ایک اور زینب


معافی چاہتا ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن مین اس کرب ہر اس ضمیر تک پہنچاوں جو ابھی تک سو رہا ہے، ہر اس انسان تک پہنچاوں جو اب تک اپنے کھیل تماشے میں مصروف ہے،ہر اس دیوار تک پہنچاوں جس کے دروازے ابھی تک انصاف دینے کے لئے بند ہیں۔

قتل تو پوری انسانیت کا قتل ہیں مگر کیا کوئی اتنا گرا ہوا انسان جس کا مذہب بھی اسلام ہو جو اسلامی معاشرے میں رہتا ہو پھر بھی وہ ایسی حرکت کیسے کرسکتا ہے؟

مجھے فرشتہ بی بی کی خبر ملی اور پتا چلا کہ وہ پولی کلینک ہاسپٹل میں پوسٹ مارٹم کے لئے لائی گئی ہے تو میں بھی سیدھا ہاسپٹل پہنچ گیا۔ معلوم کیا تو ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ آدھا گھنٹا لگے گا تو ہوسٹ مارٹم تکمیل پاے گا۔ اسی اثنا میں مقتولہ کا بھای ملا تو اس نے بتایا کہ ہم اپنی لاش کو صبح لیں جائیں گے پہلے ایک گھنٹے دو کے لئے رکھیں گے احتجاجی مظاہرہ ہوگا اور پھر نماز جنازہ ہوگی۔

میں نے ہاں میں ہاں ملائی عین اسی وقت مہمند و باجوڑ کے ایم این ایز کے ہمراہ ان کے گھر پہنچے۔ دیکھا تو محلے کے کچھ لوگ بھی موجود تھے اور غم سے نڈھال فیملی بھی تھی۔ دعاے مغفرت کرنے کے بعد پوچھنے لگے تو والد محترم فرشتہ بی بی نے دکھ درد بھری کہانی شروع کی۔ جب 15 مئی کا دن تھا شام کے قریب وقت تھا طوفان اور بارش آنے لگی تھی کہ فرشتہ بھی اسی طوفان اور آندھی کا شکار ہوگئی۔ کئی دن گزرنے کے بعد بھی کوی سراغ نہیں ملا بالاخر اس کی مسخ شدہ لاش اسلام آباد میں واقع ایک جنگل سے ملی۔

حالات کی ستم ظریفی تو یہ ہے کہ چار دن تک مسلسل فرشتہ کا والد صاحب تھانے کے چکر کاٹتا رہا مگر کوئی آواز سننے والا نہیں تھا نہ کوئی ایف آی آر کاٹنے کو تیار تھا۔ اور ایف آی آر نہ کاٹنے کی وجہ یہ بتا رہے تھے کہ لڑکی بھاگ گئی ہے۔ نیندیں اڑ جاتی ہیں پاوں کے نیچے تلے زمیں نکل جاتی ہے جب بے حسی کا یہ عالم ہوتا ہے۔ میرے خیال میں تو سب سے قصور وار یہی پولیس والے ہیں کیونکہ جب کوئی اتنے بڑے سانحے کو بھی نظر انداز کرے ایف آی آر تک نہ کاٹے تو سمجھ لینا کہ یہ بھی ظلم میں برابر کا شریک ہے۔ بالاخر جب لاش مل گئی تو پھر ایف آر کاٹی گئی مگر وہ بھی پختون مشران اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے زور پہ۔

فرشتہ کی والد سے گفتگو جاری تھی تو وہ کہنے لگے کہ بے شک موت بھی ہر انسان کو آنے والی ہیں اورآتی رہتی ہے۔ اور عرصہ دراز سے سنتے آرہیں ہیں کہ کہ فلاں قتل ہوا فلاں کو مار دیا اور کبھی یہ بھی سننا پڑھتا ہے کہ فلاں بندے کو ذبح کردیا۔ کہنے لگے کہ یہ میرے لئے کوئی نئی بات نہ ہوتی اور بے شک وہ ان مذکورہ طریقوں سے مر جاتی تو مجھے اتنا دکھ نہ ہوتا۔ مگر میری بیٹی کے ساتھ جو ظلم اور حیوانیت کی انتہا ہوئی ہیں تو مجھے صرف اس کی لاش کی بے حرمتی پہ اور اس کے ساتھ پیش آنے والے حالات رلاتے ہیں۔ اتنی ظلم و ستم کے بعد 5 دن تک پڑی لاش بارشوں دھوپ اور جانوروں سے کھیلنے کے بعد کیا دیکھنے کے قابل ہوتی ہوگی؟

تو جی نہیں۔ والد صاحب کہہ رہے تھے کہ فرشتہ تلاوت بڑے شوق سے کرتی تھی اس لئے میں نے نیا قرآن پاک اس کے لئے لے آیا اور سکول میں بھی پہلی جماعت میں پاس ہوگئی تھی تو کہتی تھی کہ ابا مجھے دو تین کلاس آگے کردو میں بڑی لگتی ہوں اپنے کلاس فیلوز میں سے۔ اس کے والد صاحب نے فرشتہ کی یہی خواہش بھی پوری کردی اس کے لئے کتابیں لے آیا مگر کتابیں پڑھنے والی نہ رہی۔ کمرہ میں پڑا سویا ہوا ایک معصوم بچہ پایا تو محمد نبی صاحب والد محترم کہنے لگے کہ یہ بھی میرا بچہ ہے۔ فرشتہ بی بی کے طویل انتظار نے مسلسل پانچ دنوں سے پورے خاندان کو بے چینی کشمکش اور بے بے بسی کے عالم میں ڈال رکھا تھا تو دوسری طرف اپنے پیارے بھای کو بھی اسی قیامت میں مبتلا رکھ دیا تھا۔

بالاخر فرشتہ بی بی کی موت بھای کے لئے ایک سکون لائی یہ وہ سکون ہے جو اپنے پیاروں کو الگ ہوتے ہوے آتا ہے جب اسے یقین کامل ہوتا ہے کہ اب کبھی اس دنیا میں ملاقات ممکن نہیں۔ فرشتہ کا بھائی رات کے آخری حصے میں بے بسی کی حالت نیند میں پڑا تھا۔

Facebook Comments HS