستدانوں سے زیادہ مضبوط اعصاب، فہم اور فراست رکھنے والی محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی اپنی زندگی میں اس ہی قسم کے رویے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہم برسوں پہلے جہاں کھڑے تھے آج بھی وہیں ہیں۔

ان تمام تر حالات میں اگر کسی سیاستدان کے بارے میں مشہور کردیا جائے کہ وہ جنسی طور پر نہ صرف کمزور ہے بلکہ بیمار بھی ہے۔ لندن سے علاج کروارہا ہے۔ تو اس کی مقبولیت کو کس قدر نقصان پہنچایا جاسکتا ہے؟ جس بھی سیاستدان کے خلاف یہ خبر چلائی گئی اسے نوٹس لے کر اس معاملے اور نظریے کو ختم کرنا چاہیے۔

میرے خیال میں خبر سو فیصد غلط ہے، اگر درست ہوتی تو سیاستدان کا نام لیا جاتا، تصویر دکھائی جاتی بلکہ فوٹیج تک منظر عام پر آچکی ہوتی۔ یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ نیوزرومز کو کنٹرول کرتے مٹھی بھر افراد آخر کس کے ہاتھ میں اور کیوں کھیل رہے ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں جو مسلسل جھوٹی خبریں نشر کروارہے ہیں؟ اس حوالے سے حکومتی مشینری اور ریاست کا کردار بھی مبہم ہے۔ اگر کسی با اثر سیاستدان کو اس قدر بے رحم پروپیگنڈے کا اس آسانی سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے تو ہمارے یہاں کے کاروباری افراد اور عوام کن حالات میں کس رویے کو کیسے برداشت کرتے ہوں گے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •