خودکشی اور ہمارے معاشرے کا المیہ


خودکشی، جب انسان خود کو مار لیتا ہے، ختم کر لیتا ہے۔ ہمارے لیے یہ بات اب بالکل بھی نئی نہیں رہی کیوں کی اب تو ہر دن ہی ایسی خبریں آ رہی ہوتی ہیں۔ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ خودکشی کرنے والے کو سب سے آسان کام اور تمام مشکلات کا حل خود کو ختم کرنا ہی کیوں لگتا ہے، کیوں وہ تھک جاتے ہیں جینے سے؟ ڈر، خوف اور ناکامی کی، دوسروں کے لیے کچھ نہ کر سکنے کی شرمندگی، اور معاشرہ یہ سب مل کر ایک انسان کو آہستہ آہستہ مارتے ہیں اور پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب وہ مکمل طور پر مر جاتا ہے۔

آپ کے قریبی لوگوں میں سے اگر کوئی آپ کو بتاتا ہے کہ وہ خود کو مارنا چاہتا ہے، اور آپ اس کی بات کو محض مذاق سمجھ کر ٹال دیتے ہیں۔ مگر اسے توجہ طلب ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے اس نے روشنی کی تلاش میں بہت وقت اندھیرے میں گزارا ہو، اور اسے آپ کا وجود اس بلب کی طرح لگ رہا ہو جو اس کو اندھیرے سے نکال دے گا۔ مگر یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کو اندھیرے میں ہی چھوڑ دیتے ہیں یا آپ اسے روشنی فراہم کرتے ہیں۔ خودکشی کا سب سے عام سبب سماجی تنہائی (social isolation) ہے، جب آپ کسی کو ایسے محسوس کروایں جیسے کہ ان کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، انہیں نظرانداز کریں، ان سے بات نہ، جب وہ آپ کو کچھ بتانا چاہتے ہوں۔

اور جب وہ خود کو ختم کر لیں تو آپ بعد میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کو افسوس ہے ان کے اس دنیا سے چلے جانے کا کیوں کہ اس کے ایسا کرنے میں آپ نے بھی اپنا کردار نبھایا ہے۔ خودکشی کرنے والے کا بھی کوئی نہ کوئی قاتل ضرور ہوتا ہے، چاہے وہ کوئی انسان ہو یا کوئی مجبوری۔ وہ تو درحقیقت بہت پہلے مر چکا ہوتا ہے آخر میں تو بس وہ اپنی روح کو جسم سے آزاد کرتا ہے۔ خودکشی بظاہر تو ایک انسان کے خود کو ختم کرنے کا نام ہے، مگر اس کے ساتھ کتنے جذبات، کتنی کہانیاں دم توڑتی ہیں، کون جانے؟

فرائیڈ (Frued) کے مطابق خودکشی وہ قتل ہے جو انسان خود کو مار کے کر لیتا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ کسی اور کو مارنا چاہتا تھا مگر اس نے خود کو مار کے نجات حاصل کر لی، یہی وجہ ہے کہ خودکشی دسویں بڑی وجہ ہے موت کی اور قتل سولہویں۔ خودکشی تو اصل میں وہ قتل ہے جس میں انسان کے دل، اس کے احساسات و جذبات کو مار دیا جاتا ہے، مگر روح کو جسم میں ہی قید رکھا جاتا ہے اور بالآخر انسان تمام چیزوں سے ہار کر اپنی روح کو جسم سے آزاد کر کے اس کا الزام خود پر لے لیتا ہے۔ کبھی سوچا ہے ہم نے کہ روز کتنے لوگ خود کو مار لیتے ہیں؟ ان کے ساتھ کتنے جذبات، کتنی کہانیاں، کتنی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں؟ کب ان کی زندگی ان کو اس نہج پر پہنچا دیتی ہے، جب ان کو فرار خود کو ختم کرنے کرنے میں ہی نظر آتا ہے؟ کبھی سوچا ہے کہ ہم روز کس کو کتنا مارتے ہیں؟ ذرا سوچیے!

Facebook Comments HS