نئے حکمران طبقے کی تیاری میں موروثی سیاست کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یورپ میں نشاۃ ثانیہ یا روشن خیالی کی تحریک کی بنیاد میں یہ عنصر بھی شامل تھا کہ علم پر سماج کے ایلیٹ طبقے کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جائے اور اس کا خاتمہ کر کے سماج کے دیگر طبقات کو بھی ترقی کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس تحریک کی کامیابی کی ابتداء چرچ اور بادشاہ کی اجارہ داری کے خاتمے اور صنعتی انقلاب کی بنیاد سے ہوئی۔ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں جب ہندستان پر برطانیہ نے قبضہ کیا تو روشن خیالی کی تحریک کے برعکس یہاں پر نئے اجارہ دار طبقات پیدا کیے اور انھیں اقتدار میں شراکت دار بنایا گیا۔ نشاۃ ثانیہ یورپ کے لیے تو مثالی تھا لیکن دُنیا کے دیگر خطوں بالخصوص ہندستان میں یہ نشاۃ ثانیہ غلامی کا باعث بنی۔

ہندستان میں اس نئی اجارہ داری کے نتیجے میں خاص قسم کے حکمران طبقات پیدا کیے گئے اور یہی طبقات تقسیم ہند کے بعد ایلیٹ کلاس میں مجتمع ہوگئے اور پاکستان کے حکمران خاندان کا حصہ بن گئے۔ ملک انھی خاندانوں کی لپیٹ میں ہے جس نے موروثی یا خاندانی سیاست کو طاقت ور بنا دیا ہے۔ یہ چند خاندان قومی سیاست، قومی وسائل، نجی یا قومی شعبوں میں اجارہ دار بن گئے ہیں۔ دیہی سیاست میں یہ اجارہ داری جاگیر دار کے قبضے میں ہے جب کہ شہری سیاست میں یہ اجارہ داری سرمایہ داریت کے چنگل میں ہے جنھیں سول و فوجی بیوروکریسی طاقت بخشتی ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اینڈ اکنامک الٹرنیٹوز نے 2010 ء میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ قومی اور پنجاب کی سطح پر موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53 فیصد ہے۔ یہ خاندان قانون سازیوں، پالیسیوں پر بہت زیادہ گرفت رکھتے ہیں لیکن ان کے مفادات پاکستان سے باہر اپنے کالونیل آقا یا نیو کالونیل آقا سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ملکی سیاست میں الیکٹ ایبلز کے نعرے کی روح یہی ہے کہ موروثی سیاست ہی پاکستان کا مقدر ہے، الیکٹ ایبلز کے اس تصور سے عمران خان بھی چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے۔

دو جرنیلوں نے دو سیاسی جماعتوں کو جنم دیا۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے طاقت ور ہونے کے تصور کے باوجود موروثی سیاست کا خاتمہ فوجی حکومتوں میں بھی نہیں کیا جاسکا، حتیٰ کہ مشرف دور میں بی اے کی انتخابی شرط کے ساتھ انھی حکمران خاندانوں کے لندن یا امریکہ سے گریجویٹ ایک نئی صورت میں اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔ آج قومی و صوبائی سیاست کا محور و مرکز یہی گریجویٹ کلاس ہے جن کی تربیت بیرون ممالک ہوئی اور سیاسی پہچان موروثی سیاست نے بہم پہنچائی۔ بلاول بھٹو، مریم نواز کو بطور سیاسی شخصیت اسی اجارہ دار سیاست کے تناظر میں متعارف کرائی گئی ہے۔

نشریاتی اداروں نے حزب اختلاف کی سیاست کے تصورات کو جس انداز میں پیش کیا ہے اس سے موروثی سیاست کا نظام مزید طاقت ور ہوگیا ہے۔ ان تصورات کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب پاکستان کا دانش ور، کالم نگار، تجزیہ نگار مریم نواز، بلاول بھٹو کے ٹویٹ، میڈیا بیانات کو موضوع سخن بنا کر بار بار پیش کرکے ان کے سیاسی قد کو اور اونچا کیا جارہا ہے۔

یہ موروثی سیاست چھوٹے خاندانوں کی صورت میں بھی پاکستان کے جمہوری و فوجی نظام میں طاقت ور ہوتی رہی ہے۔ پختونخوا میں خٹک خاندان، مفتی محمود کا خاندان، ہوتی خاندان سرفہرست ہیں۔ سندھ میں بھٹو خاندان نمایاں ہے۔ سندھ میں موروثی سیاست سے ہٹ کر قائم ہونے والی سیاسی جماعتوں کا حشر نشر خود ملکی اسٹیبلشمنٹ نے طاقت کے بل بوتے پر کر دیا۔ بلوچستان میں یہ موروثی سیاست کا قبائل کے ارد گرد گھومتی ہے۔ بگٹی، زہری، بزنجو، اچکزئی، مینگل، مری اور رئیسانی اس کی مثال ہیں۔

پنجاب میں شریف خاندان، گیلانی، قریشی، مزاری، چوہدری، دریشک خاندانوں کے سیاست پر قبضے ہیں۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کا جائزہ لیں تو باپ بیٹے، بھتیجے، بھانجے، نواسے، داماد اور بیٹیاں نظر آئیں، حتیٰ کہ میاں بیوی بھی، یہ افراد انھی اجارہ دار خاندانوں کے نمائندے ہیں جنھوں نے جمہوریت کا لباس پہن رکھا ہے۔

عمران خان کی حکومت بھی اسی موروثی سیاست کے باعث قائم ہے۔ ملک میں انتہائی منظم انداز میں جو بیانیہ رائج کیا جارہا ہے اس سے انھی خاندانوں کی سیاسی اجارہ داری کو طاقت بخشنا ہے جو مستقبل قریب میں کسی بھی طرح کم زور ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مریم نواز اور بلاول بھٹو کو دو سیاسی خانوادوں کے ذہین ترین سپوت، دلیر، جراءت مند اور دور اندیش سیاست دان کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اس کے ساتھ اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا تڑکا لگا کر ان کا قد اور بڑا کیا جاتا ہے۔

ہمیں اس موروثی سیاست کے زاویوں کو سمجھنے کے لیے پاکستان کے جمہوری نظام کو کیپٹل ازم اور نیو کالونیل ازم کے تناظر میں سمجھنا ہوگا جس میں بیوروکریسی ان خاندانوں کے لیے بطور آلہء کار ہوتی ہے۔ دونوں سیاسی خانوادے اقتدار میں ہوں یا پھر حزب اختلاف میں انھیں کیپٹل ازم کے اُصولوں پر قائم کیے گئے معاشرے سے کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی ان کے ہدف میں یہ شامل ہے۔

پاکستان کے مستقبل کے نئے حکمران طبقے کی تیاری کے خمیر میں موروثی سیاست کو رکھا گیا ہے۔ موروثی سیاست کے نمائندے دو بڑے خاندانوں کو چھوٹے خاندان کاندھوں پر اٹھائے رکھیں گے کیونکہ اس میں ان تمام کی بقاء کی ضمانت ہے۔

پاکستان کا مالیاتی نظام قرضوں کی معیشت پر اس لیے استوار کیا گیا ہے کہ اس سے عالمی اداروں کی ملک میں براہ راست مداخلت کو ہر دور میں یقینی بنایا جاسکے اور پھر پاکستان میں آپریٹ کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سالانہ اربوں روپے منافع کی بیرون ممالک ترسیل میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ عالمی ادارے یا پھر سامراجی ممالک موروثی سیاسی خاندانوں کے توسط سے اپنے مفادات کا تحفظ کراتے ہیں اور جب عالمی سطح پر کسی بڑے مفاد کی تکمیل کرنا ہو تو ان خاندانوں کی براہ راست اقتدار سے چھٹی کرا کر آمروں کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کو پاکستان میں معاشی اصلاحات کے ذیل میں ٹیکسوں کا نیٹ بڑھانے اور عوامی سبسڈی ختم کرنے کی شقیں تو معائدات میں شامل کرانا یاد رہ جاتی ہیں لیکن انھیں یہ خیال نہیں آتا کہ جن حکمران طبقات کو وہ اربوں ڈالرز کے قرضے مہیا کرتے ہیں ان پر بیرون ممالک منی لانڈرنگ اور جائیدادوں کو منتقل کرنے پر پہلے درجے میں پاپندی اور دوسرے درجے میں پوچھ گچھ کی جائے۔ دراصل یہ ادارے ریاست کو کم زور کرنے والے حکمران طبقات کی ہمیشہ پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔

ہمیں اپنے تعلیمی اداروں اور نجی محفلوں میں یہ سوال اُٹھانا چاہیے کہ کہیں ہم خود غیر دانستہ طور پر موروثی سیاست کو قائم رکھنے میں معاونت تو نہیں کر رہے؟ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بھاری فنڈنگ سے چلنے والے پاکستانی میڈیا کہیں مخصوص قسم کے بیانیوں کی ترویج تو نہیں کررہا؟

عمران خان کی حکومت موجود ہو یا نہ ہو موروثی سیاست آج بھی زندہ ہے اور کل بھی زندہ رہے گی۔ پاکستان کی جمہوریت کا خمیر بھی ایسے ہی تیار کیا گیا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں، امریکا بہادر، برطانوی سرکار کو جمہوریت کی یہی شکل پسند ہے کیونکہ جمہوریت کے اس تصور میں درمیانے طبقات یا پھر محنت کش طبقات کی شمولیت کو ہمیشہ خارج رکھنا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •