طلاق کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز کلاس میں طلاق کا موضوع زیرِ بحث تھا جس کے نتیجے میں ایک عجیب و غریب واقعہ سننے کو ملا۔ واقعے کے مطابق، بیوی نے گھر میں کپڑے دھونے کی خودکار مشین کی سہولت میسر نہ ہونے پر شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر ڈالا۔ شوہر بیچارے کی آمدنی قلیل تھی اور وہ بیوی کی یہ خواہش پوری کرنے سے قاصر تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عورت اپنے دو معصوم بچوں کا خیال کیے بغیر، ان کو ان کے باپ کے پاس ہی چھوڑ کر، علیحدہ ہو کر اپنے میکے جا بسی۔

تاریخ اور قانون پر اگر نظر ڈالی جائے تو عورت صرف یہ کہہ کے بھی طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے کے اُسے اپنے شوہر کی شکل و صورت پسند نہیں۔ مگر کیا یہ اختیار استعمال کرنا صحیح ہے؟

طلاق کو حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شادی نام ہی سمجھوتے کا ہے۔ یہ وہ سمجھوتا ہے جو کسی نہ کسی موڑ پہ مرد یا عورت کو انا کے جُز کو پرے رکھ کر کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر یہ سمجھوتا نہ کیا جائے تو نتائج، بیان کیے گئے واقعے کے مطابق، کچھ ایسے ہی سنگین نکلتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بہت تیزی سے بڑھتی نظر آرہی ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سب سے بڑی وجہ زبردستی کی شادی ہے۔ جب مرد یا عورت کو مجبور کر کے کسی بندھن میں باندھ دیا جائے گا، تو وہ موقع ملتے ہی راہ فرار کے بارے میں ہی سوچیں گے۔ سسرال والوں کا بُرا رویہ بھی میاں بیوی کے درمیان طلاق کی بڑی وجہ ہے۔ کیونکہ لڑکی کو اپنے سسرال میں خود کو عادی بنانے کے لیے دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر سسرال والے منفی رویے کا اظہار کریں گے تو لڑکی طلاق کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔

شوہر یا بیوی کا خود کو دوسرے سے افضل ثابت کرنے کی جُستجو میں پیدا ہونے والے اختلافات بھی ایک وجہ ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک دوسرے پر بھروسا اور یقین نہ ہونا طلاق کا سبب بنتا ہے۔

ایک اور بڑی وجہ لالچ اور جہیز خوری بھی ہے۔ حال ہی میں ایسے بہت سے واقعات سننے کو ملے جس میں لڑکی والوں سے شادی کے بعد بھی مطالبات کرنا شادی ٹوٹنے کی وجہ بنے۔ لڑکے کے گھر والوں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ اپنے کماؤ بیٹے سے لڑکی کی شادی کر کے، لڑکی کے گھر والوں پر احسانِ عظیم کر رہے ہیں۔ اور اس کے بدلے میں وہ بڑی سے بڑی قیمت بھی وصول کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

اس کے علاوہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں انٹرنیٹ پر موجود غیر اخلاقی مواد دیکھ کر بہت سی اُمیدیں لگا بیٹھتے ہیں جو کہ درحقیقت صرف فلمی دنیا تک محدود ہوتی ہیں۔ جب شادی کے بعد یہ خواہشات پوری نہیں ہو پاتیں تو وہ چڑچڑے ہوکر آپس میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں جو کہ طلاق کا سبب بنتا ہے۔ اِن والدین کے بچوں پر اِن کی علیحدگی کے سنگین اثرات پڑتے ہیں جس سے نہ صرف اُن کی تربیت متاثر ہوتی ہے بلکہ اُن کا پورا مستقبل داؤ پہ لگ جاتا ہے۔ والدین کی بٹی ہوئی توجہ پاکر یہ بچے غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔

والدین اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اُنھیں چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کو شوہر اور اُس کے گھر والوں کا احترام کرنے کا درس دیں تاکہ وہ اپنے سسرال کو سسرال نہیں بلکہ اپنا گھر سمجھیں۔ اور اپنے بیٹوں کو بیوی کی عزت کرنے کا اور اُسکی تمام تر جائز ضروریات پوری کرنے کا سبق سکھایں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنی بہو کو بیٹیوں کی طرح رکھیں نہ کہ یہ سمجھ لیں کہ اُنکا بیٹا ایک مفت کی نوکرانی بیاہ کر لے آیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا نکاح اتنی معمولی چیز بن چکا ہے جو دل چاہا تو کرلیا اور دل چاہا تو چھوٹی سی بات پہ ختم کردیا؟

اور کیا کسی انسان کی انا اتنی بڑی ہوسکتی ہے کہ جس کو وہ نکاح جیسے مقدس رشتے پر فوقیت دے؟

میری شکایت ہرگز اُن سے نہیں جن کو کسی مجبوری اور مسائل کے تحت علیحدگی اختیار کرنی پڑی بلکہ شکایت تو اُن کم عقل اور کم ظرف لوگوں سے ہے جو ذاتی مفاد کے لیے اس بُرائی عام کر رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آمنہ مبشر کی دیگر تحریریں
آمنہ مبشر کی دیگر تحریریں