عمران خان کا غصہ اور فیصل واوڈا کی دھمکیاں

بجٹ کی آمد کے ساتھ گرفتاریوں کی بھی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ پہلے زرداری اور پھر حمزہ کی باری، ساتھ ہی ساتھ لندن میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین بھی دھر لے گئے لیکن 24 گھنٹوں میں ہی ضمانت پر رہا ہو گئے کیونکہ وہاں تو نیب، نیب عدالتوں اور پراسیکیوٹرز کا طوطی نہیں بولتا، نیب قانون کے سوا پاکستان میں بھی برطانوی لیگل سسٹم نافذ ہے جس میں جب تک ملزم پر جرم ثابت نہ ہو جائے وہ مجرم نہیں ٹھہرتا۔ قومی بجٹ جس کے بارے میں چرچا تھا کہ شیر آیا شیر آیا، آچکا ہے اور واقعی جیسا کہ وارننگ دی گئی تھی کہ یہ عوام اور بزنس کمیونٹی دونوں کے لیے خوفناک ہو گا۔

گویا کہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی بات ٹھیک نکلی کہ عوام کی چیخیں نکلیں گی لیکن اصل چیخیں اس وقت نکلیں گی جب بجٹ میں لگائے گئے نئے ٹیکسز کا اطلاق اور سبسڈیز کے خاتمے کا اثر مارکیٹوں میں ہو گا اور یقینا مہنگائی کی نئی لہر آئے گی۔ جیسا کہ قلاش ممالک کے لیے آئی ایم ایف کا پیکیج عوام پرقہر بن کر گرتا ہے اور ترقی کرنے کے بجائے بجٹ میں خساروں کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، موجودہ بجٹ میں ایسا ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔

Read more

معیشت کہاں کھڑی ہے؟

آئی ایم ایف کی آشیرباد اور اسی ادارے کے ایک ریٹائر سینئر عہدیدار کا بنایا ہوا بجٹ قوم کو مبارک! بجٹ میں توقعات کے عین مطابق سختیاں ہی سختیاں ہیں۔ یہ بات سب سے پہلے معزول وزیر خزانہ اسد عمر نے کہی تھی کہ اتنی مہنگائی ہو گی کہ قوم کی چیخیں نکل جائیں گی۔ بجٹ سے عین ایک روز قبل وزیراعظم عمران خان نے بھی پی ٹی وی کو ریکارڈ کرائے گئے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہہ دیا تھا کہ پاکستانی دنیامیں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں۔

نہ جانے وہ کون سے بقراط ہیں جوخان صاحب کو اس قسم کی ڈس انفارمیشن دیتے ہیں۔ گویا کہ پاکستانی عوام افغانستان، نیپال اور افریقہ کے پسماندہ ممالک کے عوام سے بھی کم ٹیکس دیتے ہیں، حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ بائیس کروڑ عوام میں سے صرف بیس لاکھ ٹیکس نیٹ میں ہیں اور ٹیکس صرف 8 لاکھ افراد ادا کر تے ہیں۔ یہاں ٹیکس تو جی ڈی پی کا صرف 12.5 فیصد ہے جو ہمارے لیے شرمناک ہے، جو کم ازکم اس سے دگنا ہونا چاہیے۔

Read more

نئے نئے محاذ!

بیک وقت اتنے محاذ کھول دیئے گئے ہیں جن سے لگتا ہے کہ وطن عزیز اپنے ساتھ ہی برسر پیکار ہے۔ ایک طرف اعلیٰ عدلیہ کو زیر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو دوسری طرف پشتون تحفظ محاذ کے ساتھ نیا فرنٹ کھول دیا گیا ہے اور میڈیا کی بھی خیر نہیں، اس…

Read more

پھیکی عید مبارک !

قارئین کو عید مبارک! ویسے تو رمضان المبارک کے اختتام پر عید خوشی کا دن ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ عید کا تہوار کچھ گہنا سا گیا ہے ۔ رمضان کے آخری عشرے اور چاند رات کوبازاروں میں جو ریل پہل ہوتی ہے وہ نظر نہیں آئی ۔ ہوشربا مہنگائی اور آسمان سے باتیں کرتی…

Read more

مہنگا ئی بم ، عوام کی چیخیں

ملکی معیشت جس سمت جا رہی ہے وہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے ۔اقتصادی صورتحال اتنی خراب ہے کہ کسی بھی شعبے سے کوئی اچھی خبر نہیں آ رہی ۔حکومتی اہلکار برملا دعوے کر رہے ہیں کہ حالات ٹھیک ہونا شروع ہو گئے ہیں، نہ جانے وہ کونسی دنیا میں رہ رہے ہیں ۔ پٹرول…

Read more

تشدد کی گنجائش نہیں

شمالی وزیرستان کے علاقے بویہ کی خارکمرچیک پوسٹ پر حملہ ہر لحاظ سے انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی یہ ٹویٹ کہ وزیرستان میں امن کے قیام کی دہائیوں پر مشتمل جد وجہد کے ثمرات کو ضائع کرنے اور بہادر قبائلیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں…

Read more

عمران خان نوازشریف والی غلطیاں نہ دہرائیں

موجودہ عالمی تناظر میں انتہائی دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے سیاستدان عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر دھڑادھڑ منتخب ہو رہے ہیں۔ جس کی سب سے نمایاں مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو ایک غیر روایتی سیاستدان اور ان کے اکثر خیالات انتہا پسندی کے زمرے میں ہی آتے ہیں۔ اسی طرح کے…

Read more

اسد عمر نجی محفلوں میں کیا کہتے پھرتے ہیں ؟

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پر تماشہ نہ ہوا،اس بات کابہت ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ کر اچی کے قریب سمندر میں تیل اور گیس کا اتنا بڑ اذخیر ہ نکلنے والا ہے جوپاکستان کی آئند ہ پچا س سال کی انرجی کی ضروریا ت سے بھی زیا دہ ہو گا ۔ وزیر اعظم عمران خان…

Read more

اقتصادی بحران اور اپوزیشن؟

پاکستان کی تاریخ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بلند ترین اڑان اور اس پر مستزاد سٹاک مارکیٹ کی تاریخی گراوٹ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ حالا ت دگرگوں ہیں۔ حکومت کی مشکلات میں بھی مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتا ہوا تال میل…

Read more

حکمران نوشتہ دیوار پڑھنے سے انکاری ہیں

13 مئی کو قومی اسمبلی میں’’معجزہ ‘‘ ہو گیا ، شور شرابے ،ہلے گلے اور نعرے بازی کے بغیر ہی قبائلی علاقوں کو قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں بہتر نمائندگی دینے کابل متفقہ طور پر منظور ہو گیا اور 282 ارکان نے اسے منظور کیا،اس بل کے منظور ہونے کے بعد قبائلی اضلاع…

Read more