بچوں سے زیادہ والدین کو تربیت کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر میں پرانے دور کا ذکر کروں تو احساس ہوتا ہے کہ آج عورت صرف اس لیے آزاد نہیں ہے کیونکہ آغاز سے ہی تربیت بہتر طریقے سے نہیں ہوئی تھی۔ اگر اس وقت والدین بیٹے اور بیٹی، لڑکا اور لڑکی میں فرق نہ کرتے تو آج معاشرہ کچھ اور ہوتا۔ اگر آج کا آدمی عورت کی عزت نہیں کرتا تو اس میں زیادہ قصور چند والدین اور ان کی تربیت کا ہے۔ کیونکہ بچپن سے ہی لڑکوں کو سر کا تاج بنا کر رکھا جاتا تھا، جس کی وجہ سے ان میں ایسی فطرت پیدا ہو جاتی تھی، جو ان کو اپنے آپ کو عورتوں سے اعلیٰ سمجھنے کے لیے مجبور کر دیتی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ عورت پر حکم چلانے کو اپنا فرض سمجھ بیٹھے تھے۔ کچھ تو اسے پاؤں کی جوتی سمجھ کر اس پر ہاتھ اٹھا کر اپنی کھوکھلی مردانگی کا ثبوت تک دے دیتے تھے اور آج بھی کچھ خاص فرق نہیں آیا۔

یہاں مسئلہ ہے تو صرف اور صرف تربیت کا، اگر بچپن سے ہی مرد کو یہ بتایا جائے کہ عورت تم سے کم یاں زیادہ نہیں ہے بلکہ تمہارے برابر ہے۔ اور اس کو مساوی اہمیت دی جائے، اس وقت ہی یہ اگلی نسل عورت کی اہمیت کو سمجھنے کے قابل ہوگی۔ اگر آج کچھ گھروں میں شوہر اپنی بیوی کو اہمیت نہیں دیتے تو وہ صرف اس لیے کیونکہ ان کے باپ ان کی ماں کو اہمیت نہیں دیتے ہوں گے۔ اگر آج عورت جگہ جگہ ہراس ہو رہی ہے تو وہ صرف اس لیے کیونکہ ان کی ماں نے انھیں بچپن میں عورت کی عزت کرنے کا صحیح طریقہ نہیں سکھایا۔

تربیت سے ہی بہترین نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔ ماں باپ کی تربیت کسی بھی بچے کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔ لیکن بچے سے پہلے ماں باپ کی تربیت لازمی ہے کیونکہ ان کو دیکھ کر ان سے سیکھ کر بچہ بڑا ہوتا ہے اور تربیت پاتا ہے۔ آج کے معاشرے میں کہتے ہیں کہ عورت عزت اور اطمینان سے کام نہیں کر سکتی، لیکن اس کی وجہ پر نہیں آیا جاتا ہے۔ وجہ صرف کچھ مرد ہیں جو ہر جگہ عورت کو ہراس کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ ایسے مرد کسی بھوکے بھیڑیے کی طرح عورت کو صرف ایک شکار کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔

یہاں غور طلب سوال یہ ہے کہ جس طرح اپنی بہن کی عزت کی حفاظت کی جاتی ہے، اسی طرح کسی دوسرے کی بہن یاں بیٹی کی عزت کی حفاظت کیوں نہیں کی جا تی؟ اپنی بہن پر بات آئے تو سب کی غیرت فوراً جاگ جاتی ہے، تو پھر دوسرے کی بہن یاں بیٹی کو عزت کی نگاہ سے کیوں نہیں دیکھا جاتا؟ اگر بچپن سے ان کی تربیت اچھے طریقے سے کی جائے اور انہیں عورت کی عزت کی اہمیت کا احساس دلایا جائے تو میرا نہیں خیال کہ اس معاشرے میں بدلاؤ نہیں آئے گا۔

ماں باپ کو بھی لڑکا اورلڑکی کے فرق کے بغیر اپنے بچوں کی پرورش کرنی چاہیے۔ تاکہ مرد اور عورت ایک دوسرے کو مساوی عزت دے سکیں۔ اس طرح عورتیں بغیر کسی خوف کے مردوں کے ساتھ مل کر کام کریں گی اور دونوں ایک دوسرے کے حقوق کی اہمیت کو سمجھیں گے۔ اور ایک دوسرے کو عزت دیں گے تو معاشرہ خود بہ خود بہتری کی طرف جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقصیٰ بخاری کی دیگر تحریریں
اقصیٰ بخاری کی دیگر تحریریں