ضرورت رشتہ ، جمعہ خان سے معذرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"barkat-kakar\"

آج صبح صادق کے وقت ابھی نماز بھی نہیں پڑھی تھی، کہ انگلیوں نے از خود موبائل کے سکرین سے کھیلنا شروع کیا، یکایک فیس بک کھل گئی اور سب سے پہلے جو پوسٹ دیکھنے میں آئی وہ ہمارے اک محب صادق ، جے کے انقلابی (جمعہ خان انقلابی) کی تھی۔ یوں تو وہ سلام و کلام میں خاصے پُر تکلف رہتے ہیں اور فیس بک کی ریاکار ورچول دنیا میں موجود ہوتے ہوئے بھی \’اممم\’، لکھنے اور مایوسی کی حد تک سنجیدہ کارٹون شئیر کرنے سے آگے نہیں بڑھتے ۔ اس کی اس کرم فرامائی کو دیکھ کرحیران ہوا، دُھندلی آنکھوں سے ہی پڑھنے کی کوشش کی۔ پتہ چلا کہ ضرورت رشتہ کا ایک اخباری تراشہ ہے جسکو سکین کیا گیا ہے ۔اس سے پہلے کہ ہم ان کی پوسٹ کے بار ے میں بات کریں انقلابی صاحب کا مختصر تعارف کرا دیتے ہیں ۔

جمعہ خان ، شارٹ کٹ میں جے کے کوئٹہ کے پرانے سرخوں کے آخری واثان میں سے ہیں۔ انقلاب کا راگ الاپتے الاپتے شادی کے عمر سے آگے نکل آئے اب انکا کہنا یہی ہے کہ انہوں نے انقلاب کی دلہن سے شادی کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا، سرخ جوڑے میں لپٹی ہوئی طبقاتی جدوجہد کی چکا چوند کر دینے والی برابری کا خواب دیکھا تھا، اب دلہن سرمائے کی پگھلی ہوئی دولت میں کنبے سمیت بھاگ گئی تو اس میں ان کا تو کوئی قصور نہیں۔ جو پوسٹ انہوں نے ضرورت رشتہ کے بارے میں شئیر کی تھی اس سے پہلے تو ہمیں شبہ ہوا کہ موصوف نے بوجہ ضعف و تنہائی اپنے لئے کسی رشتے کا اشتہار دیا ہے۔ لیکن پڑھنے لگا تو پتہ چلا کہ کسی اور پارٹی کا اشتہار ہے۔ مشتہر خاندان کی سربراہ نے (بقول انکے ) اپنے خوبرو،شریف گھرانے کی چونتیس سالہ دوشیزہ کے عقد اُولی کیلئے اسلام آباد اور راولپنڈی کے حسین نوجوانوں کو رابطہ کرنے کی نوید مُسرت سنائی ہے۔ جے کے کی دل پر جو پہلی بجلی گرنی چاہئے وہ تو یہی تھی کہ یہاں بھی بلوچستانی ہونے کی وجہ سے کرائیٹیریا پر پورا نہیں اترسکتے، لیکن اس کے آخری جملے میں لگتا ہے اہلیت پر نظر ثانی کی گئی تھی اور نوید مسرت کا تھوڑا بہت سامان تھا لیکن موٹے الفاظ میں لکھا تھا کہ ، پٹھانوں سے معذرت۔۔۔ یہ دوسری بجلی ثابت ہوئی جس نے تو رہی سہی کسر نکال دی، کیوں کہ وہ بیک وقت بلوچستانی بھی ہے اور پشتون بھی ہے۔ اب وہ دل کو روئے یا جگر کو پییٹے یہ اسکی مرضی ۔۔

صبح دفتر آیا ، کہ پھر جمعہ خان کی اسی پوسٹ نے اونٹ کی طرح دیوار کے پرلی جانب سے سربلند کیا تھا ، اور ہمیں گھور ے جارہی تھی۔ اب کیا دیکھتا ہوں کہ اخبار کے اس تراشے پر چھپے ہوئے چند حروف نے سینکڑوں لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ کئی لوگوں نے دوبارہ شئیر کیا ہے، محرومی اور نظراندازی کے جلے کٹے احساسات سر چڑھ کر بول رہے تھے، پھر جس صاحب میں جتنی مردانگی تھی وہ اتنا ہی آپے سے باہر ہو ا جارہا تھا۔

اخبار کے چھوٹے تراشے سے نسلی اور لسانی امتیاز کے اتنے شدید احساسات بھڑک اٹھیں گے اس کا مجھے بھی اندازہ نہ تھا۔ جمعہ خان سے فون پر بات ہوئی کہ برادر عزیز ہماری خانہ ویرانی کے اسباب و علل کیا کم تھے کہ تم نے ایک اور اکاؤنٹ کھول دیا ہے۔ وہ خاصے رنجیدہ تھے، سنجیدہ تو پہلے سے ہی تھے بولے اب تو بات یہاں تک آن پہنچی ہے، ہماری بےعزتی اب کھلے بندوں ایسے ہی ہوگی، کیا پُرکھوں نے سینوں پر گولیاں اس دن کیلئے کھائی تھیں، کیا ہمارے اسلاف ۔۔۔وغیرہ وغیرہ

ہم نے اس بحث سے پہلو تہی میں ہی غنیمت جانی، کہ دوپہر سے زرہ پہلے بنفس خفیف (اب نفیس نہ رہے) تشریف لائے، آتے ہی ٹیبل پرمکا مارا کہ آج آپ سے لڑنے آیا ہوں میدان جنگ کا تم خود ہی انتخاب کر لو۔ ہمیں ایسا ہی لگا جیسے وہ کہ رہے ہوں کہ وصیت کر لو۔ ہم نے ادھر ادھر کا پوچھا، اور ابھی چائے نہیں پہنچی تھی کہ بات پھر وہیں شروع کی۔ تو میں یہ کہ رہا تھا ، ہے تلخ بہت بندہ پشتون کے اوقات!

میں نے رازدارانہ انداز میں اسے کہا کہ جانے دیجئے، اسے ایک فرد واحد کی غفلت سمجھئے ، معاف کرنا بھی سیکھئے پاؤں پہلے تمھارے گور میں لٹکے پڑے ہیں ، پر وہ کہاں مانتے ، ہم نے کہا چلو اسے ایک فرد کی جہالت کہ دیجئے اور رفع دفع کیجئے ۔۔۔ بولے کیا اخبارکا اشتہاری ہاضمہ خراب ہے ، کل کوئی انکی فیس بھر کر ہمیں گالی مشتہر کرے گا تب بھی ہم خاموش رہیں گے، کیا یہ لوگ کسی قانون قاعدے کا پابند نہیں ہے؟ کیا یہ کھلم کھلا نسل پرستی کے ذومرے میں نہیں آتا؟

میں نے ٹوکا! برادر عزیز چائے کی پیالی میں طوفان بر پا کرنا چی معنی دارد؟ بولے یہ چائے کی پیالی والی طوفان نہیں ہے، یہ ٹپ آف دی ائیسبرگ ہے! ، ہم چونک گئے کہ انکو تو مادی جدلیات ، ذرائع پیداوار اور خام مال سے آگے کی اصطلاحات کا پتہ بھی نہیں تھا یہ محاورہ کہاں سے اغوا کر کے لایا ہے بدمعاش۔ اسی غرض سے پوچھا جناب عالی! یہ ٹپ آف دی ائیسبرگ کیا بلا ہے۔

بولے ! آپ چونکہ موٹے دماغ کے واقع ہوئے ہیں اس لئے سلیس زبان میں عرض کروں تو یہ سمجھئے کہ ابتدا ئے عشق ہے روتا ہے کیا؟ آپ کو ردیف کافیے ، اوزان اور عروض کی گردان اور ان کے رٹنے والوں اور والیوں سے فرصت ہو تو پتہ چلے کس طرح ہماری ہر جانب سے سماجی و معاشی ناکہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کرسی میری طرف مزید سرکائی اور پھر بولے ۔۔ٹی وی چینلوں کے خاکے، ڈرامے،فلموں، غرض یہ کہ کمرشلز تک آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ، ایک خاص قسم کی کیرکٹرائزیشن (کردار نگاری) آپ کو دیکھنے میں آئے گی، دہشتگردی کا سارا ملبہ تمھارے سر ڈالا گیا ہے، ہر پاکستانی فلم میں ویلن کا کردار تمہیں دان دیا گیا ہے، لاہور اور کراچی والوں نے تو کب کا ہمیں طالبان قرار دیا ہے، اسلام آباد کے کئی سیکٹرز میں پراپرٹی ڈیلرز اب ہمیں کرائے کیلئے مکان دینے سے گریز کرتے ہیں، کہتے ہیں کسی ذمانے میں ابو کا کسی ایک پٹھان کے ساتھ برا تجربہ ہوا تھا، ہوا ہو گا، ہمارا بھی کئی لوگوں سے برا تجربہ ہوا ہے، ہم نے تو کسی سے منہ نہیں موڑا۔۔ ۔

آبدیدہ ہوتے ہوئے بولے ۔۔۔ شومئی قسمت اور تو اور اب تو کوئٹہ میں بھی ہم شناختی کارڈ دکھا کر خود کو اس دھرتی کا سپوت ثابت نہیں کرسکتے، ارباب اختیار کہتے ہیں شناختی کارڈ بھی کوئی سند ہے، یہ تو کلبھوشن اور ملا منصور کے پاس سے بھی برآمد ہوا تھا اور کوئی سند مہیا کرو ۔ اب ان سے پوچھے کون کہ، بھلے مانسو ان کے پاس سے تو پاسپورٹ بھی برآمد ہواتھا، ذرا سا انکو کریدا جاتا تو زمین کا انتقال اور جائیداد کی دستاویزات بھی برآمد ہو جاتیں ۔۔۔ بہر حال آپ اسے ٹپ آف دی ائیس برگ مانیں یا نہ مانیں، مجھے تو خاصا تجربہ ہے۔ وہ خاصی سنجیدگی سے بول رہے تھے، میں نے دیواروں پر لکھی گئیں نفرت انگیز نعروں کوانسانوں کا خون کرتے اور انہیں نگلتے ہوئے دیکھا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہم جہاں رہتے ہیں (جنوبی ایشیا) وہاں جیسی سیاسی سلطنتیں اور متبرک خاندان پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہیں، وہاں لوگ یا تو محبت کرنا جانے ہیں یا پھر نفرت ۔ اخبار کے یہ چھوٹے تراشے، تعصب اور منافرت کے ذہر میں بجھی ہوئی تحریریں، پمفلٹ، مولویوں کے بے دھڑک فتوے ، انکی نفرت انگیز تقاریر نے اس جہان آب و گل میں کتنا خون بہایا ہے اس کا اب آپ اندازہ نہیں کرسکتے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ہمیں بے شک بھوکا رکھا جائے ، لیکن ہماری تذلیل نہ کی جائے، ہمیں بے شک نہ پڑھایا جائے لیکن ہماری اس چادر کے پلو کے ساتھ بندھی ہوئی چند اقدار اور عوامی دانش کا مذاق نہ اڑایا جائے، ہمیں ہر گز اسلام آباد یا لاہور سے مشتہر ہونے والے مواقع سے محروم رکھا جائے لیکن اس میں ہمارے نام کے گرد سرخ لکیر کھینچ کر ہمیں باقیوں سے کمتر ہر گز نہ گردانا جائے۔ ۔۔ وہ خاصے جذباتی ہوئے جارہے تھے ۔۔۔

ہم نے پھر ٹوکا، جناب جمعہ خان صاحب ہم آپ کے سماجیات کے علم کے معترف ہیں لیکن چھوٹی چیزوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟

وہ داڑھی پر ہات پھیر کر بولے زوئے! جہاں انسان تاریخی شعور اور تنقیدی سوچ سے عاری ہو جاتے ہیں وہاں کے معلم اور پروفیسر ردیف اور قافیے میں پھنس جاتے ہیں، یہ ردیف قافیہ مکڑی کا جال ہے، یہ روح سے خالی مرے ہوئے الفاظ کا ملبہ ہیں جس کے تلے زندگی اپنی آخری سانسیں لیتی ہیں ۔ جولوگ بے روح ادبی سرگرمیوں میں جت جاتے ہیں، اپنی شناخت اور سالم سماجی وجود کے ادراک سے محروم ہو جاتے ہیں، انہیں کوئی بھی کسی طرف ہانکے، انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

وہ کافی دیر تک بولتے رہے، میں سگریٹ کے کش سے ہوا میں دائرے بنانے کی کوشش کر رہا تھا، خاصا وقت گزر چکا تھا۔ جے کے کب کا جا چکا تھا، اور انکے خیالات سگریٹ کے اڑتے دھوئیں کے ساتھ مکالمہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے ، دھواں ہوا میں معلق تھا اور خیالات اس کے ارد گرد ہالہ بنائے اسے گھیرے ہوئےتھے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments