EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بابا اللہ رکھا اور نظریات کا فیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نظریہ کیا ہے ۔جس طرح سوشل سا ئنسز میں کسی اور لفظ کی کوئی آخری تعریف نہیں اس طرح یہ لفظ بھی بہت سی تعریفوں میں گھرا ہوا ہے \"Amjad۔ مختلف حقائق کو جوڑنا اور ان کا تعلق کو دیکھ کر ان کا تجزیہ کرنا ، یا ایک عقیدہ، پالیسی ،اصول یا ان کی بنیاد پر کوئی راستہ متعین کرنا نظریہ کہلاتا ہے۔

 بابا اللہ رکھا کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں جس نظریے نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی اس کو دو قومی نظریہ کہتے ہیں ۔ یہ نظریہ ہماری نصابی کتابوں سے لے کر ہمارے ذہنوں کو متاثر کرتا ہوا دلوں میں بھی اتر گیا۔ یہ نظریہ کب ایجاد ہوا یہ کسی کو معلوم نہیں۔ بابا اللہ رکھا کے نزدیک اس نظریے میں لطف کم جب کہ زبردستی کا عنصر ذیادہ تھا اس لئے وہ اس سے متاثر نہ ہو سکا ۔

 بابا اللہ رکھاجو1947 سے لے کر آج تک مختلف شعبوں اور شہروں سے وابستہ رہا اس کے مطابق مختلف دہائیوں میں وقت اور حالات کی مطابق دیگر نظریات بھی جنم لیتے رہے اور پنپتے رہے ۔ ان نظریات میں سیکولرازم ، کیپٹل ازم اور سوشلزم نے پاکستان میں خاص مقام حاصل کیا۔ اور جو ان سب نظریات سے نابلد رہے ان کو وقت کے علماٗ نے مذہب کے نظریے کی آگ پر پکایا اور خوب پکایا۔

   بابا اللہ رکھا کہتا ہے کہ پچاس سے ستر کی دہائی میں جہاں ایک طرف دو قومی نظریہ ، سرمایہ داراننہ نظام کے پردے میں چھپ رہا تھا وہیں ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں سوشلزم کو ایک نیا چہرہ مل رہا تھا۔ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کی طاقت، دوسری طرف مولانا مودودی کی مذہبی نظریات کی سیاست اور تیسری جانب بھٹو کی شکل میں سوشلزم اپنی راہیں متعین کر رہے تھے ۔ اس وقت مجھے بھٹو نے تھوڑا متاثر تو کیا لیکن بہت جلد میرا نظریاتی بخا ر اتر گیا ۔کیونکہ سارے نظریات کی منزل صرف اور صرف طاقت حاصل کر کے دوسرے کو کچلنا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب نوجوان نسل خود کو کامریڈ اور سرخا کہلانے پر فخر محسوس کرتے تھے بابے نے بتایا کہ ستر کے دور میں جب سٹوڈنٹس یونینز عروج پر تھیں ۔ خود کو سوشلسٹ کہلوانا ایک فیشن بن گیا تھا۔

نظریے کی تلاش میں بابے اللہ رکھا کی جستجو جاری رہی ۔ بھٹو کی سوشلزم اور انقلابی تقریروں کے بعد اسی کی دہائی میں جنرل ضیاٗ نے اس ملک کو ایک اور نظریہ عطا کیا ۔ وہ نظریہ تھا جہادی نظریہ۔ یہ نظریہ امریکہ کی مدد کے ساتھ روس کو شکست دینے کے لئے تیار کیا گیا ۔ برطانیہ نے بھی اس نظرئے کی آبیاری کرنے اور پروان چڑھانے میں دامے سخنے بھرپور تعاون کیا۔ جب کہ ہمارے برادر ملک سعودی عرب نے مدرسے قائم کر کے اور ان کو مالی مدد فراہم کر کے جہادی نظریے کوایسی بنیاد فراہم کی جس کی دھمک آج بھی مسجدوں ، بازاوں ،سکولوں اور یونیورسٹیز میں سنائی دیتی ہے۔ بابا کہتا ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب میں دن رات فیض احمد فیض کے دو کلام بہت شوق سے سنا کرتا تھا ۔

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے اور آج بازار میں پابجولاں چلو

بابا اللہ رکھا جس کی زندگی نظریات کی گرد میں اٹی ہوئی تھی ۔ پھر بھی مایوس نہ ہوا ۔ اس کے بعد نوے کی دہائی میں جمہوری نظریے نے سرمایہ دارانہ نظام کی شکل میں پاکستان کی سادہ لوح عوام کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔عوام ایک مرتبہ پھر روٹی ، کپڑا اور مکان کےنعروں پر دما دم مست قلندر کرنے لگے ۔ لیکن ابھی وہ سانس بھی نہ لینے پائے تھے کہ جنرل پرویز مشرف نے آئین اور قانون پر جھاڑو پھیرتے ہوئے سب سے پہلے پاکستان کا نظریہ دیا ۔ اس نظریے نے بھی کافی مقبولیت حا صل کی ۔ کیونکہ اس نظریے کو ٹیکنالوجی کا سہارا مل گیا ۔ انٹر نیٹ ، ٹی وی چینلز اور ریڈیو میں انقلابی آزادیوں سے اس نظریے کو فروغ دینے میں خاطر خواہ کردار ادا کیا ۔اس نظرئے کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ جدت پسندی کا تڑکا بھی لگا ۔ لوگوں کی سوچ لبرل ازم کو سمجھے بغیر لبرل ہونے لگی ۔ اس دور میں ایک طرف تو قدامت پسندی نے انتہا پسندی کی حدوں کو چھوا ۔ جب کہ دوسری طرف لبرل ازم بھی انتہاوٗں کی طرف پھسلنے لگی۔ توازن کھونے لگا ۔ سب سے پہلے پاکستان کا نظریہ لال مسجد اورعدلیہ کی آزادی کی قبر میں اپنی موت آپ مر گیا۔

بابا اللہ رکھا کہتا ہے کہ اب تو ملک میں مختلف ورائٹی کے نظرئے مطالبے پر دستیاب ہیں ۔ ان میں لبرل ازم ، دیسی لبرل ازم، طالبانائزیشن کے ساتھ ساتھ بھانت بھانت اور انواع و اقسام کے لسانی ، علاقائی ، مذہبی ،جغرافیائی ، معاشی اور قومی نظریات موجود ہیں ۔

زندگی کی اس سٹیج پر آکر بابا اللہ رکھا نظریات کی اس پل صراط پر کھڑا ہے ۔ کہ اگر دائیں دیکھتا ہے تو بائیں گرتا ہے اور بائیں دیکھتا ہے تو دائیں گرتا ہے ۔ اور سامنے اسے سوائے گرد اب کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن وہ کہتا ہے ۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔

مجھے لگتا ہے کہ میرے سمیت آج کی نوجوان نسل بھی بابا اللہ رکھے کی طرح بھٹک رہی ہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے