اقتصادی بحران اور اپوزیشن؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی تاریخ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بلند ترین اڑان اور اس پر مستزاد سٹاک مارکیٹ کی تاریخی گراوٹ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ حالا ت دگرگوں ہیں۔ حکومت کی مشکلات میں بھی مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتا ہوا تال میل بالخصوص بلاول بھٹو کا مریم نواز سمیت سیاسی قیادت کو افطار پر مدعو کرنا، اپوزیشن کو احتجاجی تحریک پر متحد کر سکتا ہے؟ بلاول بھٹو تو پہلے ہی فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں اور ان کے والد آصف زرداری نیب کے تابڑ توڑ کیسوں، پیشیوں اور جواب طلبیوں سے تنگ آکر کہہ چکے ہیں کہ وہ اب نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔

وہ پیش ہوتے ہیں یا نہیں یا انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے یہ علیحدہ بات ہے لیکن وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی عید کے بعد سڑکوں پر نکل آئے گی۔ ان کا یہ فقرہ خاصا قابل غور ہے کہ نیب کا رروائیاں اور پاکستان کی معیشت اکٹھے نہیں چل سکتے لیکن اس سے بھی زیادہ قابل ذکر میاں نوازشریف کا اچانک پینترہ بدلنا ہے۔ اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد سے اب تک وہ قومی معاملات کے بارے میں خاموش ہی رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ اب مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنے پتے شو کرنا شروع کر دیے ہیں۔

جمعرات کو انہوں نے جیل میں خا صے عرصے بعد اپنی پارٹی کے لیڈروں سے ملاقات کی جن میں پرویزرشید اور احسن اقبال بھی شامل تھے۔ اگرچہ پرویزرشید نے اس خبرکی تردید کی ہے کہ میاں صاحب نے پارٹی کو عید کے بعد تحریک چلانے کی کوئی ہدایت کی ہے۔ ملاقات کی روداد کے مطابق وہ انتقامی کارروائیوں اور ملک کی اقتصادی صورتحال پر سخت پریشان ہیں اور اس ضمن میں آ ئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آج پیر کو پارٹی کا اہم اجلا س ہو رہا ہے جس میں مزاحمت کر نے کا لائحہ عمل تیار کیاجائے گا۔

اجلاس میں میاں نواز شریف کی سیاسی جانشین محترمہ مریم نواز بھی شرکت کر رہی ہیں، اس طرح یہ ان کی عملی سیاست میں باقاعدہ رونمائی ہو گی۔ حکومت کے پاس اپوزیشن کو کرپٹ کہہ کر گالیاں دینے کے سوا کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ انتقامی کارروائیوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سر کاری رقوم کے ناجائز استعمال کے حوالے سے مریم نواز کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کے دست راست نعیم الحق جو کافی عرصے سے علیل بھی ہیں کے مطابق مر یم نواز نے یوتھ پروگرام کے نام پر 67 ارب روپے ضائع کیے۔ ادھر نیب نے جعلی اکا ؤنٹ کیس میں بلاول بھٹو کو بھی سمن بھیج دیے ہیں۔

حکمران جماعت کے رویے کا عملی طور پر عمران خان کے سیاسی تر جمان شاہ محمو د قریشی کے اس طرزعمل سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن تحر یک چلانے کا شوق پورا کر کے دیکھ لے۔ تحریک انصا ف کی اس خو د اعتمادی کی سوائے اس کے اور کوئی وجہ سمجھ نہیں آ تی کہ وہ بجاطور پر سمجھتے ہیں کہ ان کا کلہ مضبوط ہے ورنہ زمینی حالات تو بہت خراب ہیں۔ تبدیلی کے پیامبر عوام کے لیے شدید مشکلات لے کر نازل ہو ئے ہیں۔

وہ لوگ جو خان صاحب کو ووٹ دے کر لائے تھے ان کا مطمع نظر تو یہ تھا کہ نوازشریف اور آصف زرداری کو تو آزما چکے عمران خان جو بظاہر سیدھے بلّے سے کھیلتے ہیں ایماندار اور مخلص ہیں وہ ملک ٹھیک کردیں گے لیکن یہ خواب ہنوز ادھورا ہی ہے۔ یہ عذر کہ سابق حکومتیں بیٹرہ غرق کر گئی تھیں اور وہ اپنے دور میں ’یہ کرتے تھے وہ کرتے تھے‘ ۔ عوام اور تحریک انصاف کے سپورٹرز کے زخموں پر پھاہا نہیں رکھ سکتے کیونکہ یہ حکومت تو آئی ہی اس بنا پر تھی کہ اس کا انداز حکمرانی سابق حکمرانوں کی ضد ہو گا لیکن تبدیلی نظر نہیں آئی۔

یہ حکومت بھی اپنی پیشرو حکومتوں کی طرح پاکستان کی تاریخ کے 22 ویں آئی ایم ایف پروگرام میں جانے پر مجبور ہے لیکن عین مذاکرات کے دوران اپنے وزیر خزانہ اسد عمر سمیت پوری اقتصادی ٹیم کو برطرف کرنے کے بعد بالکل ہی آئی ایم ایف کے سامنے لیٹ گئی اور ایسی کڑی شرائط مان لی گئیں جن پر عمل درآمد شایدعوام کو گوناگوں مشکلات کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔ گورنر سٹیٹ بینک ایک ایسے شخص کو لگادیا گیا جو آ ئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر Chirstine Lagardeکے مطابق بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے انتہائی ہونہار اور اعلیٰ افسر ہیں گویا کہ حکومت نے نہ صرف آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیاہے کہ سٹیٹ بینک آزاد ہو گا اور روپے اور ڈالر کی قیمت فری فلوٹ ہو گی ’جس میں حکومت مداخلت نہیں کرے گی اس کو یقینی بنانے کے لیے آ ئی ایم ایف نے اپنا ہی ”وائسرائے“ بھیج دیا۔

آئی ایم ایف کے اعلامیہ کے علاوہ حکو مت پاکستان کی طرف سے تین سالہ سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کی تفصیلات پارلیمنٹ یا پارلیمانی کمیٹی حتیٰ کہ کابینہ کے سامنے نہیں رکھی گئیں لیکن جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں ان کے حوالے سے سابق پروگراموں کی طر ح اس پروگرام کا مطمع نظر شرح نمو میں اضافہ نہیں بلکہ اکانو می میں میکر واکنامک استحکام پیدا کرنا ہے۔ ظاہر ہے جب روپے کی قیمت گرے گی بجٹ خسارہ کم کر نے، آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے کے لیے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے علاوہ سبسڈیز ختم کرنا ہوں گی تو بے چینی میں اضافہ ہو گا اور دیوار سے لگی اپوزیشن اس صورتحال سے فائدہ اٹھائے گی۔

اس تناظر میں شریف برادران کی حکمت عملی ابھی تک واضح نہیں ہے، لگتا ہے کہ برادر خورد لیڈر آف اپوزیشن میاں شہبازشریف روٹھ کر لندن جا کر بیٹھے۔ ان کا یہ اچانک فیصلہ کہ وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہو رہے ہیں سمجھ سے بالاتر تھا کیونکہ موصوف نے یہ عہدہ حاصل کر نے کے لیے خاصی جدوجہد کی تھی، جس میں پیپلزپارٹی نے بھی ان کی مدد کی تھی۔ اپو زیشن کے ساتھیوں کے احتجاج پر شہباز شر یف نے فی الحال ا س فیصلے کو موخر کردیا ہے۔

ایک بات تو واضح ہے کہ شہبازشریف کی پرواسٹیبلشمنٹ لائن بری طرح پٹ گئی ہے، وہ نہ تو اپنے بڑے بھائی کی ضمانت میں توسیع کرا سکے اور نہ ہی خود کو عمران خان کے مقابلے میں متبادل لیڈر شپ کے طور پر منوا سکے۔ غالبا ً میاں شہبازشریف پارٹی کے اندر اپنے بھائی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کو تیار نہیں ہوئے کیونکہ وہ ایسا کرتے بھی تو کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے تھے۔ مسلم لیگ (ن) میں شہبا زشریف کا کلیدی رول ضرور ہے لیکن طوطی میاں نوازشریف کا ہی بولتا ہے اور سپورٹ بیس بھی انہی کی ہے۔

شاید میاں شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف یکدم منی لانڈرنگ کے نئے کیسز اسی مایوسی کا نتیجہ ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ماہ رمضان سے قبل رائے ونڈ میں ایک اعلیٰ شخصیت کے اعزاز میں میاں نوازشریف نے ظہرانہ دیا جس میں مریم اور حمزہ بھی شریک تھے لیکن یہ ملاقات بھی بے نتیجہ رہی اور اب نوازشریف بھی پیپلزپارٹی کی لائن کے قریب ہونے پر مجبورہو گئے ہیں۔ حکمران جماعت کو تو چاہیے تھا کہ کم ازکم اقتصادی معاملات پر اپوزیشن کو آن بورڈ لیتی لیکن اپوزیشن کے ساتھ بقائے باہمی کی سیاست خان صاحب کے ڈی این اے میں نہیں ہے۔

(بشکریہ: روز نامہ 92 نیوز)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •